عموما جب معیشت اور معاشی فکر کے آغاز کے بارے میں بات ہوتی ہے تو زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں ایڈم سمتھ یا کارل مارکس کا نام آتا ہے، یا پھر اگر انہوں نے سکول میں توجہ دی ہو تو شاید ارسطو کا خیال آئے۔ لیکن قرونِ وسطیٰ کے معاشی ماہرین میں ایک ایسا نام بھی ہے جسے مغربی تاریخ دان شاذ و نادر ہی یاد کرتے ہیں۔ ایڈم سمتھ اور کارل مارکس سے صدیوں پہلے، اور حالیہ سرمایہ داری یا مرکزی بینکوں کے نظام کے وجود میں آنے سے بھی بہت پہلے ایک مسلم عالم کی دی ہوئی تنبیہ موجودہ عالمی مالیاتی بحران میں گونجتی محسوس ہوتی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ اگر دولت کے پیچھے اخلاقی اقدار ختم ہو جائیں تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔ اور جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید وہ اس دور کو ہم سے بھی بہتر انداز میں سمجھتا تھا۔
الغزالی اسلامی سنہری دور کے سب سے اثر انگیز مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کو سمجھنے کے لیے آپ کو ایک ایسے دور کا تصور ذہن میں بنانا پڑے گا جو بیک وقت جانا پہنچانا بھی ہے اور اجنبی بھی۔ تقریباً سنہ 1100 عیسوی ہے۔ یورپ بے آباد اور غریب ہے، ابتدائی قرونِ وسطیٰ کی جنگوں اور تباہ کاریوں سے آہستہ آہستہ نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف اسلامی دنیا اندلس (اسپین) سے لے کر فارس اور اس سے بھی آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے شہر دولت مند، گنجان آباد اور ترقی یافتہ ہیں۔ بغداد، دمشق، ٹمبکٹو اور قاہرہ جیسے شہر مالیاتی اور علمی مراکز ہیں۔ تجارتی شاہراہوں پر بڑے بڑے قافلے ریشم، مصالحے، کپڑے اور چاندی لے کر رواں دواں ہیں۔ اہلِ علم فلسفہ، قانون، فلکیات، طب پر مناظرے کرتے ہیں۔ بازار آباد ہیں۔ سلطنت دولتمند ہے۔ اور دولت معاشرے کو اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ کوئی ٹھیک طرح اس کی رفتار کو سمجھ نہیں پا رہا۔
اسی ابھرتی ہوئی تجارت اور بڑھتی ہوئی معاشی تفریق کی دنیا میں ابو حامد الغزالی نامی ایک عالم سامنے آتے ہیں۔ وہ بیک وقت فلسفی، فقیہ، عالمِ دین اور بہترین ناقد تھے۔ آپ انہیں ایسا مفکر سمجھ سکتے ہیں جو روح کے مقصد اور مالیاتی نظام کے مقصد دونوں پر بلا جھجک باتفصیل بیان کر سکتا ہے۔ سنہ 1058 میں فارس میں پیدا ہونے والے الغزالی جلد ہی علمی دنیا میں بلند مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں۔ تیس برس کی عمر تک وہ اسلامی دنیا کے سب سے باوقار تدریسی عہدوں میں سے ایک پر فائز تھے۔ مگر ان کی انفرادیت کی اصل وجہ ان کی عزت و شہرت نہیں تھی۔ وہ اس لیے نمایاں تھے کہ وہ موجودہ حالات کو بغیر سوال و جواب قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ انہوں نے ایک ایسی دنیا دیکھی جس میں دولت بڑھ رہی تھی، بازار پھیل رہے تھے، اور پھر بھی کسی نہ کسی سطح پر سب کچھ بے ہنگم سا محسوس ہو رہا تھا۔
ایک ایسا معاشرہ جو دولت کے جنون میں مبتلا تھا مگر معنی سے دور ہوتا جا رہا تھا۔ ایک ایسی معیشت جو بظاہر ترقی کر رہی تھی مگر اندر سے کھوکھلی ہو رہی تھی۔ الغزالی نے ایک ایسا سوال اٹھانا شروع کیا جسے بہت کم لوگوں نے چھونے کی ہمت کی تھی: جب کوئی تہذیب دولت میں تو تیز رفتاری سے بڑھتی جائے مگر علم و حکمت میں نہیں تو کیا ہو گا؟ اور اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے انہوں نے اپنی توجہ خود دولت کے تصور کی طرف مبذول کی۔ یہی وہ بات ہے جو اکثر مغربی قارئین کو حیران کرتی ہے۔ الغزالی صرف مذہبی مفکر نہیں تھے؛ وہ ان اولین فلاسفہ میں سے تھے جنہوں نے دولت کا اخلاقی اور انتظامی تجزیہ کیا۔ جہاں ارسطو دولت کو ایک جامد حقیقت سمجھتے تھے اور بعد کے ماہرینِ معاشیات اسے ریاضیاتی انداز میں دیکھتے تھے، وہیں الغزالی نے دولت کے نفسیاتی اور روحانی اثرات پر غور کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ دولت انسانی رویوں، محرکات، اعتماد اور بالآخر قوموں کی تقدیر پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کے معاشی نظریات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ دولت کی اصل کو کیا سمجھتے تھے۔ الغزالی کے نزدیک دولت ایسی چیز نہ تھی جس کی پوجا کی جائے، جسے جمع کر کے بند کر دیا جائے، یا جسے محض قد کاٹھ کی علامت (سٹیٹس سمبل) بنایا جائے۔ یہ صرف ایک ذریعہ تھی، اس سے زیادہ کچھ نہیں: لین دین کو ممکن بنانے والا ایک اوزار۔
انہوں نے دولت کو آئینے سے تشبیہ دی۔ آئینے کی اپنی کوئی قدر نہیں ہوتی؛ اس کی قیمت اس منظر سے جنم لیتی ہے جو وہ دکھاتا ہے۔ دولت بھی ایسی ہی ہے۔ اس کی قوت اس سونے یا چاندی میں نہیں جس سے سکے بنے ہیں بلکہ اس میں ہے کہ یہ لوگوں کو کس طرح تجارت، تعمیر و ترقی اور آپس میں تعاون کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جس کا سہرا جدید ماہرینِ معاشیات اکثر اپنے سر رکھتے ہیں، مگر الغزالی اسے گیارہویں صدی میں بیان کر رہے تھے، جب یورپ کے اکثر لوگوں کے لیے دولت کا خیال صرف زمین یا لوٹ مار تک محدود تھا۔ اس بنیاد پر الغزالی کا ایک اہم ترین تصور سامنے آیا: جمع شدہ دولت مردہ دولت ہے۔ ان کے نزدیک وہ دولت جو صندوقوں میں بند، کمروں میں چھپی یا صحنوں میں دفن ہو کر بے کار پڑی رہے، صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ معاشرتی طور پر تباہ کن ہے۔ مردہ دولت گردش نہیں کرتی، یہ مزدوروں کو روزگار نہیں دیتی، تجارت کو تحریک نہیں دیتی اور نہ ہی خاندانوں کی کفالت کرتی ہے۔ یہ معاشی زندگی کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ انہوں نے اسے “معاشرے کے خون کی گردش کو منجمد کر دینا” کہا، یہ فقرہ تو آج کے دور کی عدم مساوات پر کسی جدید تنقید میں لکھنے کے لیے بالکل موزوں ہے۔ لیکن امام غزالی کی تنقید صرف لالچ پر نہیں تھی۔ ان کی دلیل خالصتاً انتظامی تھی۔
جب مال دار لوگ دولت کو جمع کر لیتے ہیں تو وہ قلت پیدا کرتے ہیں۔ یہ قلت وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ دولت کی گردش رک جاتی ہے۔ قیمتوں میں عدم توازن آ جاتا ہے، منڈیاں غیر مستحکم ہو جاتی ہیں، اور لوگ مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ یہی تنقید انہیں ان کے اگلے بڑے نکتے تک لے جاتی ہے: قیاس آرائی (اقتصادی سٹے بازی) لوگوں کے اعتبار کو تباہ کر دیتی ہے۔ امام غزالی ایسے تاجروں کے لیے بالکل گنجائش نہیں رکھتے تھے جو قیمتوں میں چھیڑ چھاڑ کرتے ہوں، مصنوعی قلت پیدا کریں یا بحرانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ اس جوئے کو سمجھدار حکمت عملی نہیں بلکہ اخلاقی بگاڑ سمجھتے تھے؛ ایسا نفع جو کسی کو فائدہ دیے بغیر حاصل ہو رہا ہے۔ ان کے بقول “جو دوسروں کی تکلیف سے فائدہ کماتا ہے، وہ فساد سے فائدہ کماتا ہے۔” اور فساد، ان کی نظر میں، ایک وبا ہے۔ جہاں سر اٹھاتا ہے، وہاں بازاروں، اداروں اور آخرکار پوری معاشرت میں سرایت کر جاتا ہے۔ اگر یہ بات آپ کو آج کے اقتصادی ببلز، سود در سود قرضوں یا بحرانوں سے کمائی کرنے والوں پر تبصرہ لگتی ہے، تو یقینا ایسا ہی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ یہ بات نو سو سال پہلے لکھی گئی تھی۔
اس سے شاید یہ خیال پیدا ہو کہ امام غزالی نفع کمانے کے مخالف تھے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے۔ وہ تجارت کے بھی مخالف نہیں تھے۔ وہ نہ رہبانیت کے قائل تھے نہ غربت کے حامی۔ وہ تجارت پر پورا یقین رکھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ منڈیاں اور بازار فطری ضرورت ہیں۔ ان کے نزدیک دولت بامقصد بھی ہو سکتی ہے اور باوقار بھی۔ ان کا اصل نشانہ بے ایمانی پر مبنی تجارت تھی: دھوکا دینا، جھوٹ بولنا، ناقص پیمانے استعمال کرنا، مال کے عیب چھپانا، یا معلومات کو توڑ مروڑ کر فائدہ اٹھانا۔ وہ سمجھتے تھے کہ بازار صرف اسی وقت درست کام کرتے ہیں جب لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ اور جب اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، معیشت بھی اس کے ساتھ ہی گر جاتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ ان اولین مفکرین میں شامل ہیں جنہوں نے ان باتوں کو بیان کیا جنہیں آج کے ماہرین معیشت لین دین کے اخراجات، معلومات کی عدم مساوات، اور اخلاقی ضرر (moral hazard) کہتے ہیں، بس غزالی نے یہ سب ان اصطلاحوں کے بغیر بیان کیا ہے۔
ان کی ایک اور بڑی بصیرت محنت کی قدر سے متعلق تھی۔ ان کے نزدیک کام بذات خود باعزت عمل ہے، جب کہ بغیر محنت کے حاصل کی گئی دولت روحانی طور پر نقصان دہ ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ محنت سے کمائی ہوئی دولت انسان کا کردار بناتی ہے، جب کہ ہیرا پھیری سے جمع کی ہوئی دولت اسے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یہ بات اگرچہ خالص اخلاقی لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے عملی منطق تھا: معاشرے اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب لوگ اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اور کمزور اس وقت پڑتے ہیں جب لوگ دوسروں کا استحصال کرنے لگتے ہیں۔
مگر امام غزالی کی تنقید صرف افراد پر ہی نہیں تھی۔ انہوں نے ریاست کی سکہ رائج الوقت (کرنسی) میں مداخلت (مانیٹری پالیسی) پر بھی اولین تنقید پیش کی۔ قرونِ وسطیٰ کے حکمران، بالکل آج کے بہت سے حکمرانوں کی طرح، اکثر اپنے مالی بحران حل کرنے کے لیے سونے چاندی کے سکوں میں ملاوٹ کرتے تھے۔ یعنی عوام سے چھپا کر مہنگائی (انفلیشن) کے ذریعے ٹیکس وصول کرتے تھے۔ امام غزالی نے اس عمل کو یکسر رد کیا۔ ان کے نزدیک سکوں میں ملاوٹ چوری تھی۔ یہ بازار کے اعتماد کو کھا جاتی ہے۔ غریب آدمی کو کمزور سکے تھما دیے جاتے ہیں۔ اور پورا مالیاتی نظام اوپر نیچے تک ہل جاتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ریاست کا کردار منصفانہ بازار کی حفاظت تک محدود ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ معیشت کی نگہبانی کریں، نہ کہ اپنی وقتی ضرورتوں کے لیے اسے بگاڑیں یا اس میں مداخلت کریں۔ ان کی نظر میں ظالم حکمران خوشحالی کو کسی بھی بیرونی دشمن سے زیادہ تیزی سے تباہ کرتے ہیں۔ اور یہاں بھی، آج کے دور سے مماثلت بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
امام غزالی کی حکمرانوں سے متعلق تنبیہات محض ان کی سوچ نہیں تھیں؛ وہ ریاستوں کے حقیقی رویوں کے مشاہدے سے اخذ کی گئی تھیں۔ ان کی زندگی کے دوران سیاسی انتشار بڑھ رہا تھا، سلطنتیں اقتدار کے لیے برسرپیکار تھیں، مقامی گورنر زیادہ محصولات (ٹیکس) کے خواہاں تھے، اور ہمیشہ کی طرح، جب حکمرانوں کو محسوس ہوتا تھا کہ ان کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے، تو سب سے پہلے جس جگہ وہ سختی کرتے تھے وہ معیشت تھی۔ کچھ نے ٹیکس حد سے زیادہ بڑھا دیے۔ کچھ نے سکوں میں ملاوٹ کر کے بجٹ کھینچنے چاہے۔ کچھ نے تاجروں کے اثاثے ضبط کیے، اور بعض نے بے تحاشا قرض لے کر آنے والی نسلوں کے لیے مسائل چھوڑ دیے۔ ان میں سے کوئی ہتھکنڈا نیا نہیں تھا، اور امام غزالی کی نظر میں ان میں سے کوئی طریقہ بھی اصل مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اوپر کی بدعنوانی نیچے تک زہر کی طرح سرایت کرتی ہے۔ جب حکمران عوام کو دھوکا دیتے ہیں، تو تاجر بھی اپنے گاہکوں کو دھوکا دینے کو جائز سمجھنے لگتے ہیں۔ جب ادارے دیانت سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں، تو افراد کو بھی ذمہ داری برتنا ضروری نہیں لگتا۔ پورے معاشی ڈھانچے میں، محل کے خزانے سے لے کر گلی کے بازار تک، بے اعتمادی کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ان کا لکھا سچ کڑوا مگر واضح تھا: ایک معاشرہ غربت سے بچ سکتا ہے، مگر بدعنوانی سے نہیں۔ معاشی تباہی شاذ ہی اس بات سے آتی ہے کہ پیسہ یا وسائل ختم ہو گئے ہوں۔ اصل تباہی اعتماد کے ٹوٹنے سے آتی ہے۔ وہ اعتماد جو ہر لین دین، ہر معاہدے، ہر کرنسی اور ہر ادارے کو جوڑے رکھتا ہے۔ جب یہ اعتماد مٹ جاتا ہے، تو سب سے دولت مند قوم بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
اسی تناظر میں ان کے کرنسی سے متعلق خیالات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ امام غزالی کے نزدیک کرنسی کا استحکام صرف ایمانداری پر قائم ہے۔ سکوں میں ملاوٹ، یعنی ان کے سونے یا چاندی کے معیار کو گھٹانا، محض غلط پالیسی نہیں۔ یہ دھوکا ہے۔ یہ خیانت ہے۔ حکمران اگر کرنسی میں چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو یہ اس کی حکمت عملی نہیں سمجھی جائے گی؛ وہ اپنی ہی قوم سے آہستہ آہستہ چوری کر رہا ہوتا ہے۔ سکے کی خالص دھات میں معمولی سی کمی (روپے کی قدر میں کمی) بظاہر ایک چھوٹی تبدیلی لگتی ہے، لیکن امام غزالی کے نزدیک یہی مالی تباہی کی ابتدا ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر ریاستیں بار بار کرنسی کو بگاڑیں گی تو عوام آخرکار مقامی سکے پر سے اعتماد کھو دیں گے اور مضبوط غیرملکی کرنسیوں کا استعمال شروع کر دیں گے۔ ایک ہزار سال بعد ہم نے یہی سب کچھ جرمنی، زمبابوے، وینیزویلا، ارجنٹینا اور ہر اُس جدید معاشی بحران میں دیکھا ہے جہاں لوگ اپنی ہی کرنسی چھوڑ کر بھاگ گئے، کیونکہ وہ اس وعدے پر اعتماد کھو بیٹھے تھے جو اس کرنسی کے ساتھ جڑا تھا۔ اکیسویں صدی میں مہنگائی سے متعلق بحثیں اور بے چینی اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں جسے اس قرون وسطیٰ کے مفکر نے بہت پہلے سمجھ لیا تھا: پیسہ بالاخر ایک اعتقادی نظام ہے، اور جب لوگ اس پر یقین چھوڑ دیں، تو نظام کام کرنا بند کر دیتا ہے۔
لیکن امام غزالی کی مالیاتی بصیرت صرف کرنسی اور ٹیکس تک محدود نہیں تھی۔ وہ انسانی فطرت کے بارے میں بھی ایک گہری بات سمجھتے تھے: لوگ خوف کے باعث ذخیرہ کرتے ہیں۔ لالچ کے باعث قیاس آرائی (سٹے بازی) کرتے ہیں۔ تب دھوکا دیتے ہیں جب انہیں لگتا ہے کہ بچ نکلیں گے۔ پیسے کو اس لیے چھیڑتے ہیں کہ اسے چھیڑنا سب سے آسان ہے۔ لوگ غیر اخلاقی منافع کو درست سمجھتے ہیں کیونکہ باقی سب بھی یہی کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی معاشرہ اس مقام تک پہنچ جائے کہ استحصال معمول بن جائے، تو سمجھ لیں کہ اس کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ یہی یقین انہیں ان کے ایک اور بنیادی نکتے تک لاتا ہے: آپ معیشت کو اس وقت تک درست نہیں کرسکتے جب تک انسانی رویے کو تشکیل دینے والے محرکات کو درست نہ کریں۔ قوانین اہم ہیں، بازار اور منڈیاں بھی اہم ہیں، لیکن ان سب کے پیچھے انسان ہیں جو جذبات، خواہش، خوف اور لالچ کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ جب تک معاشرتی نظام لوگوں کو ایماندارانہ اور پیداواری رویوں پر راغب نہ کرے، معیشت ناگزیر طور پر بدعنوانی، عدم استحکام اور خود تباہی کی طرف بہتی چلی جاتی ہے۔ اسی لیے امام غزالی دولت کے اخلاقی پہلو پر اتنا زور دیتے تھے۔ ان کے نزدیک ذمہ داری سے بیگانہ دولت نہ صرف روحانی لحاظ سے خطرناک ہے، بلکہ اجتماعی فلاح کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔ وہ دولت کو برا نہیں سمجھتے تھے؛ بس اسے کسی بڑے مقصد کے بغیر نامکمل سمجھتے تھے۔
کوئی معاشرہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب افراد دینے کا رجحان رکھنے والے ہوں بجائے صرف لینے والے بننے کے، جب دولت جمع کرنے کا جذبہ سماجی بھلائی کے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ توازن میں ہو۔ لیکن جب دولت سماجی ذمہ داری سے کٹ جائے، جب منافع کی ہوس معاشرے کی فلاح کو پسِ پشت ڈال دے، تو نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ ایک خودغرض معاشرہ آخر کار اپنی ہی بے حسی تلے دب کر منتشر ہو جاتا ہے، اور جب یہ ٹوٹتا ہے تو اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ ان مال داروں کو بھی جو سمجھتے تھے کہ وہ محفوظ رہیں گے۔ تہذیب اُس وقت ترقی کرتی ہے جب لوگ توازن کو سمجھتے ہوں۔ وہ اُس وقت گرتی ہے جب یہ توازن بگڑ جاتا ہے۔ اور یہی بات ہمیں براہِ راست آج کی دنیا میں لے آتی ہے، جہاں امام غزالی کی تنبیہ صرف ایک فلسفہ نہیں، بلکہ ہمارے عہد کے مسائل کی اصل تشخیص محسوس ہوتی ہے۔ ہم ایک عالمی معیشت میں رہتے ہیں جہاں پیسہ اپنے معنی سے زیادہ تیزی سے حرکت کرتا ہے، جہاں دولت کئی تفریق (ڈس پیرٹی) صدیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جہاں بازار اکثر قیاس آرائی کو خدمت پر ترجیح دیتے ہیں، جہاں اداروں پر اعتماد مسلسل کم ہو رہا ہے، جہاں مہنگائی خاموشی سے قوتِ خرید کھا جاتی ہے، اور جہاں مالیاتی ببل اٹھتے ہیں، پھٹتے ہیں، اور پھر نئے سرے سے اُبلتے ہیں، اور یہ سب ایک تواتر کے ساتھ ہوتا ہے۔
جہاں بھی نظر ڈالیں، وہ مسائل دکھائی دیتے ہیں جن کی نشان دہی امام غزالی نے کی تھی۔ پہلے شاید یہ مسائل مقامی تھے، اب عالمی پیمانے پر ہیں۔ ذخیرہ اندوزی پر ان کی تنقید آج کے ارب پتیوں، آف شور کمپنیوں اور دولت کے ارتکاز کی بحثوں سے مماثل ہے۔ قیاس آرائی کے بارے میں ان کی تنبیہات آج کے رہائشی بحرانوں، کرپٹو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ، شیڈو بینکنگ اور شکاری منڈیوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ کرنسی میں چھیڑ چھاڑ کے خلاف ان کا موقف آج کی مالیاتی پالیسی کی بحثوں کی بنیاد ہے۔ اور اعتماد کو خوشحالی کی بنیاد سمجھنے کا ان کا نظریہ واضح کرتا ہے کہ مستحکم اداروں والے ممالک کی کرنسیاں کیوں مضبوط ہیں اور ان کی معیشتیں زیادہ لچکدار کیوں ہیں۔ جدید قاری کو جو چیز حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ لگ بھگ ایک ہزار سال میں دنیا کتنی کم بدلی ہے۔ ٹیکنالوجی بدل گئی، بازار تیز ہو گئے، معیشت کا دائرہ کار مقامی سے عالمی ہوگیا، لیکن انسانی رویے بنیادی طور پر وہی ہیں۔
امام غزالی شاید آج کے نظام کو دیکھ کر، بے لگام قرضوں، قیاس آرائی کے جنون، بڑھتی عدم مساوات، سیاسی جمود اور ادارہ جاتی بداعتمادی کو دیکھ کر بھی، بالکل وہی بات کہتے جو انہوں نے ہزار سال پہلے لکھی تھی: “جہاں عدل ختم ہوتا ہے، خوشحالی رُک جاتی ہے۔” یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ معیشتیں حسابی عدم توازن سے نہیں گرتیں۔ وہ اس لیے گرتی ہیں کہ نظام کے اندر رہنے والے لوگ ایک دوسرے پر اعتماد چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس لیے گرتی ہیں کہ غلط رویوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ وہ اس لیے گرتی ہیں کہ ادارے اس انصاف کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں جو بازاروں کے وجود اور بقا کے لیے لازم ہے۔ انسانی جذبات، انسانی خوف، انسانی لالچ، انسانی شارٹ کٹ؛ یہی وہ عناصر ہیں جو تہذیبوں کو بحران کی طرف دھکیلتے ہیں، نہ کہ کوئی مجرد معاشی فارمولے۔ امام غزالی مذہب کی تبلیغ نہیں کر رہے تھے؛ وہ حقیقت بیان کر رہے تھے۔ وہ اس بات سمجھتے تھے جسے ماہرین معیشت اکثر ماننے میں ہچکچاتے ہیں: کہ پیسہ کوئی ٹھوس حقیقت نہیں۔ یہ ایک اخلاقی نظام ہے۔ اور جب اخلاقی بنیاد بکھر جائے تو مالیاتی نظام بھی اس کے ساتھ ہی بکھر جاتا ہے۔ اسی لیے ان کے خیالات آج بھی اہم ہیں۔ ایسے دور میں جہاں ریکارڈ قرض، حد سے زیادہ قیاسی سرگرمی، ادارہ جاتی بے اعتمادی اور مالی بے چینی غالب ہیں، ان کا مرکزی پیغام ایک اصولِ بقا بن جاتا ہے: اگر پیسہ اخلاق سے جدا ہو جائے تو پورا نظام بالآخر ٹوٹ جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنا صرف مالی تعلیم نہیں؛ یہ مالی حفاظتی پیش بندی (preventive measure) ہے۔ کیونکہ تاریخ خود کو خواہ نہ دوہراتی ہو، لیکن اگر آپ اسے نہ سمجھیں، تو یہ آپ کو کچل دیتی ہے۔