غزہ پر اسرائیلی محاصرہ 2007 سے بلاتعطل جاری ہے، اور مارچ 2025 سے اسے مزید شدید کر دیا گیا، جس نے انسانی امداد کی ترسیل تقریباً روک دی ہے۔ اقوام متحدہ کی IPC رپورٹ (اگست 2025) نے شمالی غزہ میں قحط کی تصدیق کی ہے، جبکہ تقریباً 530,000 افراد (کل آبادی کا 25%) شدید بھوک (IPC فیز 5) کا شکار ہیں۔ یونیسف کے مطابق 2025 میں غذائی قلت سے اب تک 165 سے زائد بچوں کی موت ہو چکی ہے، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح سولہ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ غزہ شہر اور شمالی پٹی میں بچوں میں شدید غذائی قلت کے کیسز 2024 کے مقابلے میں 4-5 گنا بڑھ گئے ہیں۔ یہ صورتحال سائنسی طور پر قحط کی واضح علامت ہے اور لاکھوں افراد کو طویل مدتی جسمانی و نفسیاتی نقصان کا سامنا ہے۔
آج ہم قحط کے سائنسی پہلوؤں پر بات کریں گے۔ آپ کہیں گے کہ قحط اور خشک سالی کا بھلا سائنس سے کیا تعلق؟ قحط تو شاید ایک قدرتی آفت ہے، کبھی کبھار ایسی صورتحال خود بخود بن جاتی ہے اور ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ تاریخ کے تجزیے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر جگہوں پر قحط انسانی ساختہ آفت تھی۔ بھارت میں قحط پر تحقیق کرنے والے نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات امرتیہ سین نے کہا تھا کہ “قحط کا مطلب ہے کہ لوگ اسلیے مر رہے ہیں کہ خوراک ان کی دسترس میں نہیں ہے، اسلیے نہیں کہ خوراک موجود ہی نہیں ہے۔ (1)” دوسرے لفظوں میں جب لوگ بھوکے مر رہے ہوں تو خوراک آس پاس ہی کہیں موجود ہوتی ہے۔ مسئلہ وسائل کی دستیابی کا نہیں، بلکہ وسائل پر قبضے کا ہے۔ چنانچہ قحط سے مرنے والوں کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیئے۔
بعض دفعہ حکومتیں بھوکے مرنے والے لوگوں کو امداد فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہتی ہیں۔ دیگر واقعات میں، ان کی پالیسیاں ہوتی ہیں جو دانستہ طور پر لوگوں کو بھوکا مار دیتی ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال سٹالن کی اشتراکی ملکیت (collectivism) اور اس کے بعد کا دہشت کا دور (great purge) ہے، جس نے 1932 اور 1933 کے درمیان لاکھوں یوکرینیوں اور روسیوں کو ہلاک کیا۔ چین میں ماؤ کی تحریک “آگے کی طرف عظیم چھلانگ” (great leap forward) بھی ایسی ہی مثال ہے جس کی وجہ سے 1950 کی دہائی کے آخر میں آنے والے قحط نے ایک کروڑ تک چینی باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ عالمی منڈی میں، مارکیٹ کی قوتیں (market forces) قحط کا سبب بن سکتی ہیں۔ مثلا جب لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے کافی خوراک موجود ہو لیکن ان میں قوت خرید (purchasing power) نہ رہے۔ قلت یا صرف خوف کی وجہ سے بھی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، پھر جو لوگ ادائیگی کی استطاعت رکھتے ہیں وہ وسائل جمع کر لیتے ہیں اور جو لوگ ادائیگی نہیں کر سکتے وہ بھوکے مرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات بھی قلت پیدا کر سکتی ہیں، لیکن ذخیرہ اندوزی حالات کو بہت زیادہ بدتر بنا دیتی ہے۔ جیسے، پنجاب کے حالیہ سیلاب کے بعد چاول اور گندم کی قیمت میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ظاہر ہے جب قحط کی بات آتی ہے، تو یہ صرف انسانوں کا کیا دھرا نہیں ہوتا۔ اس میں موسم کا کردار بھی اہم ہے۔ نقشے پر نظر دوڑائیں تو آپ دیکھیں گے کہ قحط اکثر ان علاقوں میں آتے ہیں جنہیں مورخین ‘عالمی جنوب’ (global south) کہتے ہیں۔ شاید اسے ‘خشک سالی کی پٹی’ کہا جا سکتا ہے یا سادہ لفظوں میں، زمین کا جنوبی نصف کرہ۔ جنوبی عرض بلد زمین پر موسموں کے ایک بڑے سسٹم “ایل نینیو” سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایل نینیو ہوا اور بارش کے نظام کو متاثر کرتا ہے اور یہ ایشیا، افریقہ اور شمال مشرقی جنوبی امریکہ کے حصوں میں معمول سے کم مون سون بارشوں اور خشک سالی کا باعث بنتا ہے۔ (ویسے، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شمال مشرقی جنوبی امریکہ واقعی کوئی نام ہے؟ جی ہاں، یہ درست ہے۔ شاید مورخین ایسے نام رکھتے ہوئے سوچتے بالکل نہیں ہیں)۔ معمول سے کم مون سون ایشیا میں زراعت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر بہار کی بارشیں نہ آئیں تو گندم کی فصل خراب ہو جائے گی اور اگر موسم گرما کا مون سون ناکام ہو جائے تو پورے سال کی فصل ضائع ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایل نینیو مشرقی افریقہ میں قحط کا سبب بننے میں بھی معاون ہوتا ہے، جہاں یہ بارشوں کے تغیر میں تقریباً پچاس فیصد حصہ ڈالتا ہے۔
شاید ایل نینیو نے 1957 سے 1959 کے درمیان چین میں آنے والے مشہور قحط میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہوگا۔ لیکن یہاں ہم کم معروف غذائی آفات پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کریں گے۔ خاص طور پر وہ جو انیسویں صدی کے اواخر میں برصغیر میں رونما ہوئیں۔ برصغیر انیسویں صدی میں برطانیہ کی سب سے زیادہ آبادی والی اور سب سے اہم کالونی تھی اور ساتھ ہی یہ اس نظام کی سب سے بڑی نوآبادیاتی تباہی کا منظر بھی بنا، یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ انیسویں صدی کی آخری سہ ماہی میں برصغیر کو متاثر کرنے والے قحط نے کروڑوں (ایک اندازے کے مطابق چھے کروڑ) جانیں لیں۔ اور اس تباہی میں منڈی کی قوتوں، حکومتی پالیسی، نظریاتی گراوٹ اور خراب موسم، سبھی کا ایک خونیں امتزاج نظر آتا ہے۔ اگر اس تباہی کا الزام آپ صرف ایل نینیو کے موسمی تغیرات پر ڈال کر باقی تمام ذمہ داروں کو بری کر دیں تو یہ تاریخی کوتاہ نظری ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ایل نینیو بھی آتے رہتے ہیں جن کے نتیجے میں قحط نہیں پڑتا اور ایسے قحط بھی ہیں جو ایل نینیو کی وجہ سے نہیں ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت – اور درحقیقت کوئی بھی دوسرا کام کرتے وقت – ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی بڑا عامل ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ ہمیں بڑی تباہیوں یا خوفناک واقعات کی کوئی ایک بنیادی وجہ ڈھونڈنے کی خواہش ہوتی ہے۔ ایک بڑا حقیقی مسئلہ ڈھونڈ کر شاید ہم اس کا حل پیش کر کے مسئلے کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن معاملات اتنے سیدھے نہیں ہوتے۔ حقیقت ہمیشہ پیچیدہ اور مختلف عوامل کا مجموعہ ہوتی ہے۔ تو واقعہ یہ ہے کہ تقریباً 1800 تک، برصغیر ٹیکسٹائل کی پیداوار میں دنیا میں سب سے آگے تھا۔ صنعت میں لاکھوں لوگ اجرت پر کام کرتے تھے۔ یہ اجرت گرچہ بہت زیادہ نہیں تھی، لیکن بھوکا مرنے کی حد سے تو بہر حال کافی زیادہ ہی تھی۔ ایسا اسلیے تھا کہ خوراک کی قیمتیں کم تھیں کیونکہ برصغیر زراعت میں خود کفیل تھا۔ اور پھر، انگریز آ گئے۔
جونہی برطانیہ میں انجن کی ایجاد کے بعد صنعتی پیداوار میں تیزی آئی، برصغیر کی دستکاری پر مبنی ٹیکسٹائل صنعت ختم ہو گئی۔ صنعتوں میں کام کرنے والے مزدور برآمد کے لیے کپاس اگانے کی طرف مائل ہو گئے۔ اس کے لیے زمین، بیج اور کھاد کی ضرورت تھی، جس پر پیسہ خرچ ہوتا تھا۔ اور یوں کپاس کے کسان قرض تلے دبتے گئے۔ حکومتی پالیسی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا، خاص طور پر خراج (ٹیکس) کی پالیسیاں۔ یہاں یہ وضاحت ہونی چاہیئے کہ ٹیکس کے پیسے اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات (انفرا سٹرکچر) کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن ٹیکس عوام کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں جب وہ کمزوروں سے زبردستی اکٹھے کیے جائیں۔ برطانیہ کے زیر قبضہ برصغیر میں نوآبادیاتی ٹیکسوں نے کسانوں اور یہاں کی معیشت کی کمر توڑ دی اور انہیں منڈی میں مقابلے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیونکہ یہ ٹِیکس نقد ادا کرنا پڑتا تھا۔ یوں قرض کی ادائیگی اور ٹیکسوں کی وجہ سے، برصغیر کے کسانوں کو ایک نفع بخش فصل (cash crop) کی ضرورت تھی یعنی کپاس۔ چنانچہ لوگ کپاس کے لیے مزید زمین مختص کرتے گئے اور خوراک کے لیے ہر سال کم سے کم۔
1876 سے 1878 کے ایل نینیو خشک سالی کے دوران، برطانوی انتظامیہ نے ٹیکس وصولی جاری رکھی جس کا مطلب تھا کہ برصغیر کے کسانوں کو خوراک کے بجائے کپاس پر مجبورا انحصار کرنا پڑا۔ جب بیسویں صدی کے موڑ پر خشک سالی دوبارہ ہوئی، تو انگریزوں نے ٹیکسوں میں چوبیس فیصد اضافہ کیا اور پھر ادائیگی سے انکار کرنے والے کسانوں کی زمینیں ضبط کر لی گئیں۔ یہ ٹیکس زیادہ تر برطانوی فوج پر خرچ ہوتے تھے اور یہاں کے لوگوں کو شاذ و نادر ہی کوئی فائدہ ہوتا تھا۔ انگریزوں نے اگر ٹیکس یہاں خرچ کیا بھی تو صرف ریلوے پر۔ کیا یہ کوئی احسان تھا؟ قحط کے دوران ریل کا فائدہ ہو سکتا تھا۔ اناج کو ان علاقوں تک پہنچایا جا سکتا تھا جہاں اس کی اشد ضرورت تھی۔ لیکن ریلوے تو خام مال کو بڑی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ، ایک مورخ کا کہنا ہے کہ 1876 سے 1878 کے قحط کے دوران: “جن اضلاع میں ریلوے کی سہولت میسر تھی، وہاں کی آبادی زیادہ تیزی سے کم ہوئی بنسبت ان اضلاع میں جہاں ریلوے نہیں تھی۔ (2)”
شاید قحط جیسے بڑے اور پیچیدہ مسئلے کا الزام کسی ایک نظریے پر ڈالنا غیر منصفانہ ہو۔ جیسے ماؤ اور سٹالن کی نظریاتی طور پر معاشی حوصلہ افزائی والی پالیسیوں کے نتائج تباہ کن رہے۔ دونوں ہی مطلق العنان ریاستیں تھیں، جہاں اشتراکی پالیسیوں نے لاکھوں لوگوں کو بھوکا مار دیا۔ لیکن، آزاد تجارت (free trade) کی لبرل پالیسی بھی قحط کا باعث بن سکتی ہے۔ سرمایہ داری نظام کے سب سے بڑے نام، ایڈم سمتھ، کا کہنا ہے کہ، “سوائے حکومت کے قلت کو دور کرنے کے لیے نامناسب انتظامات اور تشدد کی پالیسیوں کے، قحط کی اذیت کسی اور وجہ سے پیدا نہیں ہوتی۔ (3)” یعنی سمتھ قحط کا الزام فطرت اور حکومت کی طرف سے تکلیف کو کم کرنے کی کوششوں پر ڈالتے ہیں۔ لیکن، نوآبادیاتی برصغیر میں آنے والے قحط ہمیں دکھاتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے غیر مداخلتی (laissez faire) رویہ بھی لاکھوں اموات کا سبب بن سکتا ہے۔ وکٹوریہ کے دور میں انگریز اکثر بھوکے لوگوں کی مدد نہ کرنے کو درست سمجھتے تھے اور اس کے جواز کے طور پر مالتھس کا تصور پیش کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ آبادی لامحالہ وسائل سے تجاوز کر جاتی ہے اور اموات قدرتی طریقہ کار کا حصہ ہیں۔ ایسے میں کسی کی مدد نہ کرنا اور لوگوں کو مرنے دینا ہی درست طرز عمل ہے۔ چنانچہ ان کا خیال تھا کہ (بحوالہ لارڈ لٹن، وائس رائے ہند) برصغیر کی آبادی: “مٹی سے پیدا ہونے والے اناج کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھنے کا رجحان رکھتی ہے (2)”، یوں اس مصیبت کے لیے ایک جواز گھڑنے کی کوشش کی گئی۔
لیکن قحط کوئی قدرتی چیز نہیں ہے! یا کم از کم یہ “محض” قدرتی نہیں ہے۔ لہٰذا، جب انگریزوں نے قحط زدگان کو امداد فراہم کرنے کی کوشش بھی کی، تو انہیں خدشہ تھا کہ زیادہ مدد سے برصغیر کی رعایا بھیک پر انحصار کرنے لگیں گے۔ اس لیے انہوں نے “مزدوری کیمپ” قائم کیے۔ اکثر قحط کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے سینکڑوں میل دور، جہاں بھوکے شہری راشن کمانے کے لیے مشقت کرتے تھے۔ بدلے میں ان کو روزانہ 1627 کیلوریز کے برابر خوراک ملتی تھی۔ خوراک کی یہ مقدار بھاری مشقت کے لیے (بلکہ زندہ رہنے کے لیے ہی) انتہائی ناکافی ہے، لہٰذا ان میں سے کچھ کیمپوں میں شرح اموات 94 فیصد تک پہنچ گئی۔ دریں اثنا، انگریز اپنی (مالتھس والی) نظریاتی سوچ اور نسل پرستی پر قائم رہے۔ جیسا کہ بنگال کے لیفٹیننٹ گورنر، سر رچرڈ ٹیمپل نے لکھا: “یہ لوگ فراغت کی روٹی کھانے کے اتنے شوقین ہیں کہ، جب ان کو گھر سے کسی بھی طرف مارچ کرنے کا حکم دیا جائے تو یہ گھبراتے ہیں، یہاں تک کہ سادہ اور معقول احکامات کی اطاعت کرنے کے بجائے (خوراک سے) محروم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی حالت ایسی ہے کہ صرف وہی اس پر مکمل یقین کر سکتے ہیں جنہوں نے ان چیزوں کو دیکھا یا ذاتی طور پر جانا ہے۔ (2)” بنیادی طور پر، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ لوگ اچھی طرح سے کھانا کھانے کے بجائے سست پڑے پڑے پڑے مرنا پسند کرتے ہیں، اس حقیقت سے صرف نظر کہ روزانہ 1627 کیلوریز پر، کوئی کام کر ہی نہیں سکتا۔
قحط صرف قدرتی طور پر نہیں ہوتے۔ بعض دفعہ قحط خشک سالی کا ناگزیر نتیجہ ہو سکتے ہیں، لیکن یقیناً دنیا میں اتنی بھوک نہیں ہونی چاہیئے جتنی ہمیں نظر آ رہی ہے۔ درحقیقت، موجودہ زرعی ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے، ہمیں بالکل بھی بھوک نظر نہیں آنی چاہیئے۔ اس وقت دنیا میں ماضی کی نسبت کہیں کم لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔ زیادہ لوگوں کو خوراک کا تحفظ (food security) حاصل ہے اور کم لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ یہ بھی موسم کی وجہ سے نہیں ہوا۔ اور ہاں، جوں جوں ماحولیاتی تبدیلیاں (climate change) اپنا اثر دکھائیں گی، ہمیں شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن، جب وہ وقت آئے اور ہمیں خشک سالی کا سامنا ہو تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ بھوکے مر رہے ہوں اور دوسروں کے پاس وافر خوراک ہو تو اس کو قدرتی آفت نہیں کہا جا سکتا۔ مختصر یہ کہ، آئیے یاد رکھیں کہ جن معاملات کو ہم خدا کا کیا دھرا گردانتے ہیں ان میں انسانوں کے عمل دخل کا محاسبہ بھی کریں۔
اصل ویڈیو کا لنک
حوالہ جات
- Poverty and Famines – An Essay on Entitlement and Deprivation, 1982. Amartya Sen, Oxford University Press https://gdsnet.org/Sen1982PovertyandFaminesBook.pdf
- Late Victorian Holocausts, 2001. Mike Davis, https://www.google.com.pk/books/edition/Late_Victorian_Holocausts/3IrKEzgkQkMC
- Wealth of Nations, 1776. Adam Smith, https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.207956