انتباہ
یہ مضمون ڈاکٹر روئی ڈیوگو (اسوسی ایٹ پروفیسر ہوورڈ یونیورسٹی، امریکہ) کے ایک مقالے کا ترجمہ ہے جو ان کی اجازت سے یہاں شائع کیا جارہا ہے۔ مصنف کا تعارف اور اصل مقالے کا لنک مضمون کے اختتام پہ دیا گیا ہے۔
– – – – – – – – – – – – – – – –
خلاصہ
حیاتیات اور ارتقائی فکر کی تاریخ پر مبنی درسی کتب میں عموماً ڈارون سے قبل مسلمان علماء کے ارتقائی خیالات کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ یہ مغربی دنیا میں غیر مغربی سائنسدانوں کی انسانی اناٹومی، حیاتیات، اور ارتقائی حیاتیات میں خدمات کو کم تر ظاہر کرنے کے رجحان کا حصہ ہے۔ لہٰذا، یہ مقالہ ڈارون سے پہلے کے مسلمان علماء کی ارتقائی فکر میں شراکت کو اجاگر کرنے پر مرکوز ہے۔ مختلف تاریخی ادوار میں تحریر کردہ متنوع زبانوں کے متون کے جائزے سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ کئی مسلمان علماء نے ارتقائی نظریات پیش کیے، جن میں سے کچھ نظریات حیرت انگیز طور پر ڈارون کے نظریات سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ان میں “فطری انتخاب اور بقاء کا اصول”، “بندروں سے انسان کی پیدائش”، “ارتقائی حدود”، “نسلی انقطاع”، اور “وراثتی تغیر” جیسے تصورات شامل ہیں۔
مزید برآں، جہاں سائنسی برادری اور عوامی علم زیادہ تر مغربی درسی کتب پر مبنی ہے، وہاں مسلم دنیا کے کئی حصوں میں حیاتیاتی (بالخصوص انسانی) ارتقا کو مجموعی طور پر رد کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا، تاریخی سچائی کو بہتر بنانے اور سائنسی تاریخ، مختلف تہذیبوں اور ان کی فلسفیات کو سمجھنے کے لیے، اس ان کہی کہانی کو سائنسی برادری اور عوام میں عام کیا جانا چاہیے۔
تعارف
جدید سائنس اکثر یہ مفروضہ قائم کرتی ہے کہ ڈارون سے پہلے مسلمان دنیا میں ارتقائی نظریات موجود نہیں تھے۔ یہ اس حقیقت سے مزید تقویت پاتا ہے کہ، دیگر کئی مذہبی برادریوں کی طرح، مسلم معاشروں میں بھی ارتقاء کا نظریہ ایک متنازع موضوع ہے، کیونکہ اسے اسلامی تعلیمات سے متصادم تصور کیا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے دوران، ارتقاء کو دہریت، مادّہ پرستی، نوآبادیاتی نظریات اور سامراجی خیالات سے منسلک کیا گیا، جس کے نتیجے میں بہت سے مسلمان علماء اور معاشرے نے اسے مسترد کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں کچھ مسلمان فلسفیوں اور عوامی شخصیات، جیسے احمد مدحت، نے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی حمایت بھی کی۔ بعض مصنفین یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ:
“جدید دور (یعنی بیسویں صدی کے اوائل) تک، بیشتر مسلمان مفکرین حیاتیاتی ارتقاء کو عمومی طور پر تسلیم کرتے تھے اور اسے خوش آمدید کہتے تھے، جب تک کہ یہ دہریت یا مادہ پرستی کے رنگ میں نہ پیش کیا جاتا؛ اگرچہ انسانی ارتقاء کا سوال اکثر ایک حساس مسئلہ رہا؛ لیکن آج کل مسلم دنیا میں ڈارونزم کی مخالفت تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔”
دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض مسلمان علماء جنہوں نے ڈارون کے نظریے کو مسترد کیا، انہوں نے ایک ایسا نقطہ نظر اپنایا جو مغربی عیسائی تخلیقیت سے مشابہ تھا، یوں انہوں نے “مغرب میں سائنس اور مذہب کی کشمکش کو اسلام میں منتقل کر دیا”۔
یہ امر تعجب انگیز نہیں کہ ڈارون سے پہلے کے مسلمان مفکرین کی ارتقائی فکر میں شراکت آج بھی بڑی حد تک غیر تسلیم شدہ ہے۔ بعض مسلم ممالک میں ارتقاء اتنا حساس موضوع ہے کہ اس پر فتویٰ تک دیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ زیادہ تر مسلمان ارتقاء کو مذہبی وجوہات کی بنیاد پر مسترد کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کئی، بالخصوص نوجوان سائنس کے طلباء اور پیشہ ور افراد، “تمام انواع کی ارتقاء کو انسانی ارتقاء کے سوا قبول کرنے کو تیار ہیں”۔ جو مسلمان پیشہ ور افراد انسانی ارتقاء کو قبول کرتے ہیں، وہ اسلامی متون کی ایسی تعبیرات اختیار کرتے ہیں جو ان کے مذہبی عقائد سے مطابقت رکھتی ہوں۔
اہم بات یہ ہے کہ پچھلی چند صدیوں میں مسلمانوں میں پائی جانے والی “ضد ارتقاء” سوچ کسی حد تک مغرب کی اس جانبداری سے مماثلت رکھتی ہے جو غیر مغربی اقوام کی سائنسی خدمات کو نظر انداز کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، انیسویں صدی میں کچھ مغربی محققین نے مسلم مفکرین کی ارتقائی حیاتیات میں شراکت کا اعتراف کیا، لیکن آج کے نصابی کتب اور علمی مضامین میں ان کا ذکر مشکل سے ملتا ہے۔ معروف سائنسدان اور ڈارون کے ہم عصر، جان ولیم ڈریپر (1812–1883)، اس مغربی رویے کے ناقد تھے۔ وہ لکھتے ہیں:
“مجھے یورپی ادب میں اس منظم انداز پر افسوس ہے، جس کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے سائنسی احسانات کو نظروں سے اوجھل کیا … مذہبی تعصب اور قومی غرور پر مبنی یہ ناانصافی ہمیشہ نہیں چل سکتی۔”
انہوں نے “اسلامی ارتقائی نظریات” کو سائنسی تاریخ کا حصہ تسلیم کیا اور اپنی کتاب
“The History of the Conflict between Religion and Science”
میں لکھا:
“[عیسائی] مذہبی حکام مجبور تھے کہ وہ زمین کے آغاز کو ماضی کے ایک بے انتہا دُور عہد سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو ناپسند کریں، اور مسلمانوں کے ارتقائی نظریے پر بھی اسی وجہ سے ناراض تھے، کیونکہ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ انسانی وجود کئی مراحل میں نچلی مخلوقات سے ترقی کر کے موجودہ حالت کو پہنچا ہے۔”
موجودہ مغربی نصاب میں علمی تعصب
ڈریپر کی تحریروں کے برعکس موجودہ مغربی درسی کتب ایک مختلف بیانیہ پیش کرتی ہیں۔ ان کتب میں بارہا یہ دعویٰ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ حیاتیات کی تاریخ پر مخصوص کتابوں میں بھی، کہ:
“گیلین کے بعد کئی صدیوں تک حیاتیاتی سرگرمی کا کوئی سراغ نہیں ملتا؛ سائنس کے ‘تاریک ادوار’گیلین کی وفات سے تیرہویں صدی تک پھیل جاتے ہیں۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اسکالرز اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ آٹھویں/نویں صدی میں علمی قیادت مسلم مفکرین کو منتقل ہو گئی تھی، اور یہ سلسلہ تیرہویں صدی تک جاری رہا ۔ تاہم، ایک نہایت اہم سوال جو زیادہ تر درسی کتب میں زیربحث نہیں آتا، یہ ہے کہ:
اگر مسلمان مفکرین آٹھویں سے تیرہویں صدی تک علمی قیادت کے حامل تھے، اور اگر انہوں نے ریاضی اور طب جیسے شعبوں میں ترقی کی (جن کا حیاتیات سے گہرا تعلق ہے)، تو پھر وہ انسانی اور تقابلی اناٹومی کے مطالعے میں کیوں پیچھے رہے، جو انہیں ارتقائی نظریات کی طرف لے جا سکتا تھا؟
یہ بہت عجیب لگتا ہے، کیونکہ یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان مفکرین محض ترجمہ نگار تھے—یعنی وہ یونانیوں کی ترقی کو صرف عربی میں منتقل کرتے رہے، تاکہ مغرب والے اس پر مزید تحقیق کر سکیں۔
اس مسئلے پر حیاتیات دانوں اور سائنس کی تاریخ کے محققین کے خیالات کو واضح کرنے کے لیے، ہم جدید دور کے ایک معروف ماہرِ حیاتیات ارنسٹ میئر کی کتاب
The Growth of Biological Thought
کا اقتباس پیش کرتے ہیں:
“جہاں تک میری معلومات ہیں، عربوں نے حیاتیات میں کوئی اہم شراکت نہیں کی — یہ بات ان دو عرب علماء، ابنِ سینا اور ابنِ رشد پر بھی صادق آتی ہے، جنہیں حیاتیاتی موضوعات میں خاصی دلچسپی تھی؛ تاہم، عربوں کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ انہوں نے ارسطو کے کام کو ترجمہ کے ذریعے مغرب تک پہنچایا۔”
تحقیقی طریقہ کار
اس مطالعے کا مقصد ڈارون سے پہلے کے مسلمان مفکرین کے ارتقائی خیالات کا جائزہ پیش کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے درج ذیل سرچ انجن استعمال کیے:
- گوگل (Google)
- گوگل اسکالر (Google Scholar)
- انٹرنیٹ آرکائیو (archive.org)
- واشنگٹن ریسرچ لائبریری کنسورشیم
ابتدائی طور پر ہم نے 2009 کے بعد شائع ہونے والے علمی مضامین اور کتب کو تلاش کیا۔ بعد میں تلاش کے دائرے کو 10 سال پہلے تک وسیع کیا گیا، یہاں تک کہ ہم نے ایک جامع ذخیرہ حاصل کر لیا۔
استعمال شدہ کلیدی الفاظ میں شامل تھے:
“Islam evolution”, “Muslim evolutionist”, “Muslim evolution”, “Islam Muslim evolution contributions anatomy Darwin”, “Muslim evolution anatomy”, “evolution Muslim Islam Darwin theory” وغیرہ۔
ہم نے سینکڑوں ذرائع میں سے صرف وہی منتخب کیے جو:
- ڈارون کی کتاب سے پہلے مسلمان مفکرین کے خیالات کو بیان کرتے ہوں۔
- ارتقائی تصور سے براہ راست متعلق ہوں، یعنی صرف اناٹومی یا نشوونما نہیں بلکہ انواع کے وقت کے ساتھ تغیر کو بیان کرتے ہوں۔
- پہلے سے منتخب شدہ ذرائع کی محض نقل نہ کرتے ہوں۔
ارتقائی نظریات/خیالات کی تعریف اس مقالے میں سادہ ترین، اور عام طور پر تسلیم شدہ طور پر کی گئی ہے:
“Species change over time”
— یعنی انواع وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں۔
منتخب ذرائع کی مزید تحقیق کرتے ہوئے ہم نے ان کے حوالے جات کو بھی پڑھا، ان کی پی ڈی ایف یا طباعتی نسخے حاصل کیے، اور انہیں انہی تین شرائط کی بنیاد پر شامل کیا۔ یہ عمل بار بار اس وقت تک دہرایا گیا جب تک ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ مزید کوئی نیا حوالہ باقی نہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہاں پیش کردہ تمام ذرائع وہ نہیں جو ڈارون سے پہلے کے مسلم مفکرین کے ارتقائی خیالات کا ذکر کرتے ہیں؛ بلکہ یہ وہ اہم ذرائع ہیں جو ان آٹھ کلیدی مسلم مفکرین کے ارتقائی نظریات کو سب سے زیادہ واضح اور مفصل انداز میں بیان کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد ان مفکرین کے ارتقائی خیالات کو خلاصہ کرنا، انہیں ڈارون کے نظریے اور جدید سائنسی خیالات سے تقابل کرنا، اور ان کی سائنسی کہانی کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔
آٹھ کلیدی مسلم مفکرین اور ان کے ارتقائی نظریات (ڈارون سے پہلے)
ایک مشترک نظریہ جو ابنِ مسکویہ، البیرونی، اخوان الصفا، نظامی عروضی، طوسی، اور ابنِ خلدون کے خیالات میں نظر آتا ہے، وہ “فطرت کی سلطنتوں (کنگڈم)” کا تصور ہے۔ ان مفکرین نے ایک درجہ بندی تجویز کی جس میں جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان شامل ہیں—جہاں ہر “سلطنت” اگلی کی بنیاد یا خادم بنتی ہے ۔ یہ نظریہ اصل میں ارسطو نے چوتھی صدی قبل مسیح میں پیش کیا تھا، اور ساتویں صدی عیسوی کے بعد جب ارسطو کے کام عربی میں ترجمہ ہوئے، تو یہ مسلم مفکرین تک پہنچا۔
الجاحظ (Al-Jahiz)
الجاحظ، جن کا اصل نام ابو عثمان عمرو بن بحر الفقیمی البصری (776–868ء) تھا، آٹھویں صدی کے ممتاز مسلم حیوانیات دان تھے، جن کا تعلق عراق سے تھا۔ وہ فلسفہ، ادب، اور عربی زبان کے عالم تھے، اور اپنی مشہور کتاب “کتاب الحیوان” کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، جس میں انہوں نے ارتقائی نظریات کو تفصیل سے بیان کیا، بالخصوص فطری انتخاب (نیچرل سلیکشن) کے تناظر میں۔

الجاحظ کو پہلا مسلم مفکر تصور کیا جاتا ہے جس نے ارتقائی حیاتیات کا ایک جامع نظریہ پیش کیا، اور بعض ذرائع کے مطابق یہ سائنس کے شعبے میں پہلا ارتقائی نظریہ بھی تھا۔ انہوں نے جانوروں کے رویوں کا مشاہدہ کیا، ان کی خصوصیات اور مماثلتوں کی بنیاد پر درجہ بندی کی، اور سائنسی طریقہ سے ان کا مطالعہ کیا۔
ان کے نظریات کی جھلک:
- الجاحظ نے فطری انتخاب کا ذکر اس انداز میں کیا کہ ہر جاندار اپنی بقا کی کوشش کرتا ہے، اور جو زیادہ موزوں (فٹ) ہو وہ زندہ رہتا ہے۔
- وہ کہتے ہیں:
“یہ قانون ہے کہ کچھ مخلوقات دیگر کے لیے غذا بنتی ہیں… ہر کمزور جانور اپنے سے زیادہ کمزور کو کھاتا ہے، اور ہر طاقتور جانور خود سے زیادہ طاقتور کے ہاتھوں شکار ہوتا ہے… انسانوں میں بھی یہی اصول کسی حد تک لاگو ہوتا ہے…”
- انہوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مختلف علاقوں کے انسانوں کی جلد کی رنگت میں فرق ہوتا ہے، جو ماحولیاتی حالات کا نتیجہ ہے۔
- الجاحظ نے بندر نما جاندار “المسخ“ کے ارتقاء کی بات کی، جس سے کتے، بھیڑیے، لومڑیاں اور دیگر مماثل جاندار پیدا ہوئے۔
- ایک اور اقتباس میں وہ شمالی افریقہ کے باشندوں کی شکلوں کو بندروں سے مشابہ قرار دیتے ہیں اور یہ تبدیلی خراب پانی، آلودہ فضا، اور مٹی کے اثر سے جوڑتے ہیں۔
خلاصہ:
الجاحظ کے نظریات، اگرچہ خدا کی ہدایت اور ارادہ کو بنیاد مانتے ہیں، ارتقاء اور فطری انتخاب جیسے جدید سائنسی تصورات سے نہایت مشابہت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بقا کی جدوجہد، ماحولیاتی انطباق (اڈاپٹئشن)، اور انسانی و حیوانی مماثلت پر بھرپور روشنی ڈالی، جو بعد میں ڈارون کے نظریات کی بنیاد بنے۔
ابنِ مسکویہ
ابو علی احمد بن محمد بن یعقوب مسکویہ (930–1030ء) دسویں صدی کے ایک فارسی مسلمان فلسفی تھے جن کے ارتقائی خیالات، بعض محققین کے مطابق، الجاحظ کے نظریات سے متاثر تھے۔ ان کی کتاب الفوز الأصغر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابنِ مسکویہ کو زندگی کے ارتقاء کی اتنی گہری سوجھ بوجھ تھی کہ ان کے خیالات کو ڈارون اور ہکسلے جیسے مفکرین کے برابر رکھا جا سکتا ہے۔

ابنِ مسکویہ کا ارتقائی نظریہ:
“پودوں کا اولین مرحلہ یہ ہے کہ وہ زمین سے آزاد ہو جائیں… یہ ابتدائی حیوانی درجہ کمزور ہوتا ہے… یہ حیوانات، اگرچہ زمین سے الگ ہو چکے ہوتے ہیں، حرکت میں کمزور ہوتے ہیں… پھر وہ ایک اور مرحلے کی طرف بڑھتے ہیں: جہاں حرکت اور حواس مضبوط ہوتے ہیں؛ جیسے کہ کیڑے، تتلیاں اور رینگنے والے جاندار… ان میں سے کچھ میں چار حواس ہوتے ہیں؛ جیسے کہ چھپکلی یا چھچھوندرجیسے جانور… اس کے بعد وہ مزید ترقی کرتے ہیں، ان میں دیکھنے کی صلاحیت آتی ہے؛ جیسے چیونٹیاں اور شہد کی مکھیاں… پھر وہ حیوانات کے آخری درجے تک پہنچتے ہیں، جو بندر جیسے ہوتے ہیں، اور انسانی ساخت اور شکل سے بہت قریب ہوتے ہیں… ان میں اور انسان میں فرق صرف معمولی سا رہ جاتا ہے، جو عبور کر لیا جائے تو وہ انسان بن جاتے ہیں۔”
یہ اقتباس واضح کرتا ہے کہ ابنِ مسکویہ کا ماننا تھا کہ انسان دیگر حیوانات سے ارتقائی طور پر پیدا ہوا، اور اس کا اصل فرق عقل و شعور میں ہے، جو انسان کو اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔
انسانی ارتقاء اور نفسیاتی تبدیلیاں:
ابنِ مسکویہ نے ارتقائی عمل کو صرف جسمانی تبدیلیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ روحانی اور نفسیاتی ترقی کو بھی اس کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق انسان نے ارتقاء کے ذریعے:
“نفسیاتی تبدیلیوں، تفریق کی صلاحیت، اور روحانیت میں ترقی حاصل کی، یہاں تک کہ انسان وحشت سے تمدن کی طرف بڑھا۔”
مادے سے زندگی تک کا سفر:
ایک اور اقتباس کے مطابق ابنِ مسکویہ نے مادے کے ارتقاء کا نظریہ بھی پیش کیا:
“اللہ نے سب سے پہلے مادہ تخلیق کیا، اور اسے ترقی کی توانائی دی۔ یہ مادہ بخارات کی شکل اختیار کرتا ہے، جو بعد ازاں پانی بن جاتا ہے… پھر معدنی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے… اس کی اعلیٰ ترین شکل مرجان (کورل) ہے… اس کے بعد نباتاتی زندگی پیدا ہوتی ہے، جو ایک ایسے درخت پر منتج ہوتی ہے جو حیوانات کی خصوصیات رکھتا ہے… پھر سب سے نچلے درجے کے حیوانات پیدا ہوتے ہیں، اور وہ بندر بن جاتے ہیں… پھر وہ ایک وحشی انسان کی صورت اختیار کرتے ہیں، اور بالآخر اعلیٰ انسانی درجہ حاصل کرتے ہیں۔”
یہ نظریہ اس وقت کے دیگر مسلم مفکرین کے خیالات سے ہم آہنگ ہے اور جدید حیاتیاتی ارتقاء کے نظریات سے بھی گہری مماثلت رکھتا ہے، اگرچہ ابنِ مسکویہ نے اسے مذہبی سیاق و سباق میں پیش کیا۔
اخوان الصفاء (Ikhwan al-Safa)
اخوان الصفاء (یعنی “پاکیزہ بھائیوں کا گروہ”) دسویں صدی عیسوی میں بصرہ، عراق میں قائم ایک علمی و روحانی برادری تھی، جو فلسفہ، ریاضیات، منطق، کونیات، مذہب اور سائنس جیسے موضوعات پر کام کرتی تھی۔ اگرچہ ان کے افکار کو بعض اوقات رسمی مذہبی علما نے بدعت قرار دیا، لیکن ان کی تحریریں نہ صرف اسلامی دنیا میں بلکہ اندلس (اسپین) تک پھیل گئیں، جہاں انہوں نے فلسفے اور سائنسی خیالات کو متاثر کیا۔
ان کا سب سے مشہور علمی کارنامہ “رسالہ اخوان الصفاء“ کہلاتا ہے، جسے عربی میں “الرسائل” بھی کہا جاتا ہے—یہ ایک انسائیکلوپیڈیائی نوعیت کا مجموعہ ہے جو فلسفے، طبیعیات، اور الٰہیات پر مبنی ہے۔
تین کائناتی سلطنتوں کا تصور:
اخوان الصفاء کے مطابق، کائنات کو تین “سلطنتوں” (کنگ ڈمز) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- جمادات (معدنیات)
- نباتات
- حیوانات
انہوں نے لکھا:
“جمادات پانی اور مٹی سے جڑے ہوتے ہیں، اور ان کی نچلی اقسام مثلًا شبنم، سلفر، اور نیلا تھوتھا زمین سے بہت قریب ہیں، جبکہ سرخ سونا جمادات کی اعلیٰ ترین قسم ہے، جو نباتاتی دنیا سے قریب ہے۔ سب سے نچلی نباتاتی اقسام کائی (موس) اور جڑی بوٹیاں ہیں، جبکہ کھجور کا درخت، جس میں جنس کی تقسیم ہوتی ہے، نباتاتی اور حیوانی سلطنت کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔”
یہ نظریہ “اسکالا نیچرائے“ یا “فطرت کی عظیم زنجیر” جیسے قدیم یونانی خیالات سے مشابہت رکھتا ہے، مگر اخوان الصفاء نے اسے اسلامی اور عقلی بنیاد پر ترتیب دیا۔
انسان اور حیوانات کے درمیان رشتہ:
انہوں نے حیوانات اور انسان کے تعلق پر بھی بات کی:
“جانوروں میں، گھونگھا پودوں کے قریب ترین ہے، جبکہ ہاتھی سب سے ذہین اور انسان سے قریب ترین مخلوق ہے۔”
ان کے مطابق، یہ درجہ بندی عقلی و اندرونی صفات کی بنیاد پر تھی، نہ کہ جسمانی مشابہت پر۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بندر کے بجائے ہاتھی کو انسان کے قریب تر قرار دیا۔
تخلیق کی ترتیب اور انسانی برتری:
اخوان الصفاء کے مطابق، تمام زندگی رفتہ رفتہ ترقی کرتی ہے، اور انسان سب سے آخری اور کامل مخلوق ہے۔ وہ کہتے ہیں:
“نامکمل جانور کامل جانوروں سے پہلے وجود میں آئے۔ خدا نے جانوروں کو انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا، اور ان کو وہ تمام اعضا و صلاحیتیں عطا کیں جو انہیں بقاء کے لیے درکار تھیں۔”
انہوں نے مزید کہا:
“پودے حیوانات سے پہلے آئے، جیسے جمادات پودوں سے پہلے آئے۔ اور ہر سطح کی مخلوق اس سے اعلیٰ سطح کی مخلوق کی خوراک اور مواد بنتی ہے، جیسے ماں اپنے بچے کے لیے غذا تیار کرتی ہے۔”
کیا اخوان الصفاء ارتقاء کے حامی تھے؟
اگرچہ بعض اسکالرز نے اخوان الصفاء کو ارتقاء کے حامی قرار دیا ہے، مگر سید حسین نصر کہتے ہیں کہ:
“اخوان الصفاء کے خیالات جدید نظریاتِ ارتقاء سے مختلف ہیں۔ ان کے نزدیک تمام اقسام اور انواع الٰہی ارادے سے طے شدہ اور محفوظ ہیں؛ کوئی نوع (سپیشیز) کسی دوسری نوع میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔”
لہٰذا، اگرچہ اخوان الصفاء تسلسل، ترتیب، اور ترقی کے قائل تھے، لیکن وہ (انوع کی) ارتقائی تبدیلی کے قائل نہ تھے؛ وہ اسے “اللہ کے فیض” اور “ہمہ گیر روح” کے تحت ایک شعوری اور مقدس عمل سمجھتے تھے۔
البیرونی (Al-Beruni)
ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی (973–1048ء) گیارہویں صدی کے ایک ممتاز مسلمان عالم تھے، جن کا تعلق موجودہ ترکمانستان اور ازبکستان کے علاقوں سے تھا۔ وہ ایک ماہرِ فلکیات، ریاضی دان، جغرافیہ دان، مورخ، اور فلسفی تھے۔ البیرونی نے ہندوستان کا سفر کیا اور وہاں سنسکرت زبان سیکھی تاکہ ہندو علوم کو عرب دنیا میں متعارف کرا سکیں۔
ان کی سب سے مشہور کتاب “کتاب الهند“ کہلاتی ہے، جس میں انہوں نے ہندو مذہب اور فلسفے کا غیر جانب دار جائزہ لیا ۔ وہ فطرت کے مطالعے کو مذہبی فرض قرار دیتے تھے، اور اس سلسلے میں قرآن و سنت کے ساتھ سائنسی مشاہدات کو بھی یکجا کرتے تھے۔

البیرونی کا نظریہ: فطری انتخاب اور ارتقائی ترقی
“فطرت، ناموزوں اور کمزور جانداروں کو ختم کرکے موزوں، زیادہ انطباق پذیر جانداروں کو باقی رکھتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسان اور مالی اچھے بیج اور پودے چنتے ہیں۔”
یہ تصور ڈارون کے “فطری انتخاب” (نیچرل سلیکشن) اور “بقاء کا اصول” (سروائول آف دی فٹسٹ) سے گہری مماثلت رکھتا ہے، جسے البیرونی نے آٹھ سو سال قبل بیان کیا تھا۔
انسان کی ارتقائی ترقی
البیرونی نے اپنی کتاب کتاب الجماہیر میں انسانی ارتقاء کا نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق:
“انسان نے معدنی، نباتاتی اور حیوانی سلطنتوں کا سفر طے کیا ہے تاکہ وہ کمال تک پہنچ سکے، اور وہ اپنے اندر ان تمام کنگ ڈمزکی خصوصیات رکھتا ہے۔”
انہوں نے لکھا:
“انسان اپنی موجودہ حالت تک پہنچنے سے پہلے کتے جیسے، ریچھ جیسے، بندر جیسے جانداروں کے مراحل سے گزرا ہے۔”
یہ خیال جدید سائنسی نظریے سے ہم آہنگ ہے کہ انسان کے جسم اور جینیاتی ساخت میں اس کے قدیم ارتقائی آبا کے نشانات موجود ہیں۔
آبادی اور وسائل کا ارتقائی دباؤ
البیرونی نے “چار مظاہر” کی وضاحت کی، جو ارتقائی عمل کی بنیاد بناتے ہیں:
- “دنیا کی زندگی کا انحصار بیج بونے اور نسل بڑھانے پر ہے۔ یہ عمل مسلسل بڑھتا ہے، جبکہ زمین محدود ہے۔”
- “جب ایک نباتاتی یا حیوانی نوع اپنی مکمل ساخت حاصل کر لیتی ہے، اور اپنے جیسے دوسرے افراد پیدا کرنے کے قابل ہو جاتی ہے، تو وہ نوع زمین پر پھیل جاتی ہے۔”
- “کسان اپنی فصل سے اچھے پودے رکھتا ہے اور باقی کو نکال دیتا ہے؛ شہد کی مکھیاں سست کام کرنے والی مکھیوں کو مار ڈالتی ہیں۔”
- “فطرت بھی ایسا ہی کرتی ہے؛ وہ پرانے پتوں اور پھلوں کو گرا کر نئے کی جگہ بناتی ہے۔”
یہ تمام خیالات نہ صرف ڈارون کے نظریے سے مماثلت رکھتے ہیں، بلکہ اس سے بھی کہیں پہلے پیش کیے گئے تھے۔
اللہ کی حکمت اور نامکمل ساخت کی وضاحت
البیرونی نے یہ بھی وضاحت کی کہ اگر فطرت کسی جاندار کی ساخت کو مکمل نہ کر سکے، تو وہ اس میں ایسی تبدیلی کر دیتی ہے کہ وہ کمی نمایاں نہ رہے:
“جب فطرت کو وہ مادہ نہ ملے جس سے وہ مکمل ساخت تشکیل دے، تو وہ اس جاندار کو ایسی شکل دیتی ہے جو نقص کو چھپا لے، اور پھر بھی اس میں زندگی کی طاقت برقرار رکھے۔”
وہ لکھتے ہیں کہ ایسی “غیر معمولی صورتیں” بھی اللہ کی حکمت کا مظہر ہیں:
“جب ہم فطرت کے کسی عمل میں خامی دیکھتے ہیں، تو یہ دراصل اس خالق کی برتری کی علامت ہے جو ہمارے محدود فہم سے ماورا ہے۔”
ابنِ طفیل (Ibn Tufayl)
ابو بکر ابنِ طفیل (1110–1185ء)، اندلس (موجودہ اسپین) کے ایک ممتاز مسلم فلسفی، طبیب اور ماہر فلکیات تھے۔ وہ غرناطہ کے قریب شہر “وادی آش” میں پیدا ہوئے۔ وہ مشہور مسلم فلسفی ابن رشد کے استاد بھی تھے ۔

ابنِ طفیل کی شہرت ان کی مشہور فلسفیانہ داستان “حی بن یَقظان“ سے ہے، جس کا مطلب ہے:
“زندہ، بیدار بیٹے کی کہانی“
یہ کتاب مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے، جیسے انگریزی میں
Philosophus Autodidactus اور The Journey of the Soul۔
کتاب کی نوعیت اور اثرات
یہ کہانی ایک ایسے لڑکے حی کی داستان ہے جو ایک غیر آباد جزیرے پر جانوروں کے درمیان اکیلا پلتا ہے۔ وہ فطرت کا مشاہدہ کرتا ہے، علم حاصل کرتا ہے، جانوروں کو قابو میں کرتا ہے، اور فکری و روحانی بیداری تک پہنچتا ہے۔
یہ کہانی صرف ادبی نہیں بلکہ سائنسی، فلسفیانہ، اور ارتقائی مفاہیم سے بھرپور ہے۔
بعض مؤرخین کے مطابق، یہ کہانی ڈینیئل ڈیفو کے مشہور ناول
Robinson Crusoe اور رڈیارڈ کپلنگ کی The Jungle Book
پر بھی اثر انداز ہوئی۔
زندگی کی ابتدا کا نظریہ
ابن طفیل کے مطابق، حی نامی لڑکا جزیرے کی ایک دلدلی جگہ پر مٹی، حرارت اور نمی کی آمیزش سے خودبخود پیدا ہوتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“یہ مٹی پانی کی بوندوں پر اُبلتے بلبلوں کی طرح جوش کھا رہی تھی… اسی سے وہ جسمانی ڈھانچہ ابھرا جس میں زندگی پیدا ہوئی۔”
کچھ محقیقین کے مطابق، یہ خیال جدید بایوجینیسس کے نظریے جیسا ہے، یعنی زندگی بے جان مادہ (غیر نامیاتی) سے ارتقائی طور پر پیدا ہوئی۔
یہ خیال قرآن کی ان آیات سے بھی مشابہ ہے جن میں کہا گیا ہے کہ انسان کو مٹی اور پانی سے پیدا کیا گیا (مثلاً سورۃ المومنون 23:12–14؛ سورۃ الانبیاء 21:30)۔
ارتقائی وقت کی طوالت کا اعتراف
ابن طفیل اس بات کا شعور رکھتے تھے کہ زندگی کا ارتقاء راتوں رات نہیں ہوتا۔ وہ لکھتے ہیں:
“زندگی کا ظہور آہستہ آہستہ، طویل وقت میں ہوتا ہے؛ کوئی بھی چیز فوراً مکمل نہیں ہوتی۔”
یہ تصور جدید نظریات کے بہت مماثل ہے، جن کے مطابق زندگی گرم، کیمیائی مرکب والے تالابوں (گرم چشموں) میں لاکھوں سال میں پیدا ہوئی۔
فطرت کی مشاہداتی تحقیق اور سائنسی عمل
حی نہ صرف جانوروں کو مشاہدہ کرتا ہے بلکہ مردہ جانوروں کے جسم کا تجزیہ بھی کرتا ہے تاکہ زندگی کے اصول کو سمجھے۔ وہ تجربات اور مشاہدات کے ذریعے نتائج اخذ کرتا ہے۔
“ابن طفیل کی کہانی میں علم حاصل کرنے کا طریقہ مشاہدہ، تجربہ اور تفکر پر مبنی ہے؛ یہ آج کے سائنسی طریقۂ کار کا ابتدائی خاکہ پیش کرتی ہے۔”
حیوانات کی خصوصیات سے سیکھنا
حی جانوروں میں قدرتی ہتھیار دیکھ کر سوچتا ہے کہ اس کے پاس دفاع کا کوئی ذریعہ نہیں۔ وہ پھر پتھر اور لکڑی کے ذریعے ہتھیار، اوزار، اور لباس بناتا ہے، جانوروں کو سدھاتا ہے، سواری کے لیے گھوڑے اور خچر قابو میں لاتا ہے۔
ابن طفیل لکھتے ہیں:
“اگرچہ اس کے پاس قدرتی ہتھیار نہیں تھے، لیکن اس نے خود وہ تمام چیزیں بنائیں جن سے وہ اپنا دفاع کر سکے… اس نے جانوروں کو قابو میں لا کر اپنا معاون بنایا۔”
کیا ابن طفیل ارتقائی مفکر تھے؟
“اگرچہ ابن طفیل نے واضح طور پر ارتقائی نظریہ پیش نہیں کیا، لیکن ان کے خیالات میں فطری ارتقاء، خودبخود تخلیق، اور حیاتیاتی تبدیلی کے مضبوط اشارات موجود ہیں۔”
وہ “انسانی عقل کی برتری” کو انسانی ارتقاء کا نقطہِ کمال قرار دیتے ہیں، اور مادی سے روحانی ترقی کو ایک فطری سلسلہ سمجھتے ہیں۔
نظامی عروضی (Nidhami Arudi)
نظامی عروضی سمرقندی ایک فارسی شاعر، نثر نگار، اور درباری عالم تھے جنہوں نے بارہویں صدی میں خراسان (موجودہ ایران و افغانستان کے کچھ حصے) میں زندگی گزاری۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف “چہار مقالہ“ ہے۔ اس کتاب میں وہ شاعری، علم، طب، اور علم نجوم جیسے مضامین پر گفتگو کرتے ہیں۔
ارتقائی نظریات کی جھلک
اگرچہ نظامی عروضی کی توجہ زیادہ تر ادب، فلسفہ، اور علم فلکیات پر تھی، تاہم “چہار مقالہ“ میں وہ زندگی کی ابتداء اور اس کی ارتقائی پیش رفت پر بھی خیالات پیش کرتے ہیں، جو ان کے دور کے لحاظ سے حیرت انگیز طور پر جدید معلوم ہوتے ہیں۔ نظامی عروضی کا نظریہ درج ذیل تسلسل پر مبنی ہے:
“جب اللہ تعالیٰ نے اولین عناصر—پانی، مٹی، ہوا اور آگ—کو پیدا کیا، تو ان سے مختلف اقسام کے معدنیات وجود میں آئے۔ ان معدنیات سے پودے بنے، پھر جانور پیدا ہوئے، اور بالآخر انسان وجود میں آیا۔”
یہ نظریہ اس بات کا اظہار ہے کہ زندگی نے بے جان مادہ سے سفر شروع کیا، پھر بتدریج نباتاتی، پھر حیوانی اور آخر میں انسانی سطح تک ارتقاء کیا۔
انسانی ترقی اور علم کا ارتقائی سفر
نظامی عروضی کے مطابق، انسان محض جسمانی ترقی تک محدود نہیں بلکہ علم، عقل، اور روحانی کمال تک بھی ارتقاء کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“انسان نہ صرف شکل و صورت میں دیگر مخلوقات سے افضل ہے بلکہ عقل و فہم میں بھی سب سے برتر ہے۔ اور یہی عقل اسے دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہے۔”
یہ خیال ارسطو اور ابن مسکویہ جیسے مفکرین سے متاثر نظر آتا ہے، جو انسانی شعور کو ارتقاء کی آخری منزل قرار دیتے تھے۔
علمی تسلسل اور ماقبل اسلامی روایت کا انضمام
نظامی عروضی نے اپنے خیالات میں زرتشتی، یونانی اور اسلامی روایات کا امتزاج کیا۔ وہ فطرت کے مشاہدے کو مذہبی اور فلسفیانہ تفکر کے ساتھ جوڑتے تھے، جو اس دور میں ایک نایاب امتزاج تھا۔
کیا وہ ڈارون سے پہلے کا ارتقائی مفکر تھا؟
اگرچہ نظامی عروضی نے ارتقاء کو جدید سائنسی اصطلاحات میں بیان نہیں کیا، مگر ان کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ارتقائی تسلسل کے قائل تھے—یعنی زندگی کی ابتداء سادہ مخلوقات سے ہوئی اور پھر ترقی کرتی گئی۔
“نظامی عروضی کے خیالات سادہ فلسفیانہ اظہار میں جدید ارتقائی تصورات کی جھلک دیتے ہیں، اگرچہ ان میں سائنسی تفصیلات یا تجرباتی بنیادیں نہیں پائی جاتیں۔”
نصیر الدین طوسی (Nasir al-Din al-Tusi)
خواجہ نصیر الدین طوسی (1201–1274ء) تیرہویں صدی کے مشہور فارسی فلسفی، ماہرِ فلکیات، ریاضی دان، اور عالم تھے۔ وہ نہ صرف اسلامی دنیا کے ممتاز مفکر تھے بلکہ منگول دور کے سیاسی اور علمی حلقوں میں بھی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ انہوں نے مراغہ میں ایک مشہور رصدگاہ قائم کی، جو اس وقت کے سائنسی ترقی کے مرکزوں میں سے ایک تھی۔
ارتقائی نظریہ: منظم، فکری، اور سائنسی طرز پر
طوسی نے “اخلاقِ ناصری” نامی کتاب میں ارتقاء سے متعلق اپنے نظریات کو تفصیل سے بیان کیا، جو نہ صرف اخلاقیات اور سماجی فلسفہ پر ہے بلکہ حیاتیاتی نظریات بھی پیش کرتی ہے۔
طوسی لکھتے ہیں:
“قدرت نے مخلوقات کو اس طرح پیدا کیا کہ وہ رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔ سب سے پہلے جمادات، پھر نباتات، اس کے بعد حیوانات، اور بالآخر انسان۔”
یہ نظریہ درجہ بہ درجہ ارتقاء کا تصور پیش کرتا ہے، جو جدید ارتقائی حیاتیات کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔
قدرتی انتخاب اور انطباق (Adaptation)
طوسی لکھتے ہیں:
“مخلوقات میں جو سب سے زیادہ موزوں، متوازن اور ماحول سے ہم آہنگ ہو، وہی باقی رہتی ہے؛ جو ناموزوں ہو، وہ ختم ہو جاتی ہے۔”
یہ بالکل وہی تصور ہے جسے چارلس ڈارون نے چھ صدیوں بعد “نیچرل سلیکشن” کے نام سے بیان کیا۔
نفسیاتی، جسمانی، اور سماجی ارتقاء
طوسی کے مطابق، ارتقاء صرف جسمانی تبدیلیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں شعور، عقل، اور معاشرتی رویے بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
“انسان حیوانات سے اس لیے ممتاز ہے کہ اس کے اندر عقل ہے، جو اسے انصاف، قانون، اور سماجی ڈھانچہ قائم کرنے کے قابل بناتی ہے۔”
یہ خیال ارتقاء کو محض حیاتیاتی عمل کے بجائے ہمہ جہتی ترقی کے طور پر پیش کرتا ہے۔
مخلوقات کے درجہ وار خصائص
طوسی نے ارتقائی عمل کو چار بنیادی مراحل میں بیان کیا:
- جمادات: غیر جاندار اشیاء جن میں حرکت نہیں۔
- نباتات: حرکت نہیں مگر نشوونما اور تولید کی صلاحیت۔
- حیوانات: حرکت اور حواسِ خمسہ موجود۔
- انسان: تمام سابقہ خصوصیات کے ساتھ عقل اور شعور۔
مثال: بندر اور انسان کے درمیان قربت
طوسی نے یہ بھی کہا کہ:
“انسان کی سب سے قریبی حیوانی شکل بندر ہے، جو کہ جسمانی ساخت، رویے، اور حواس میں انسان سے بہت مشابہ ہے۔”
یہ خیال نہایت حد تک جدید ارتقائی درجہ بندی سے ہم آہنگ ہے، جہاں پرایمیٹ کنبہ میں بندر اور انسان کا مشترک ارتقائی جد (انسیسٹر) مانا جاتا ہے۔
ارتقاء کا مذہبی فریم ورک
اگرچہ طوسی نے ارتقاء کو ایک سائنسی اور عقلی انداز میں بیان کیا، لیکن اس کی بنیاد ہمیشہ اللہ کی حکمت اور ارادہ پر رکھی۔ ان کے نزدیک ارتقائی تبدیلیاں “فطرت” کی جانب سے انجام دی جاتی ہیں، لیکن فطرت بھی خالق کے حکم کی پابند ہے۔
ابن خلدون (Ibn Khaldun)
ابو زید عبد الرحمٰن بن محمد بن خلدون (1332–1406ء) تیونس میں پیدا ہوئے اور انہیں عموماً تاریخ نویسی، سماجیات اور عمرانیات کا بانی مانا جاتا ہے۔ ان کی مشہور ترین کتاب “المقدمہ“ ہے، جو دراصل ان کی تاریخ کی کتاب کتاب العبر کا تمہیدی مقدمہ ہے، لیکن خود ایک مکمل اور خودمختار علمی ذخیرہ سمجھی جاتی ہے۔
ابن خلدون نے نہ صرف انسانی تہذیب و تمدن کی تشریح کی، بلکہ فطرت، انسانی نفسیات، معیشت، تعلیم، اور ارتقاء جیسے موضوعات پر بھی بصیرت افروز خیالات پیش کیے۔
درجہ وار ارتقاء کا نظریہ
ابن خلدون المقدمہ میں تحریر کرتے ہیں:
“پوری تخلیق تدریج کے ساتھ وجود میں آئی… ابتدائی مرحلہ معدنیات کا ہے… پھر نباتات… پھر حیوانات… اور بالآخر انسان۔”
“اس تسلسل کی آخری کڑی بندر ہے، جو انسان سے صرف شعور و تفکر میں مختلف ہے۔”
یہ تصور تقریباً وہی ہے جو بعد میں چارلس ڈارون کے نظریے میں پرائمیٹ انسیسٹری کی صورت میں ظاہر ہوا۔
ارتقاء اور شعور
ابن خلدون کے مطابق، انسان حیوانات کی ارتقائی کڑیوں میں سب سے آخری ہے، اور اس میں “شعور”، “عقل”، اور “زبان” جیسی اعلیٰ صفات شامل ہوتی ہیں جو اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
“اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو تدریجاً ترقی دی، یہاں تک کہ وہ انسان کی صورت میں عقلی مخلوق تک پہنچیں… ہر نئی مخلوق گزشتہ سے بہتر، زیادہ کامل، اور پیچیدہ ہے۔”
ارتقائی عمل بمقابلہ الٰہی ارادہ
ابن خلدون کی ارتقائی سوچ سائنسی مشاہدے اور عقلی تفکر پر مبنی تھی، لیکن انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ یہ سب اللہ کی حکمت و مشیت سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک فطرت اللہ کے قانون کا آلہ ہے۔
جدید مفکرین کی آراء
“ابن خلدون کا نظریہ ارتقاء، جس میں انواع کی تدریجی ترقی کو عقلی و جسمانی دونوں پہلوؤں سے بیان کیا گیا ہے، سائنسی ارتقاء کی ابتدائی اور مضبوط مثال ہے۔”
“ابن خلدون شاید پہلا مسلم مفکر تھا جس نے انسانی معاشرتی ترقی کو بھی ارتقائی انداز میں بیان کیا؛ انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ نہ صرف حیاتیاتی بلکہ سماجی نظام بھی ارتقاء سے گزرتے ہیں۔”

| آٹھ مسلم مفکرین کے ارتقائی خیالات کا خلاصہ | |||
| جدید مماثلت/نظریہ | ارتقائی تصور کی نوعیت | زمانہ | مفکر |
| Natural Selection, Variation | فطری انتخاب، بقاء کی جدوجہد، اقسام کا ارتقاء | آٹھویں صدی | الجاحظ |
| Gradual Evolution, Common Ancestry | انواع کی ترقی، بندر سے انسان کی نشوونما | دسویں صدی | ابن مسکویہ |
| Scala Naturae, Spiritual Evolution | فطری تسلسل، شعوری ارتقاء، نوع کی تبدیلی کا انکار | دسویں صدی | اخوان الصفاء |
| Evolutionary Fitness, Vestigial Traits | فطری انتخاب، تبدیلی، انطباق، انسانی خصوصیات کا ارتقائی سفر | گیارہویں صدی | البیرونی |
| Spontaneous Generation, Scientific Inquiry | فطری بایوجینیسس، تدریجی تخلیق، تجرباتی علم | بارہویں صدی | ابن طفیل |
| Primitive Evolution Model | ابتدائی مادہ سے نباتات، حیوانات اور پھر انسان تک ترقی | بارہویں صدی | نظامی عروضی |
| Adaptation, Natural Selection | انطباق، فطری انتخاب، حیوانات اور انسان کی مماثلت | تیرہویں صدی | نصیر الدین طوسی |
| Gradualism, Social Evolution | درجہ وار ارتقاء، شعور و عقل کی ترقی، معاشرتی ارتقاء | چودھویں صدی | ابن خلدون |
اختتامیہ
اس مقالے میں ہم نے ڈارون سے پانچ تا نو صدیاں قبل کے آٹھ نمایاں مسلم مفکرین کے ارتقائی خیالات کو پیش کیا۔ ان میں سے ہر ایک نے فطرت، مخلوقات، اور زندگی کے تسلسل پر مبنی نظریات بیان کیے جو جدید ارتقائی حیاتیات کے بنیادی اصولوں سے غیر معمولی مماثلت رکھتے ہیں۔ بعض نے ارتقائی تسلسل کو روحانی اور فلسفیانہ فریم ورک میں بیان کیا، جبکہ بعض نے اسے مشاہدے اور سائنسی فکر کے ساتھ جوڑا۔
ان مفکرین کی تحریریں یہ واضح کرتی ہیں کہ ارتقاء ایک ایسا نظریہ ہے جو صرف مغربی روایت تک محدود نہیں، بلکہ اسلامی علمی ورثے میں بھی اس کے مضبوط نقوش پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان تمام مفکرین نے اپنے خیالات کو مذہبی سیاق میں پیش کیا، مگر ان کی تحریریں سائنسی بنیاد رکھنے والے جدید ارتقائی خیالات سے مطابقت رکھتی ہیں۔
اہم نکات:
- الجاحظ اور البیرونی جیسے مفکرین نے فطری انتخاب (Natural Selection) جیسے خیالات پیش کیے، جو ڈارون سے کئی صدیاں پہلے لکھے گئے۔
- ابنِ مسکویہ، طوسی، اور ابن خلدون نے بندر سے انسان کے ارتقاء اور عقل کی برتری کو بیان کیا۔
- اخوان الصفاء اور ابن طفیل نے زندگی کی ابتداء، ارتقائی ترقی، اور شعوری بیداری کو فلسفیانہ اور روحانی انداز میں پیش کیا۔
- ان سب مفکرین میں تدریجی تبدیلی، فطری تسلسل، اور عقل کی ترقی کو ارتقاء کا حصہ مانا گیا۔
کیوں یہ تاریخ اہم ہے؟
موجودہ دور میں، بالخصوص مسلم دنیا میں، ارتقاء ایک متنازع موضوع بن چکا ہے، جو اکثر مذہب سے ٹکراؤ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ مقالہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی سائنسی ورثے میں ارتقائی فکر صدیوں پر محیط ہے، اور اس کا مقصد نہ صرف مخلوقات کی تفہیم ہے بلکہ اللہ کی حکمت کو پہچاننا بھی ہے۔
لہٰذا، اس تاریخی تسلسل کو اجاگر کرنا نہایت اہم ہے تاکہ:
- غیر مغربی دنیا کے سائنسی کردار کو تسلیم کیا جا سکے؛
- مسلم نوجوانوں میں ارتقائی حیاتیات کا خوف کم ہو؛
- اور علمی انصاف کی بحالی ہو، جیسا کہ جان ولیم ڈریپر نے اُمید کی تھی۔
مصنف کا تعارف

ڈاکٹر روئی ڈیوگو
روئی ڈیوگو ایک مشہور محقق، مقرر اور مصنف ہیں جنہیں کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ وہ بڑے سائنسی چیلنجز اور سماجی مسائل پر بات کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ان کا کام بہت وسیع ہے، جس میں 20 کتابیں اور ممتاز سائنسی جرائد میں 160 سے زیادہ تحقیقی مقالے شامل ہیں۔ انسان کے ارتقاء پر ان کی غیر معمولی تحقیق نے دنیا بھر میں بڑی پہچان حاصل کی ہے اور بی بی سی، سی این این، اور نیو یارک ٹائمز جیسے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی ہے۔ ان کی تحقیق کے بارے میں 50 سے زیادہ ممالک میں 600 سے زیادہ میڈیا رپورٹس شائع ہو چکی ہیں۔ وہ مختلف قسم کے لوگوں سے جڑنے کے لیے کئی ٹی وی انٹرویوز، دستاویزی فلموں، ٹیڈ ٹاکس اور ریڈیو شوز میں حصہ لے چکے ہیں اور دنیا بھر کے میڈیا اداروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کا تحقیقی تجربہ افریقہ اور ایشیا کے دور دراز علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، اور وہ اب تک تقریباً 150 ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ وہ روایتی سوچ کو چیلنج کرنے اور شمولیت کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہیں، اور ان کا کام انسان کے ارتقاء، حیاتیات اور تنوع کے بارے میں عالمی گفتگو پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔
یہ مضمون ذیل میں دیئے گئے تحقیقی مقالے کا اردو ترجمہ ہے:
An untold story in biology: the historical continuity of evolutionary ideas of Muslim scholars from the 8th century to Darwin’s time
https://www.tandfonline.com/doi/abs/10.1080/00219266.2016.1268190
