وراثت اور جینیات چوتھی قسط

 اب اگلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ یہ بنتی کیسے ہیں؟ بھئی آسان ہے۔ آپ کھڑکی کے نقشے کی ہی مثال لے لیں۔ حامد نے ایک بات سوچی کہ ہوا اور روشنی کے لیے دیوار میں ایک کھڑکی لگا دی جائے تو کمرے میں رہنا آسان ہوگا۔ تو حامد نے…

Continue Readingوراثت اور جینیات چوتھی قسط

وراثت اور جینیات تیسری قسط

عثمان بیٹھا نہیں تھا۔ سر نے اس سے پوچھا کیا ہوا؟ بیٹھے کیوں نہیں؟ سر جگہ نہیں ہے۔ (دراصل کئی سکولوں میں تو جگہ بہت زیادہ تھی اور کئی سکولوں میں بچے زیادہ اور جگہ کم تھی۔ ہماری کلاس میں بھی بچے ساٹھ تھے اور بیٹھنے کی جگہ صرف اکاون بچوں کی تھی) سر نے فوراً اپنی کرسی کی طرف اشارہ کر کے کہا آو یہ لے جاوٗ

Continue Readingوراثت اور جینیات تیسری قسط

وراثت اور جینیات

اب ہم سر سے صرف سوال نہیں اپنے جوابات بھی پوچھنے جاتے تھے۔ وہ ہمارے جوابات کو زیر بحث لاتے اور یوں معلوم ہوتا جیسے کہ وہ ہم سے سیکھ رہے ہیں۔ دراصل وہ ہمیں ہی سکھا رہے تھے۔ کہ سوال کیسے کرتے ہیں سوچتے کیسے ہیں؟

Continue Readingوراثت اور جینیات