نظریۂ ارتقا، یعنی Evolution Theory، انسانی تاریخ کے ان چند گنے چنے خیالات میں سے ایک ہے جس نے ہمارے کائنات اور اپنی ذات کو سمجھنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل ڈالا۔ جب ہم اس نظریے کے بارے میں سوچتے ہیں، تو فوری طور پر ایک نام ذہن میں آتا ہے: چارلس ڈارون۔ 19ویں صدی کے اس عظیم انگریز فطرت دان (Naturalist) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “On the Origin of Species” میں اس نظریے کو اتنی مضبوط سائنسی بنیادوں پر پیش کیا کہ یہ ایک انقلاب بن گیا۔

لیکن کیا یہ نظریہ واقعی ڈارون کی اکیلی فکری کاوش تھا؟ نہیں، بالکل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتقا کا تصور انسانی ذہن میں صدیوں سے موجود تھا، لیکن اسے ٹھوس سائنسی شکل دینے کا سہرا ڈارون کے سر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کہانی میں ایک ایسا کردار بھی ہے جس کا ذکر بہت کم ہوتا ہے، مگر اس نے ڈارون سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے انہی خیالات کو پیش کیا جنہیں ہم آج نظریۂ ارتقا کے بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔ وہ عظیم شخصیت تھے ابو عثمان عمرو بحر الکنانی البصری، جنہیں دنیا “جاحظ” کے نام سے جانتی ہے۔

یہ کوئی معمولی دعویٰ نہیں ہے، بلکہ جب ہم جاحظ کے کام کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے مشاہدات اور فکری نتائج آج کے ارتقائی نظریے سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتے ہیں۔

ایک غریب لڑکے کا علم کا سفر

جاحظ کی زندگی کا آغاز کوئی بہت شاندار نہیں تھا۔ وہ 776 عیسوی میں بصرہ، عراق میں ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا ساربان تھے اور خود جاحظ بچپن میں بصرہ کی نہروں کے کنارے مچھلیاں بیچ کر گھر کا گزر بسر چلانے میں مدد کیا کرتے تھے۔ ان کا اصلی نام عمرو تھا، لیکن ان کا ایک ظاہری نقص انہیں ایک خاص نام دے گیا: جاحظ۔ اس عربی لفظ کا مطلب ہے “جس کی آنکھیں باہر کو ابھری ہوئی ہوں”۔ ان کی شکل و صورت کے باعث لوگ ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے، مگر جاحظ نے اس تضحیک کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ اسے اپنے علم کی پیاس بڑھانے کا ذریعہ بنایا۔

اس نوجوان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ لوگوں کو اپنی ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اپنی دانش سے متاثر کرے گا۔ ان کے پاس اسکول جانے کے لیے پیسے نہیں تھے، مگر ان کی ذہانت اور لگن بے پناہ تھی۔ وہ دن بھر محنت کرتے اور جب بھی فرصت ملتی، بصرہ کی مشہور علمی محفلوں کا رخ کرتے۔ اس دور میں معتزلہ فرقے کی فکری محفلیں بہت مشہور تھیں جہاں مذہب، فلسفے اور سائنس پر آزادانہ بحثیں ہوتی تھیں۔ جاحظ ان محفلوں میں ایک خاموش مگر بہت غور سے سننے والے شاگرد کی طرح شرکت کرتے اور اپنے ذہن میں نئے خیالات کو پروان چڑھاتے۔

یہ وہ دور تھا جسے ہم اسلامی تاریخ کا سنہری دور (Golden Age) کہہ سکتے ہیں۔ عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی اور بغداد علم و فنون کا عالمی مرکز بن چکا تھا۔ خلیفہ ہارون الرشید اور بعد میں مامون الرشید کے ادوار میں “بیت الحکمہ” جیسی عظیم درسگاہوں اور کتب خانوں نے علم کی ترقی میں نئی روح پھونک دی۔ یونانی، فارسی، اور ہندوستانی علوم کو عربی میں ترجمہ کیا جا رہا تھا، اور مسلم مفکرین ان علوم پر اپنی تحقیق کا کام کر رہے تھے۔

الجاحظ کی یاد میں جاری کردہ ٹکٹ کا عکس

یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ مسلمانوں نے حال ہی میں چین سے کاغذ بنانے کا ہنر سیکھا تھا، جس نے علم کی ترسیل میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ کتابیں اب نایاب نہیں رہیں بلکہ زیادہ آسانی سے دستیاب ہونے لگیں۔ اس ماحول نے جاحظ جیسے ذہین لوگوں کے لیے علم کے دروازے کھول دیے۔ انھوں نے اس سنہری موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مختلف موضوعات پر دھڑا دھڑ کتابیں لکھنا شروع کر دیں۔

جلد ہی ان کی شہرت پورے بغداد میں پھیل گئی۔ خلیفہ مامون الرشید بھی ان کے علمی کاموں سے بہت متاثر ہوئے اور بعد میں خلیفہ المتوکل نے انہیں اپنے بچوں کا استاد بھی مقرر کیا۔

جاحظ نے اپنی زندگی میں سائنس، جغرافیہ، فلسفہ، ادب اور سیاست جیسے 200 سے زائد موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان میں سے زیادہ تر کتابیں وقت کی گرد میں کھو گئیں، مگر جو باقی بچیں وہ ان کی فکری گہرائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتابوں میں سے ایک “کتاب البخلاء” (بخیلوں کی کتاب) ہے جو نویں صدی کے معاشرے کی مزاحیہ اور حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتی ہے۔ مگر جس کتاب نے انہیں آج کے تناظر میں سب سے زیادہ منفرد مقام دیا، وہ ہے “کتاب الحیوان” (جانوروں کی کتاب)۔

کتاب الحیوان: ایک ہزار سال پرانا انسائیکلوپیڈیا

“کتاب الحیوان” جاحظ کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ یہ سات جلدوں پر مشتمل ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں جاحظ نے 350 سے زائد جانوروں کا احوال بیان کیا ہے۔ لیکن یہ محض ایک حیوانات کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ اس میں جاحظ نے ہر جانور کے رویے، خوراک، عادات اور ماحول کے ساتھ ان کے تعلق کا گہرا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کا کام ہے جو آج ہم ویکی پیڈیا پر مختلف جانداروں کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

الجاحظ کی تصنیف کتاب الحیوان کا ایک عکس

اسی کتاب میں جاحظ نے وہ انقلابی خیالات پیش کیے جو آج کے نظریۂ ارتقا کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ یہ خیالات تین اہم نکات پر مبنی ہیں:

1. بقا کی جدوجہد (Struggle for Existence)

جاحظ نے مشاہدہ کیا کہ ہر جاندار اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ایک مسلسل جدوجہد میں مصروف ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ “جانور اپنی بقا کی مسلسل جدوجہد میں مگن ہیں اور وہ ہر وقت خوراک حاصل کرنے، کسی کا شکار بننے سے بچنے اور اپنی نسل کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔”

یہ بیان ڈارون کے نظریے میں بیان کردہ “بقا کی جدوجہد” کے تصور سے حیرت انگیز طور پر ملتا جلتا ہے۔ جاحظ نے واضح طور پر یہ بات سمجھ لی تھی کہ جنگل کا یہ قانون ہے کہ بڑا جاندار چھوٹے کو کھاتا ہے اور خود اس سے بڑے کا شکار بنتا ہے۔ ایک ہی نسل کے جانوروں کے درمیان بھی خوراک اور پناہ گاہ کے لیے مقابلہ جاری رہتا ہے۔ یہ مقابلہ ہی ان کے ارتقا کی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔

2. ماحول کا اثر اور تبدیلی

جاحظ نے اس بات کو بھی گہرا مشاہدہ کیا کہ جانوروں کے جسمانی اور رویے کے خصائص پر ان کے ماحول، خوراک اور پناہ گاہ کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ ماحولیاتی عوامل ہی تھے جو جانوروں میں تبدیلی لانے کا سبب بنتے تھے۔

وہ یہ بھی مانتے تھے کہ یہ تبدیل شدہ خصوصیات ایک نسل سے اگلی نسل میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: “جانور آہستہ آہستہ اپنے ماحول میں زیادہ بہتر طریقے سے ڈھلنے لگتے ہیں۔” یہ تبدیلی مستقل ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک نئی خصوصیت والی نسل وجود میں آتی ہے۔

3. نسلوں کا بتدریج تبدیل ہونا (Descent with Modification)

جاحظ کا سب سے انقلابی خیال یہ تھا کہ وہ جانوروں کی ایک نسل کو دوسری نسل میں تبدیل ہونے کے قابل سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ “کتے، لومڑیوں اور بھیڑیوں کی نسلیں ایک دوسرے سے نکل سکتی ہیں” اور اسی طرح دوسرے جانوروں کے درمیان بھی بتدریج تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

یہ خیال کہ ایک نسل سے دوسری نسل وجود میں آ سکتی ہے، آج کے نظریۂ ارتقا کا بنیادی حصہ ہے، جسے ڈارون نے “Descent with Modification” کا نام دیا۔ جاحظ کے کام میں بھی یہ تصور موجود تھا۔ وہ مانتے تھے کہ جو جانور اپنے ماحول کے مطابق بہتر خصوصیات حاصل کر لیتے ہیں، وہ زندہ رہنے اور اپنی نسل آگے بڑھانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ بالکل وہی نظریہ ہے جسے بعد میں “Survival of the Fittest” یا “بقائے اصلح” کا نام دیا گیا۔

جاحظ کے بعد کا سفر: ارتقا کی بازگشت

جاحظ کے یہ خیالات صرف ان تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے بعد آنے والے کئی مسلم مفکرین اور سائنس دانوں پر بھی ان کا گہرا اثر ہوا۔ ان کی کتاب “کتاب الحیوان” کو پڑھا اور سراہا گیا۔ ہمیں جاحظ کے ان نظریات کی بازگشت ابن خلدون کے تاریخی فلسفے، جلال الدین رومی کی شاعری اور ابن العربی کے صوفیانہ خیالات میں بھی ملتی ہے۔

علامہ محمد اقبال نے اپنے شہرہ آفاق خطبات کے مجموعے “Reconstruction of Religious Thought in Islam” میں جاحظ کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں کہ جاحظ وہ پہلا شخص تھا جس نے نقل مکانی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جانوروں کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔

یہ خیالات صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں رہے بلکہ اسپین کے راستے یورپ بھی پہنچے۔ 19ویں صدی کے یورپ میں ارتقا کے بارے میں مسلمان مفکرین کے خیالات خاصے مقبول تھے، یہاں تک کہ ڈارون کے ایک ہم عصر جان ولیم ڈریپر نے 1878 میں اپنے ایک لیکچر میں نظریۂ ارتقا کو “محمڈن تھیوری آف ایوولوشن” یعنی “مسلمانوں کا نظریۂ ارتقا” کا نام دیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یورپی مفکرین خود بھی اس نظریے کے مسلم دنیا سے تعلق سے واقف تھے۔

تو پھر ڈارون کا کمال کیا ہے؟

ڈارون نے فطری انتخاب (Natural Selection) کا ایک ایسا میکانزم پیش کیا جس نے یہ واضح کر دیا کہ ارتقا کیسے کام کرتا ہے۔ اس نے اپنے مشاہدات، جو اس نے ایچ ایم ایس بیگل کے سفر کے دوران کیے تھے، اور اپنی گہری تحقیق کی بنیاد پر ایک ایسا منطقی فریم ورک تیار کیا جس کو جھٹلانا مشکل تھا۔ ڈارون نے ارتقا کے پیچھے چھپے عمل کو کھول کر رکھ دیا اور یہ دکھایا کہ کیسے معمولی تبدیلیاں نسل در نسل بڑھ کر ایک نئی نسل کو جنم دیتی ہیں۔

چارلز ڈارون

اس کے بعد آنے والے ہزاروں سائنسی شواہد، جیسے کہ جینیات (Genetics)، فوسلز اور مالیکیولر بائیولوجی نے ڈارون کے نظریے کو مزید مضبوط کیا اور اسے ایک ناقابلِ تردید حقیقت بنا دیا۔

تاہم، اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ڈارون سے ایک ہزار سال پہلے، ایک مسلمان سائنس دان نے انہی خیالات کی طرف اشارہ کیا تھا جو آج نظریۂ ارتقا کی بنیاد ہیں۔ جاحظ کا یہ اعزاز ضرور ہے کہ انہوں نے اس تصور کا بیج بویا، حالانکہ ڈارون نے اسے ایک پھل دار درخت بنا دیا۔

کتابوں سے عشق اور ایک المناک انجام

جاحظ کی زندگی کا اختتام بھی ان کی علم دوستی کا ثبوت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ 92 سال کی عمر میں بھی مطالعے میں مصروف تھے۔ ایک دن بغداد میں اپنے کتب خانے میں بیٹھے ہوئے، وہ شیلف پر سے ایک بھاری کتاب نکال رہے تھے کہ اچانک سارا کتب خانہ ان پر آن گرا۔ یوں، اسلامی تاریخ کا یہ عظیم دانشور، جو اپنی ساری زندگی کتابوں اور علم سے عشق کرتا رہا، انہی کتابوں کے نیچے دب کر اپنے انجام کو پہنچا۔

جاحظ کی زندگی اور موت دونوں یہ سکھاتی ہیں کہ علم کی پیاس انسان کو کس بلندی تک پہنچا سکتی ہے۔ ان کی کہانی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ سائنسی ترقی کسی ایک ثقافت یا قوم کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے جس میں ہر دور کے مفکرین نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ جاحظ کا نام آج بھی ہمارے لیے باعث فخر ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے علم و دانش کی شمع کو ہر دور میں روشن رکھا۔

 

Dr. Muhammad Ibrahim Rashid Sherkoti

Hi, I am a Ph.D. in biotechnology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am interested in biotechnology, infectious diseases and entrepreneurship. You can contact me on my Twitter @MIR_Sherkoti.