انسان کی شخصیت محض والدین سے ملنے والی وراثتی خصوصیات پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے مختلف مراحل اور تجربات اسے بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مشاہدات، تجربات، کامیابیاں، ناکامیاں اور دوسروں کا برتاؤ مل کر ہمارے رویّوں، سوچ اور خود اعتمادی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، اور یہی تجربات وقت کے ساتھ شخصیت کو نکھارتے یا بدلتے رہتے ہیں۔ بعض دفعہ ابتدائی زندگی کے تجربات انسان پر ایسے گہرے اثرات ڈالتے ہیں، کہ ان کے منفی سائے ساری زندگی ہم پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ گرچہ ہر انسان کی زندگی اور تجربات دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں لیکن کئی دفعہ مخصوص معروضی حالات ہمیں ایک مخصوص سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔ آج ہم اسی قسم کے ایک روئیے کے بارے میں بات کریں گے جس کا مشاہدہ آپ نے اپنے اردگرد یقینا کیا ہو گا لیکن شاید اس پر توجہ دینے یا گفتگو کا موقع پہلے نہ ملا ہو۔

بعض دفعہ حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ کچھ بچوں کو کبھی بچپن جینے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ وہ سیکھ لیتے ہیں کہ جب بڑے لڑ رہے ہوں تو خاموش رہنا چاہیئے۔ وقت کے ساتھ وہ اپنے بڑوں (والدین) کا اس طرح سہارا بننا سیکھ لیتے ہیں جیسے دراصل ان بچوں کو خود سہارے کی ضرورت تھی۔غیر مستحکم گھرانے میں پرورش پانے والا بچہ اکثر عمر سے بڑھ کر ذمہ داریاں اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے، نفسیات میں اسے والدین کی جگہ کردار نبھانے کا رجحان یا parentification کہا جاتا ہے۔ جب والدین جذباتی یا عملی طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پاتے تو بچہ گھر کا نظم، والدین کی دیکھ بھال، یا چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں سنبھال لیتا ہے۔ ایسے حالات اس کی معصومانہ ضروریات اور جذباتی نشوونما کو پیچھے دھکیل کر اسے قبل از وقت بالغ رویّے اپنانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔  یہ بچے سمجھ جاتے ہیں کہ رونے سے مسائل کم یا حل نہیں ہوتے۔ رونے سے وہ دوسروں کے سامنے کمزور ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ انہیں دوسروں کے سامنے مضبوط نظر آنا چاہیئے جبکہ انہیں ابھی ان الفاظ کا مطلب بھی پتہ نہیں ہوتا۔ کیا آپ کو کبھی محسوس ہوا ہے کہ آپ کو وقت سے پہلے وہ فیصلے کرنے پڑے اور وہ رویہ اپنانا پڑا جس کی ابھی آپ کی عمر ہی نہیں تھی؟ تو یہ شاید آپ کی ہی کہانی ہو۔ شاید آپ ہر معاملے میں دوسروں کو ضرورت سے زیادہ گنجائش دیتے رہے، یا شاید آپ ہر لفظ سے پہلے بہت زیادہ سوچنے کے عادی ہو گئے۔ شاید دوسروں کا آرام آپ کے لیے اپنے سکون سے زیادہ اہم تھا۔ شاید آپ کو یاد بھی نہ ہو کہ یہ سب کب شروع ہوا تھا۔ بس اتنا پتہ ہے کہ ایک دن آپ بے فکری سے ہنس رہے تھے اور اگلے دن ایک ایسا بوجھ اٹھا رہے تھے جو کسی کو دکھائی بھی نہیں دیتا تھا۔

کچھ بچوں کا بچپن اس لمحے ختم ہو جاتا ہے جب ان کو سمجھ آتی ہے کہ ان کے حالات ٹھیک کرنے کوئی نہیں آئے گا۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ضد نہیں کرنی کیونکہ ان کی ضد کوئی پوری نہیں کرے گا۔ وہیں سے وہ خود اپنے والدین کی جگہ لینا شروع کر دیتے ہیں، اپنے محافظ، اپنی ضرورتیں خود پوری کرنے والے، آپنے آنسو خود صاف کرنے والے، اپنے ہی جذبات کے سہارے، احساسات کو دبانے والے۔ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے۔ کبھی کسی بڑے کو سنبھالنا، کبھی کسی بہن بھائی کو دلاسا دینا، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا، کبھی وہ مسائل حل کرنا جو بڑوں کو کرنے چاہیئے تھے۔ وقت کے ساتھ یہی سب ان کی شناخت بن جاتا ہے، ان کی بقا کا طریقہ۔ اور بقا کی یہ کوشش خود پر پختگی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے۔ لوگ آپ سے کہتے ہیں کہ آپ اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار ہیں، آپ مضبوط ہیں، خود مختار ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ سب اوصاف آپ نے اپنی مرضی سے نہیں چنے بلکہ پے در پے ملنے والے زخموں پر کھرنٹ جمنے سے آپ باہر سے سخت ہو گئے ہیں۔ اندر شاید اب بھی ایک زخمی دل موجود ہے۔ ہر تعریف کے پیچھے ایک خاموش درد چھپا ہے، بے فکری کی خواہش، بچپنے کی شرارت، کسی کے گلے لگ کر زار و قطار رونے کی تمنا شاید اب بھی باقی ہے۔

شاید ماں اعصابی تناؤ (ڈپریشن) کا شکار تھی یا شاید بچوں کی زیادہ تعداد کو سنبھالنا اس کے بس سے باہر تھا۔ کہ گھر کی بہت سی بنیادی ذمہ داریاں خود بخود بڑی بہن پر آ گئیں۔ وہ چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال، ان کو نہلانا دھلانا، کپڑے پہنانا، روتے ہوئے کو بہلانا، ان کی بکھیری چیزوں کو سمیٹنا، گھر کے نظم کو برقرار رکھنا، گویا والدین کی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عملاً والدین کا کردار نبھانے لگی۔ جذباتی سہارا دینے سے لے کر روزمرّہ کے فیصلے کرنے تک، وہ ایسے امور سنبھالتی گئی جو اس کی عمر سے کہیں زیادہ بالغ ذہنی اور جذباتی سمجھ بوجھ کا تقاضا کرتے تھے۔ یہ مسلسل دباؤ اسے اپنی ضروریات اور بچپن کی فطری آزادی کو دبانے پر مجبور کر دیتا ہے، اور یوں اس کی شخصیت پر بالغانہ ذمہ داریوں کا وقت سے پہلے سایہ پڑ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ “بڑی آپا” بن گئی۔ ہو سکتا ہے کہ باپ کے نشے کی عادت کی وجہ سے یا کم آمدنی کی وجہ سے کسی بچے نے مزدوری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو اور پھر ساری عمر بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا رہے۔ جب کوئی بچہ یوں وقت سے بہت پہلے بڑا ہوتا ہے تو اس کے اندر بنا خطرے کو بھانپنے کا نظام ضرورت سے زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ اسے ہر جگہ خطرہ دکھائی دیتا ہے، جذباتی خطرہ۔ کسی کی ناراضگی، کسی کے لہجے کا معمولی اتار چڑھاؤ وہ دوسروں کی نسبت بہتر بھانپ سکتا ہے اور اندر ہی اندر سہم جاتا ہے۔ وہ ہر کمرے میں داخل ہو کر ماحول کو ٹٹولتا ہے، وہ لوگوں کے لب و لہجے، ان کے موڈ اور ان کی خاموشیوں کو پڑھنے لگتا ہے۔ اس نے سیکھ لیا ہے کہ امن کسی بھی وقت جنگ میں بدل سکتا ہے اور امن کو برقرار رکھنا اس کے ناتواں کندھوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ مسئلوں کو حل کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے، لڑنے والوں کی صلح کروانے والا، دوسروں کو جوڑنے والا، دوسروں کا درد سمیٹنے والا۔ اور یہی سب کبھی نہ کبھی اسے تھکا دیتا ہے۔ وہ  سمجھنے لگتا ہے کہ سکون کا مطلب ہے کہ خطرہ کہیں قریب ہی ہے، خاموشی سے سب کچھ سہنا ہی اصل میں محبت ہے، اور دوسروں کا اسے کنٹرول کرنا بتاتا ہے کہ اسکی کوئی اہمیت ہے۔ کیونکہ بچپن میں کنٹرول ہی وہ ایک چیز تھی جو اسے کسی حد تک محفوظ محسوس کرواتی تھی۔

وہ ماحول نہیں بدل سکتا تھا، اس لیے اس نے خود کو بدلنا شروع کر دیا — اپنے الفاظ، اپنے جذبات، اپنی ضرورتیں کم کرتا گیا۔ وہ ننھا کم گو، حساس بچہ، ضد چھوڑ کر جلدی مان جانے والا بن گیا۔ جان بوجھ کر اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مجبوری سے۔ اس نے دوسروں کو ٹوٹتے دیکھا، لیکن اسے کسی نے نہیں بتایا کہ ٹوٹنا اس کا بھی حق ہے۔ اس نے سیکھ لیا کہ ہر حال میں خود کو مضبوط رکھنا ہے، ہر تکلیف پر ہنس دینا ہے، ہر سوال کا جواب “میں ٹھیک ہوں” دینا ہے۔ اور یہ سب وہ آج بھی کرتا ہے۔ شاید اسی لیے اسے لوگوں کے سامنے کھل کر سانس لینا مشکل لگتا ہے، اپنی بات کہنا بھاری لگتا ہے، آرام کرنا عجیب لگتا ہے۔ اس کا جسم کبھی یہ نہیں سیکھ پایا کہ طوفان گزر چکا ہے۔ اکثر وہ انہی لوگوں کی طرف کھنچتا ہے جنہیں سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ سہارا دینے والے کا ہی کردار تو اسے اچھی طرح نبھانا آتا ہے، یہی اس کا بچپن کا بار بار دہرایا جانے والا سبق ہے۔ لیکن دوسروں کو بچاتے بچاتے وہ خود کبھی کسی کے سہارے نہیں جھکتا۔ انحصار کرنا اسے کمزوری لگتا ہے، محبت لینا اسے خوفزدہ کرتا ہے، وہ محبت دینا آسان سمجھتا ہے لیکن محبت لینا مشکل، کیونکہ لینا بھروسے کا تقاضا کرتا ہے، اور بھروسہ وہی چیز ہے جس نے اسے سب سے زیادہ زخمی کیا تھا۔ اس نے جب کبھی خوش ہونا چاہا، اس سے خوشی چھین لی گئی اسلیے اب ہر خوشی اسے ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ ہنستا ہے تو اندر کہیں خوف جاگتا ہے، جیسے یہ لمحہ بھی چھن نہ جائے۔ یہ اس بچپن کی گونج ہے جب خوشی عارضی اور سکون کسی بڑے کی ذہنی حالت سے مشروط ہوتا تھا۔

جب بچپن چھن جاتا ہے تو تنہائی ایک ایسی کیفیت بن جاتی ہے جو بھیڑ میں بھی محسوس ہوتی ہے۔ وہ تنہائی جس میں آدمی اپنے درد کا خود اکلوتا گواہ ہوتا ہے۔ آپ شاید لوگوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ بوجھ جو آپ نے برسوں اٹھایا، اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کیونکہ آپ کی کہانی وہ ہے جس میں ایک بچہ بڑا بن کر دنیا کو سنبھالتا رہا، جبکہ اندر کا بچہ کسی کے تھامنے کی آس میں رک گیا۔ وقت گزرنے کے باوجود وہ بچہ وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔ لیکن آپ نے اس کے بغیر ہی جینا سیکھ لیا، آگے چلنا سیکھ لیا۔ بس خود محفوظ محسوس کرنا کبھی پوری طرح نہیں سیکھ پائے۔ آپ کی کامیابیاں، آپ کی ذمہ داری، آپ کی مضبوطی — ان سب تعریفوں کے پیچھے چھپے ہوئے زخم کسی کو نظر نہیں اتے۔ لوگ آپ کی پختگی دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے کی تھکن نہیں۔ وہ آپ کی خودمختاری دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے کی تنہائی نہیں۔ وہ آپ کو شاباش دیتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ آپ کے اندر ایک ایسا بچہ اب تک سکون کی تلاش میں ہے جسے بچپن کبھی ملا ہی نہیں۔

لیکن پھر زندگی میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب اندر کا بچہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ نرمی کی خواہش، بے مقصد قہقہوں کی خواہش، تھکن میں سر کسی کے کندھے پر رکھنے کی خواہش۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ پلٹ کر اسے دیکھیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں اصل شفاء شروع ہوتی ہے۔ شفاء اس بات سے کہ مان لیا جائے کہ آپ کی بہت سی عادتیں شخصیت کا حصہ نہیں بلکہ ایک بے رحم بچپن کے زخم ہیں۔ کہ آپ کی مضبوطی ایک ضرورت یا مجبوری تھی، فطرت نہیں۔ کہ آپ کی خودمختاری تنہائی کی پیداوار تھی، انتخاب نہیں۔ انسان کا دل عجیب حد تک شفا پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو کبھی بقا کا طریقہ تھا، وہ آج آزادی بن سکتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب آپ کا وجود کہتا ہے کہ صرف زندہ رہنا کافی نہیں، اب جینا بھی سیکھنا ہے۔ اور جینا اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو سکون کمانا نہیں، سکون پانا ہے۔ آپ شاید اس بچپن پر روئیں جو نہیں ملا، اس ننھے وجود پر جو بہت جلد تھک گیا، اس معصومیت پر جو ذمہ داری کے بوجھ تلے کہیں کھو گئی۔ مگر یہ آنسو کمزوری نہیں، واپسی ہیں۔ اپنی اصل کی طرف واپسی۔ وہ بچہ اب بھی انتظار میں ہے کہ آپ اسے وہ سب دیں جو اس نے کبھی مانگا تھا — محبت، دلاسہ، تحفظ، بے لوث اپنائیت۔ آپ آج اسے وہ سب دے سکتے ہیں۔ یہی شفاء ہے۔ اپنے اندر کے بچے کے ساتھ ہاتھ پکڑ کر چلنا۔ اس پر سختی چھوڑ دینا۔ اسے بتانا کہ وہ اب محفوظ ہے۔ مشکل وقت گزر چکا ہے۔ کہ اب آپ دونوں ایک ہی طرف کھڑے ہیں۔ پرانے بوجھ چھوڑ کر آگے بڑھنا غلط نہیں ہوتا۔ نرمی کبھی کمزوری نہیں ہوتی۔

شاید زندگی کا اصل حسن یہی ہے کہ خواہ بچپن میں آپ سے سب کچھ چھن گیا ہو، بڑے ہو کر آپ اسے واپس بنا سکتے ہیں — آہستہ آہستہ، محبت سے، خود پر ترس کھائے بغیر، مگر خود پر نرمی کرتے ہوئے۔ اور جب آپ پہلی بار بغیر ڈرے سانس لیتے ہیں، پہلی بار بغیر خوف کے مسکراتے ہیں، پہلی بار خود کو تھامتے ہیں، تو سمجھ آتا ہے کہ شفاء طاقتور ہونے کا نام نہیں، محفوظ ہونے کا نام ہے۔ اور شاید یہی وہ بچپن ہے جو آپ کو دوبارہ ملنے کے لیے ہمیشہ سے انتظار میں تھا۔ قدم بڑھائیں!

The Psychology of a Child who grew up Too Fast (Full Version)

Muhammad Bilal

I am assistant professor of biology at Govt. KRS College, Lahore. I did my BS in Zoology from University of the Punjab, Lahore and M.Phil in Virology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am Administrator at EasyLearningHome.com and CEO at TealTech