کینسر کو پہچانیے
کینسر کی شروعات اس وقت ہوتی ہے جب ہمارے جسم کا ایک خلیہ حبیب جالب مرحوم کے اشعارایسے دستور کو۔ صبح بے نور کو۔ میں نہیں جانتا۔ میں نہیں مانتاگنگناتے ہوئے، بے ہنگم اور بے قابو انداز میں اپنی افزائش شروع کردیتا ہے۔
Latest articles about Science and Technology at TaleemKahani.com
کینسر کی شروعات اس وقت ہوتی ہے جب ہمارے جسم کا ایک خلیہ حبیب جالب مرحوم کے اشعارایسے دستور کو۔ صبح بے نور کو۔ میں نہیں جانتا۔ میں نہیں مانتاگنگناتے ہوئے، بے ہنگم اور بے قابو انداز میں اپنی افزائش شروع کردیتا ہے۔
مغرب کی اذان ہوئے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے جب ہم دونوں کی نظر مغرب کی طرف افق پر ایک بڑے سے شہابیے پر پڑی۔ ہم دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا اور والد صاحب نے مجھ سے پوچھا یہ کیا تھا؟ میں سکول میں پڑھتاتھا اور شاید اس سے پہلے میں نے کبھی ٹوٹتا تارا نہیں دیکھا تھا۔