کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے کہ جو نہایت خاموشی سے وار کرتا ہے اور بدقسمتی سے اس کا وار اکثر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔  پاکستان میں بہت سارے کینسر کی اقسام ہیں جو لوگوں کو  اپنا شکار بناتی رہتی ہیں۔ ان میں چھاتی  اور پھیپھڑوں کے کینسر سرفہرست ہیں۔  ایک پچھلے مضمون میں ہم نے کینسر ہونے کے بنیادی عمل کو تفصیل سے جاننا تھا کہ کوئی بھی کینسر  دراصل ہمارے خلیوں کی  ایک ننھی منی سی بغاوت ہوتی ہے جو کہ بڑھتے بڑھتے اپنے شکار کی جان تک لے لیتی ہے۔  کچھ کینسر ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ ازخود نہیں ہوتے ہیں  انھیں کروانے میں کچھ وائرسوں  کا بڑا گہرا کردار ہوتا ہے ۔ جی ہاں کووڈ جیسے وائرس۔ ان مخصوص وائرسوں کو سائنسدانوں نے آنکو جینک وائرس یا کینسر پیدا کرنے والے وائرس  کا نام دیا ہے۔

انہی وائرسوں میں سے ایک ہیومن پیپی لوما وائرس (ایچ پی وی) بھی ہے جو کہ پاکستان میں خواتین میں چھاتی کے کینسر کے بعد سب سے زیادہ عام کینسر سروائیکل کینسر کرواتا ہے یہ وہ  ہے جس کا زیادہ تر لوگوں نے نام بھی نہیں سنا ہوتا۔ ہر کینسر کی طرح یہ بھی بغیر کسی آہٹ کے آتا ہے اور جب تک یہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے، تب تک اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ہر سال، پاکستان میں تقریباً پانچ ھزار خواتین اس تباہ کن بیماری کا شکار ہوتی ہیں، اور ایک تشویشناک تعداد میں بتیس سو سے زیادہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں—یعنی اس وائرس کی شکار ہر پانچ میں سے تین  اپنی جان کی بازی اس وائرس کے ہاتھوں ہونے والے کینسر کے باعث ہار جاتی ہیں۔

corona

اس سے پہلے کہ ہم اس وقت سوشل میڈیا پہ برپا طوفان پہ بات کریں  پہلے بات کرتے ہیں اس وائرس کی۔ ہیومن پیپیلوما وائرس کو ایک شرارتی چھوٹے جن کی طرح سمجھیں جو مشکلات پیدا کرنا پسند کرتا ہے۔ اس وائرس کی 100 سے زیادہ اقسام ہیں، لیکن دو خاص قسمیں،ایچ پی وی 16 اور ایچ پی وی 18، سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں، جو سروائیکل کینسر کے تقریباً 70% کیسز کی وجہ بنتی ہیں۔ یہ وائرس ہماری جِلد کی اوپری سطح کو انفیکٹ کرتا ہے اور یہیں اپنا ٹھکانہ بناتا ہے۔  اس وائرس کا پھیلاؤ چھوت اور جلد  کے آپس میں رابطے سے ہوتا ہے جس میں جنسی تعلق بھی شامل ہے۔  اس وائرس کا طریقہ واردات تقریباً تمام وائرسوں کی طرح خاموشی سے ہمارے خلیات میں چھپ کر بیٹھ جانا ہوتا ہے۔ یہ وائرس ہماری جِلد کے خلیات میں تاک لگا کر بیٹھ جاتا ہے اور اس وقت تک بیٹھا رہتا ہے کہ جب تک اسے مناسب موقع نا مل جائے۔ جونہی وائرس کو لگتا ہے کہ اب صحیح وقت ہے تو یہ ہمارے خلیات کے نظام حکومت کو ہیک کر کے انھیں بغاوت پہ آمادہ کردیتا ہے۔ ابتدا میں اس  بغاوت کا کسی کو بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ یہ بغاوت ایک خاموش قاتل کینسر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔  جب اس کینسر کی علامات جیسے غیر معمولی خون بہنے، پیلوِک درد یا ڈسچارج میں تبدیلی جیسی ظاہر ہوتی ہیں، بیماری عموماً حد سے بڑھ چکی ہوتی ہے۔  اس کے علاوہ بھی ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین کئی سالوں تک کسی بھی علامت کے بغیرایچ پی وی انفیکشن کا شکار رہ سکتی ہیں۔ وائرس خاموشی سے بیٹھا رہتا ہے، آہستہ آہستہ سروِکس کے خلیوں کو تبدیل کرتا ہے جب تک کہ وہ کینسر نہ بن جائیں ۔

اکلوتا کینسر جس سے بچاؤ ممکن ہے 1

ابھی تک نا تو اس وائرس کے انفیکشن کے علاج کے لئے ہمارے پاس کوئی دوا دستیاب ہے اور نا ہی ہر کینسر کا مکمل علاج۔ ایسی صورت میں اس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کا مقابلہ ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔ جی ہاں میں کہا بچاؤ۔۔۔۔ یہ دنیا کا واحد کینسر ہے کہ جس سے بچاؤ ممکن ہے۔ آپ کسی بھی کینسر کو لے لیں کوئی بھی ڈاکٹر یا سائنسداں حتمی طور کبھی کینسر سے بچاؤ کی بات نہیں کرے گا خواہ آپ کتنا ہی کیوں نا صحت مند طرز زندگی اختیار کرلیں۔ مجھے یاد ہے کئی برس قبل بی بی سی کی ایک رپورٹ میں محقیقین کے حوالے سے ایک جملہ پڑھا تھا جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ کینسر کسی بھی شخص کی میڈیکل بدقسمتی ہے کہ اس میں ماحول، طرز زندگی، خوراک، جنیات الغرض  اتنے زیادہ محرکات شامل ہوتے ہیں کہ کوئی بات بھی حتمی نہیں ہوتی ہے، اور اس کا آپ سبھی نے خود مشاہدہ کیا بھی ہوگا کہ کتنے ہی لوگ جو چین سموکر ہوتے ہیں انھیں کینسر نہیں ہوتا لیکن کبھی کبھار کسی ایسے بندے کو کینسر ہوجاتا ہے کہ جس نے اپنی زندگی میں سیگریٹ کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہوتا ہے۔ خیر ایسی صورتحال میں کہ جہاں کینسر کے حوالے سے کوئی ایک بات بھی تیقن کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی وہاں ایک اکلوتا سروئکل کینسرہی  ہے جس کا ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ ایچ پی وی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اگر اس وائرس کے انفیکشن کو ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے تو پھر یہ کینسر کبھی نہیں ہوگا۔

اکلوتا کینسر جس سے بچاؤ ممکن ہے 2

یہاں تک تو ہم نے بات کرلی وائرس اور کینسر کی اب چلتے ہیں اس کی ویکسین کی جانب۔ یہ ویکسین  نا تو کوئی نئی ویکسین ہے اور نا ہی تجرباتی طور پہ پاکستانیوں پہ آزمائی جا رہی ہے۔ ہماری ویب سایٹ پہ کوئی چار پانچ سال پہلے کووڈ کے دوران ویکسینز کے حوالے سے شائع شدہ ایک مضمون میں بھی اس ایچ پی وی کی ویکسین کا حوالہ موجود ہے جو آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔  یہ ویکسین جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کردہ ہے جس میں زندہ یا مردہ کسی بھی صورت میں وائرس موجود نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کی سطح کے کچھ مخصوص پروٹین ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی شخص کو بیمار نہیں کر سکتے اور نا ہی کسی اور قسم کا نقصان پہنچانے کے قابل ہوتے ہیں۔ ان پروٹین کا ایک ہی کام ہوتا ہے کہ وہ ہمارے مدافعتی نظام کو مستقبل میں ہونے والے ایچ پی وی انفیکشن کی صورت میں پہلے سے ہی اس کی شناخت پریڈ کروا دیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اگر صحیح وقت پر لگائی جائے تو یہ ویکسین سروائیکل کینسر کے خطرے کو نوے فیصد تک کم کر سکتی ہے ۔ جی ہاں، نوے فیصد۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور دنیا بھر کے دیگر صحت کے اداروں نے اس ویکسین کو اس بیماری کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار قرار دیا ہے ۔

 اس شناخت پریڈ کا فائدہ کیا ہوتا ہے کہ  اس کو جاننے کے لئے آپ مدافعتی نظام اور ویکسینز کی اقسام اور طرز عمل کے بارے میں ہمارے پرانے مضامین  پڑھ سکتے ہیں۔

ایچ پی وی ویکسین ۔ یہ صرف ایک ٹیکہ نہیں ہے؛ یہ ایک ڈھال ہے۔ یہ آپ کے مدافعتی نظام کوایچ پی وی وائرس کو، اس سے پہلے کہ اسے نقصان پہنچانے کا موقع ملے، پہچاننے اور تباہ کرنے کے لیے تیار کرتی ہے ۔ ایک طویل عرصے سے، یہ ویکسین پاکستان میں صرف پرائیویٹ سیکٹر میں دستیاب تھی، جس کی قیمت چار سے سات ہزار روپے فی خوراک تھی—ایک ایسی قیمت جو اکثریت  کے لیے ناقابلِ رسائی تھی ۔

اکلوتا کینسر جس سے بچاؤ ممکن ہے 3

لیکن اب حکومتِ پاکستان، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف  اور گیوی جیسی تنظیموں کے ساتھ ایک اہم شراکت داری میں، ایک قومی ایچ پی وی ویکسی نیشن مہم شروع کر رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد، جو ستمبر 2025 میں شروع ہوئی، تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ  بچیوں کواس ویکسین کی ایک خوراک لگانا ہے ۔ یہ مہم ملک بھر میں مرحلہ وار چلائی جائے گی، جس میں 2025 میں پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر شامل ہوں گے، اس کے بعد 2026 میں خیبر پختونخوا اور 2027 میں بلوچستان اور گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔ اس مہم کا ہدف 9 سے 14 سال کی بچیاں ہیں۔ یہ عمر کیوں؟ کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب وہ ابھی تک وائرس سے متاثر نہیں ہوتیں، جس سے ویکسین کو ایک مضبوط، موثر مدافعتی ردعمل بنانے کا موقع ملتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں اس ویکسی نیشن مہم کے خلاف اٹھنے والے سوشل میڈیائی طوفان کی جس میں ویکسین دشمنی  اور صحت دشمنی کی حدیں  پار ہونے میں کوئی کسر نہیں بچی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ویکسینز کے خلاف ایسی مخالفانہ مہم چلنا کوئی نئی یا انہونی بات  نہیں ہے۔ ہم نے یہ سب اپنی زندگیوں میں اتنی بار دیکھا ہے کہ کچھ نیا محسوس نہیں ہوتا۔ یہ مخاصمانہ مہمات پولیو ویکسینز کے خلاف چلیں اور چلتی رہتی ہیں۔ جب سرکار نے  ٹائیفایڈ کے لئے ویکسین کی مہم چلائی تب بھی یہی مخالفت تھی۔ جب پوری دنیا میں کووڈ آیا تب بھی کووڈ کی ویکسین کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا گیا  تھا۔

ہر بار جب بھی کوئی بھی  ویکسین مخالف مہم چلتی ہے اس میں ہمیشہ ایک جیسے اعتراضات کیے جاتے ہیں ۔ مثلا:

یہ ویکسین ہمیں بانجھ بنانے اور ہماری آبادی کو کم اور کنٹرول کرنے کے لئے ہے

ویکسین کے بہت زیادہ تباہ کن سائڈ ایفیکٹس ہیں جس سے لوگوں کی اموات ہوتی ہیں

ویکسین سے بچوں کی ذہنی نشونما متاثر ہوتی ہے

صرف یہ ہی ویکسین کیوں اور بھی تو بہت ساری بیماریاں ہیں ان پہ توجہ کیوں نہیں ہے

یہ یہود و نصاریٰ کو ہم سے اتنی ہمدردی یا محبت کیوں ہے کہ وہ ہمیں اتنی مہنگی  ویکسین مفت دے رہے ہیں

اور آج کل ایک خاص اعتراض یہ بھی ہے کہ

غزہ میں تو مسلمانوں پہ بمباری کر رہے ہیں لیکن  ہمیں اتنی مہنگی ویکسین  مفت دے رہے ہیں

 

چلیں ان اعتراضات کو ایک ایک کرکے منطق کی کسوٹی پہ پرکھتے ہیں۔

 پہلا اعتراض  ہمیشہ ہی آبادی کنٹرول کرنے والا ہوتا ہے۔  یہ اعتراض شروع ہوا پولیو کی ویکسین سے۔ جس وقت پاکستان میں پولیو کی ویکسین  کی ابتدا ہوئی تب پاکستان کی آبادی غالباً کوئی بارہ تیرا کروڑ کے لگ بھگ تھی اور آج ہم چھبیس کروڑ سے زیادہ ہیں یعنی جب سے پولیو ویکسین لگنی شروع ہوئی ہے تب سے ہماری آبادی ڈبل ہو چکی ہے۔  اگر اس ویکسین کا مقصد ہماری آبادی کنڑول کرنا تھا تو یہ تو نہایت نکمی ثابت ہوئی ہے اس معاملے میں۔ لیکن اس کے برعکس اگر آپ دیکھیں تو پہلے جتنے بچے آپ کو پولیو کا شکار ہوکر چلنے پھرنے سے  معذور نظر آیا کرتے تھے  کیا اب بھی نظر آتے ہیں؟  ایک منٹ کو زرا سوچئے آخری بار کب آپ نے کسی بچے کو پولیو کا شکار ہوکر چلنے سے معذوردیکھا تھا؟

اب آتے ہیں اگلے اعتراض کی جانب کہ ویکسین کے جان لیوا سائڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں۔ ایسا  کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر آپ کا ان ویکسین مہمات کے انتظام یا ان کو چلانے کے سلسلے میں زرا سا بھی واسطہ رہا ہو یا  آپ کے کسی بھی جاننے والے کا رہا ہو تو آپ اس سے پوچھ سکتے ہیں کہ ایسے سیرئیس سائد ایفیٹکس کی بروقت آگاہی اور سدباب کے لئے پورا انتظام ہوتا ہے۔ لوگوں کی دیوٹیاں لگائی جاتی ہیں کہ وہ فوری طور پہ ایسی کسی بھی  ایمرجنسی میں فوری طبی امداد اور رہنمائی فراہم کریں۔  یہ تو ہوگئی انتظامی نوعیت کی بات اب آتے ہیں  اصل سوال کی جانب کہ کیا واقعی ایسے سیرئیس  اور جان لیوا سائڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں  ویکسین کے استعمال کے۔ تو اس کا جواب ہے ہرگز نہیں۔ صحت اور ادویات سازی کا شعبہ دنیا بھر میں چند شعبوں میں سے ایک ہے جن پہ بہت زیادہ قوائد و ضوابط لاگو ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ لوگوں کی صحت اور سلامتی ہے۔ کسی بھی فیکٹری میں بننے والی کسی بھی دوا کا ریکارڈ دو دو تین تین جگہ لازمی رکھا جاتا ہے۔ دوا یا ویکسین کے ہر بیچ کا نمونہ محفوط رکھا جاتا ہے تاکہ اگر خدانخواستہ کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو تو ذمہ داروں کا تعین  ٹھیک طریقے سے کیا جاسکے۔ ہر ملک کا محکمہ یا وزارت صحت، ڈاکٹرز اور محققین مسلسل ایسے سائڈ ایفیکٹس کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور اگر کوئی ایسی خبر ملتی ہے تو دنیا بھر کے سائنسی جرائد اس کو فوری طور پہ شائع کرتے ہیں۔  لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ آج کے دور میں چھپ چھپا کر سیکڑوں اور ہزاروں تو بہت بڑی بات ہے دس بیس اموات بھی ہوجائیں اور کسی کو کانو کان خبر نا ہو۔ پس یہ جان لیوا والا اعتراض بھی بے سروپا اور نہایت لغو بات ہی ہے۔

اب جب کہ بات سائڈ ایفیکٹس کی ہو ہی رہی ہے تو معمولی سائڈ ایفیکٹس کی بات بھی کرلیتے ہیں ۔ عموماً یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ویکسین لگانے کے بعد طبعیت معمولی سی خراب ہو جاتی ہے جیسے اگر انجکشن لگا ہو تو انجکشن کی جگہ سوجن ہو جاتی ہے، یا پھر بخار ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب درحقیقت ویکسین کے ٹھیک ہونے اور اپنا کام شروع کرنے کی نشانیاں ہیں لٰہذا ان سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے  کیونکہ یہ ایک آدھ دن میں خود ہی ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ ہاں اگر ان علامات کے ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لگ رہا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔

اکلوتا کینسر جس سے بچاؤ ممکن ہے 4

آتے ہیں اگلے اعتراض پہ یعنی بچوں کی ذہنی نشونما  پہ ویکسین کے اثرات یہ بھی نہایت لغو بات ہے۔یہ اعتراض پاکستان میں پہلے نہیں ہوتا تھا لیکن امریکہ اور یورپ کی دیکھا دیکھی اب کچھ لوگ بھی یہ بات کرنے لگے ہیں۔  پاکستان بھر میں  بچوں کو پیدائش کے بعد سے حفاظتی ٹیکے لگتے ہیں  اور کافی عرصے سے لگتے چلے آرہے ہیں۔ اسی طرح پولیو کی ویکسین بھی کافی برسوں سے دی جارہی ہے لیکن کیا آپ کسی بھی ایسے بچے یا شخص کو ذاتی طور پہ جانتے ہیں  جس کی ذہنی نشونما معمول کے مطابق نا ہو محض ویکسین کی وجہ سے؟ سنی سنائی بات کا اعتبار کرنے کیبجائے  اپنے اردگرد دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ اس اعتراض میں کتنی حقیقت ہے۔

اگلا اعتراض بھی ہر ہی ویکسین کے خلاف کیا جاتا ہے کہ صرف یہ بیماری ہی کیوں اور بھی تو بہت ساری بیماریاں ہیں ان کی ویکسین کی مہم کیوں نہیں چلائی جاتی ہے۔ پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ حکومت پاکستان اس وقت بھی کوئی درجن بھر بیماریوں کی ویکسین سرکاری طور پہ لگوا رہی ہے۔ ان تمام بیماریوں کی تفصیل آپ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لے سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ اعتراض تقریباً ہر ویکسین مہم کے خلاف کیا گیا ہے پولیو سے لیکر ایچ پی وی تک کوئی بھی ویکسین مہم ایسی نہیں جس پہ یہ بات نا کی گئی ہو۔ یہاں یہ بات سمجھ لیں ہر بیماری کے لیے ویکسین دستیاب نہیں ہے، اور ہر شخص کو ہر بیماری کی ویکسین لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ اس وقت تیس یا اس سے اوپر کی عمر کے جتنے بھی لوگ ہیں ان سب کو چیچک کی ویکسین لگی تھی۔ ہمیں ہمارے والدین ان کے والدین سبھی کو لگی تھی۔ پھر جب دنیا کے تمام لوگوں کو چیچک کی ویکسین لگ گئی تو پھر اس بیماری کا پھیلاؤ بالکل ختم ہوگیا تو اب اس کی ویکسین نہیں لگائی جاتی۔ اسی طرح دنیا بھر میں جہاں جو جو بیماری ویکسین لگانے کی وجہ سے ختم ہو جائے تو کچھ عرصے بعد اس بیماری کی ویکسین بھی بند کردی جاتی ہے۔  اسی تناظر میں کچھ لوگ کم علمی میں اعتراض کرتے ہیں کہ  شوگر، بی پی، کینسر ،  دل کی بیماریوں فالج،  کولسٹرول وغیرہ کی ویکسین کیوں نہیں دی جاتی ہے۔ تو بھائی ان سب سے درخواست ہے کہ ان کے لئے کوئی ویکسین دستیاب ہی نہیں ہے تو کیسے دی جائے۔ اور اب جب ایک کینسر کی ویکسین دی جارہی تو اس پہ بھی اعتراضات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔

آخری دونوں اعتراضات ایک ہی نوعیت کے ہیں کے دنیا ہمیں کیوں ویکسین دیتی ہے اس میں ان کا کیا فائدہ ہے اور انھیں ہم سے ایسی کیا ہمدردی یا محبت ہے۔ اس اعتراض پہ جتنی بھی بات کی جا چکی ہے لیکن معترضین کو یہ بنیادی نکتہ سمجھ نہیں آتا کہ دنیا کو ہمارے ساتھ کوئی خاص ہمدردی یا محبت نہیں ہے بلکہ وہ ہمیں ویکسین اپنے فائدے کے لئے دیتے ہیں۔ وہ فائدہ کیا ہے بھلا، مغربی ممالک میں صحت کی بہتر سہولیات کے باعث بہت ساری بیماریوں پہ قابو پایا جا چکا ہے۔ انھوں نے ان بیماریوں کو ویکسینز کی مدد سے اپنے اپنے ملکوں سے ختم کردیا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ تمام ملک اس وقت تک خطرے میں ہیں اور رہیں گے جب تک کہ یہ بیماریاں مکمل طور پر پوری دنیا سے ختم نہیں ہوجاتی ہیں۔  دوبارہ مثال لیتے ہیں چیچک کی جب تک ایک ملک میں بھی چیچک تھی ساری دنیا اس کے خلاف صف آرا تھی عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ  کی چھتری کے نیچے سب ملکوں کو مدد دی جارہی تھی، اور جب چیچک ختم ہونے کا باضابطہ اعلان کردیا گیا تو اب دنیا میں کوئی بھی چیچک کی ویکسین کی بات نہیں کرتا۔ اس کے مقابلے میں پولیو کا وائرس دنیا بھر سے ختم ہوچکا ہے لیکن پاکستان اور افغانستان میں آج بھی پولیو موجود ہے اس لئے ساری دنیا ہم پہ زور بھی دے رہی ہے اور ہمیں ویکسین بھی دیتی ہے کے ہم جلد از جلد اس وائرس کا خاتمہ کردیں تاکہ ان کی آبادی بھی ہمیشہ کے لئے پولیو سے محفوظ ہوجائے۔

ایچ پی وی ویکسین محفوظ، مؤثر، اور ایک ایسے کینسر کے خلاف ہمارا بہترین دفاع ہے جو ہر سال ہزاروں خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے ۔ یہ مہم پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ یہ ہماری بیٹیوں کی ایک پوری نسل کو ایک قابلِ علاج بیماری سے بچانے کا ایک موقع ہے۔ جبکہ ویکسین ایک بہت بڑا قدم ہے، یہ خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی ۔ لہٰذا، بڑی عمر کی خواتین کے لیے، پاپ سمیر ٹیسٹ جیسی باقاعدہ اسکریننگ اب بھی بہت ضروری ہے۔ لیکن ہماری بچیوں کے لیے، یہ ویکسین ایک تحفہ ہے—خوف اور نقصان سے بھرے مستقبل کے خلاف ایک ڈھال ہے۔ آج اپنی بیٹیوں کو ویکسین لگوا کر، ہم نہ صرف انہیں محفوظ کر رہے ہیں؛ بلکہ ہم اپنے خاندانوں اور اپنی قوم کے لیے ایک صحت مند، روشن مستقبل کو یقینی بنا رہے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، اور یہ ہم میں سے ہر ایک پر منحصر ہے کہ ہم سچائی کو پھیلائیں اور یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچی پیچھے نہ رہ جائے۔

 

 

Dr. Muhammad Ibrahim Rashid Sherkoti

Hi, I am a Ph.D. in biotechnology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am interested in biotechnology, infectious diseases and entrepreneurship. You can contact me on my Twitter @MIR_Sherkoti.