آج ہم جانتے ہیں کہ پرندے ڈائنوسار کی آخری زندہ نسل ہیں، وہ شاندار مخلوقات جنہوں نے کبھی کروڑوں سالوں تک ہمارے سیارے پر حکومت کی۔ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے، فوسلز کی دریافتوں نے ہمیں دکھایا ہے کہ جدید پرندوں کی طرح، بہت سے معدوم ڈائنوسار بھی پنکھ رکھتے تھے۔ لیکن یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: وہ پنکھوں سے ڈھکے بازو آسمان میں اُڑنے کے قابل مکمل فعال پروں میں کب اور کیسے تبدیل ہوئے؟ یہ ایک ایسی پہیلی ہے جس نے ایک صدی سے زیادہ عرصے تک سائنسدانوں کو مسحور کیا اور بعض اوقات مکمل طور پر الجھا کر رکھ دیا۔ درحقیقت، یہی سوال ڈارون کو خود اپنی قدرتی انتخاب کی تھیوری شائع کرنے کے بعد درپیش پہلے بڑے چیلنجز میں سے ایک تھا۔ پنکھوں سے پرواز تک کا ارتقائی سفر ارتقا کی پوری کہانی کے سب سے اہم اور حیرت انگیز رازوں میں سے ایک ہے۔

💕 The colours and wing span.

پر: ایک ارتقائی شاہکار

پرندوں کی پرواز کی صلاحیت ، بلاشبہ، جانوروں کے سب سے ناقابل یقین کارناموں میں سے ایک ہے۔ اڑنے کی اس صلاحیت  کو پرندوں نے کافی متنوع انداز میں استعمال کیا ہے۔ اس نے کہیں تو شاہین اور عقاب جیسے انتہائی تیز اور چست شکاریوں کو جنم دیا ہے، جبکہ دوسرے  ہوا میں مکمل طور پر ساکن ہو سکتے ہیں۔ کچھ پرندے ہمالیہ کے اوپر جیٹ طیارے کی طرح اونچی اڑان بھر سکتے ہیں یا سمندر پر مہینوں تک بغیر اترے تیر سکتے ہیں۔ اس حیرت انگیز صلاحیت کا راز ان پنکھوں سے ڈھکے بازوؤں میں ہے جنہیں ہم پر کہتے ہیں۔

Bird Flight | Ask A Biologist

ایک پرندے کے پر کے اندر وہی ہڈیاں ہوتی ہیں جو میرے اور آپ کے بازو میں ہیں، جس کی نوک کے قریب انگلیاں آپس میں جڑی ہوتی ہیں۔ ہاتھ اور بازو کی پشت سے پرواز کے پنکھ نکلتے ہیں، جو ناقابل یقین حد تک ہلکے لیکن سخت ہوتے ہیں۔ ان کا یہ منفرد امتزاج انہیں نہ صرف ہوا کے ذریعے زور فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے بلکہ پورے بازو کو ہوائی جہاز کے پر کے جیسی شکل دیتا ہے جو ہوا  کے زور انہیں اڑنے کے قابل بناتا ہے۔ آج ہم مختلف پرندوں پر جو پر اور پنکھ دیکھتے ہیں وہ سب ان کی مخصوص پرواز کی طرز کے لیے خصوصی اور موافق ہوتے ہیں—اونچی اڑان، منڈلانا، اور پیچیدہ کرتب۔ لیکن پرواز کی یہ تمام ناقابل یقین اور متنوع شکلیں کسی قدیم پرندے کے آباؤ اجداد سے اپنی اصلیت کا پتہ لگا سکتی ہیں۔ وہ لمحہ جب ایک پنکھوں والے ڈائنوسار نے پہلی بار اپنے پروں کا استعمال پرواز کے لیے کیا۔

ڈارون کا معمہ اور نیم پروں کی پہیلی

First Fossil Feather Ever Found Belonged to This Dinosaur - The New York Times

ایک طویل عرصے تک، ہمیں صرف پرندوں کے پنکھوں والے جانوروں کا علم تھا۔ پھر، 1861 میں، جرمنی میں ایک اکیلا فوسل  کا پنکھ دریافت ہوا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ایک پرندے کے پنکھ سے ممتاز نہیں ہے۔ اسی سال بعد میں، اسی علاقے میں اس پنکھوں والی مخلوق کا تقریباً مکمل ڈھانچہ ملا اور اسے آرکیوپٹیرکس کا نام دیا گیا۔ اس نئے دریافت ہونے والے فوسل میں  دو ایسی خصوصیات تھیں  جو اسے اس وقت تک کے سبھی فوسلز سے ممتاز کرتی تھیں ، پہلی تو یہ ڈائنوسار کا ایک مکمل ڈھانچہ تھا منہ سے لیکر دم تک اور دوسری حیرت انگیز بات اس ڈائینا سور پہ پرندوں جیسے پر تھے۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کا بھلا پر کا بھی کوئی فوسل ہو سکتا ہے فوسل تو عموماً پتھر بنی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ آپ کی بات بالکل درست لیکن عام طور پہ لوگ ہڈیوں کو ہی فوسل  سمجھتے ہیں۔ فوسل کی تعریف میں اور بھی بہت سی چیزیں شامل ہیں ان میں نشانات  بھی آتے ہیں ۔ بچپن میں مجھے کرنسی سکے جمع کرنے کا بہت شوق تھا  ہر باہر آنے جانے والے سے میں ایک ہی فرمائش کرتا تھا کہ وہاں کے سکے میرے لئے ضرور لیں۔ خیر اس شوق میں اکثر سکوں کے نشان بنایا کرتا تھا  سکے کو آپ کاغذ کے نیچے رکھ کر اوپر سے پنسل کی مدد سے شیڈ کرنا شروع کردیں تو سکے کی مکمل تصویر بن جاتی ہے۔  آرکیوپٹیرکس کے فوسل میں پروں  کے نشان بھی قدرت نے کچھ اسی طرح محفوظ کئے تھے۔

Cast of the Berlin Archaeopteryx American Museum of Natural History, New York, United States of America.

Archaeopteryx

پندرہ کروڑ سال پرانی جوریسک دور  کی چٹانوں  میں ملنے والی اس  عجیب و غریب اور پراسرار مخلوق میں ڈائنوسار اور جدید پرندوں دونوں کی خصوصیات موجود تھیں— پرانے اور نئے کا ایک بہترین امتزاج۔ آرکیوپٹیرکس کی دریافت سے صرف دو سال پہلے، ڈارون اپنی انقلابی نئی تھیوری پیش کر چکا تھا۔ انہوں نے تجویز کیا کہ ارتقا کی تخلیقی صلاحیت تبدیلی کے چھوٹے، تدریجی مقداروں میں سامنے آتی ہے، جس میں قدرتی انتخاب ایک عظیم فلٹر کے طور پر کام کرتا ہے، یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی تبدیلیاں کسی جاندار کو اپنے ماحول میں بہتر طور پر زندہ رہنے اور دوبارہ پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس تھیوری کی ایک اہم پیش گوئی یہ تھی کہ کسی آبائی خصوصیت اور اس کی جدید شکل کے درمیان، ہم ایک عبوری شکل کی توقع کریں گے، جسے کچھ لوگ ٹرانزیشنل یا عبوری فوسل کہتے ہیں سادہ زبان میں کہیں تو  دو مختلف قسموں کے درمیان کی کڑی۔ آرکیوپٹیرکس بالکل اسی طرح کا عبوری فوسل لگتا تھا جس کی ڈارون کی تھیوری نے پیش گوئی کی تھی۔ تھامس ہکسلے ڈارون کے سب سے زیادہ پرجوش حامیوں میں سے ایک تھا۔   تھامس پہلا شخص تھا جس نے اعتماد سے دعویٰ کیا کہ آرکیوپٹیرکس جیسے ڈائنوسار جدید پرندوں کے آباؤ اجداد تھے۔ لیکن ہر کوئی قائل نہیں تھا۔ 1871 میں، ایک شکی انگریز حیاتیات دان سینٹ جارج جیکسن میوارٹ نے ایک سادہ لیکن گہرے سوال کے ساتھ ڈارون کو چیلنج کیا: “آدھے پر کا کیا فائدہ ہے؟”

سوال یہ ہے کہ یہاں آدھے پروں سے کیا مراد ہے۔ آپ نے جوریسک پارک جیسی فلموں میں ڈائنوسار دیکھ رکھے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ مگرمچھ اور چھپکلی وغیرہ بھی۔  ان سب کی جلد ایک جیسی ہی ہوتی ہے جس پہ نہ تو پنکھ ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے بازو پروں کی شکل کے۔  ان کے مقابلے میں مرغی سے عقاب تک سبھی پرندوں کے پر ہوتے ہیں۔ ڈائنوسار کے لئے پنجوں  کا فائدہ ہے کیونکہ انھیں شکار  کرنے ، پکڑنے اور چیر پھاڑ کرنے کے لئے پنجوں کی ضرورت ہے جبکہ ان کے برعکس پرندوں اپنے پروں کو صرف اڑنے کے  لئے استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، فلموں میں دکھائے جانے والے  شکاری ڈائنوسار کے لیے پکڑنے والے پنجوں کے ساتھ ایک سادہ بازو کا ارتقائی فائدہ سمجھنا آسان ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک مکمل پنکھوں والے، پرواز کے قابل پر کا جدید پرندے کے لیے فائدہ دیکھنا آسان ہے۔ لیکن پروں جیسی پیچیدہ ساختیں صرف جادوئی طور پر مکمل طور پر بنی ہوئی حالت میں نمودار نہیں ہوتیں۔ ڈارون کی تھیوری کے مطابق ایسا ہونا ناممکن ہے کہ کوئی چھپکلی رات کو سوئے اور صبح اٹھے تو اس کے اگلے بازو راتوں رات پروں میں تبدیل ہو چکے ہوں۔ ارتقا میں اس کے بالکل الٹ ہوتا ہے بہت معمولی معمولی سی تبدیلیاں ایک بہت لمبے عرصے تک جمع ہوتی رہتی ہیں ۔ اس حساب سے کہیں درمیان میں، ایک آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مانند ایک ایسا ڈائنوسارہونا چاہیے تھا جس بازو  نا تو مکمل پنجے ہوں اور نا ہی مکمل پر۔

آدھا تیتر آدھا بٹیر: درمیان کی کڑی 1

آرکیوپٹیرکس کے فوسل  کی دریافت نے ایک جانب تو درمیان کی کڑی والے شرط تو پوری کردی تھی لیکن سائنسدانوں کو اب ایک نیا سوال درپیش تھا “آدھے پر کا کیا فائدہ ہے؟”  ڈارون کے نظریہ کے حساب سے تو ایک ایسا جاندار جو نا تو اڑ سکے اور نا ہی ٹھیک سے شکار کرنے کے قابل ہو اس  کو ان آدھے پر آدھے پنجوں کا بظاہر نقصان ہی تھا۔  اس پہیلی کا حل خود ڈارون نے ہی پیش کیا:

کیا یہ ممکن ہے کہ یہ آدھا پر پرواز کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے مفید ہو؟

ایک صدی کی دریافت اور ڈائنوسار کا احیاء

اگرچہ جوریسک دور کے پنکھوں کا پہلا فوسل کا ثبوت ڈیڑھ سو سال پہلے ملا تھا، پرندوں اور ڈائنوسار کے درمیان تعلق کو تقریباً ایک صدی تک نظر انداز کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت جن ڈائنوساروں کے بارے میں ہمیں معلوم تھا وہ زیادہ تر دیو ہیکل، آہستہ چلنے والے سبزی خور اور بے ڈھنگے، ٹھنڈے خون والے گوشت خور تھے۔ یہ بھاری بھرکم جانور چست، گرم خون والے پرندوں سے متعلق نہیں ہو سکتے تھے۔ تاہم، یہ پتہ چلا کہ چھوٹے، پرندوں جیسے ڈائنوسار کے فوسلز اب بھی چٹانوں میں چھپے ہوئے تھے، دریافت ہونے کے انتظار میں۔

Wishbones and Dinosaurs | Audubon

Wishbone

انیس سو بیس  کی دہائی میں، چند بااثر سائنسدانوں نے اعلان کیا کہ ڈائنوسار پرندوں کے آباؤ اجداد نہیں ہو سکتے کیونکہ کوئی بھی ابھی تک ویش بون—پرندوں کے ڈھانچوں میں پائی جانے والی  کی ایک اہم دوشاخہ ہڈی—کا فوسل دریافت  نہیں کرپایا تھا۔ لیکن دہائیوں بعد، محققین کو احساس ہوا کہ ان کے پاس پہلے سے موجود بہت سے فوسلز دراصل ڈائنوسار کے ویش بونز ہی تھے، جنہیں غلطی سے دوسری ہڈیاں سمجھا گیا تھا۔ اور ساٹھ کی دہائی میں، پرندوں اور ڈائنوسار کے درمیان تعلق کو بالآخر  تسلیم کر ہی لیا گیا۔

Deinonychus | Natural History Museum

Deinonychus

فوسلز کے ماہر جان اوسٹرم نے پہلی بار ڈائینو نائیکس نامی فوسل کو دریافت کیا، جو ایک تیز رفتار، گرم خون والا ڈائنوسار تھا جس کے پاؤں پرندوں جیسے تھے۔ (اگر آپ نے جوریسک پارک  فلم دیکھ رکھی ہے تو اس فلم میں جس ڈائناسور کو ویلوسی ریپٹر کا نام دیا گیا ہے وہ درحقیقت ڈائینو نائیکس ہی ہے ۔)

جان کے کام نے، دیگر فوسلز کی اقسام میں بہت سی مزید پرندوں جیسی خصوصیات کی دریافت کے ساتھ، ایک بار اور ہمیشہ کے لیے یہ ثابت کر دیا کہ جدید پرندے عقابوں سے لے کرمرغیوں تک سب کے سب  تھیروپوڈ ڈائنوساروں کا ایک زندہ ذیلی گروپ ہیں—وہ جو شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کے بعد پھیلی موت اور تباہی کے باوجود بھی معدومیت سے بچ گئےتھے ۔

آدھا تیتر آدھا بٹیر: درمیان کی کڑی 2

معمہ حل کرنا: نیم پروں کے بہت سے استعمال

چلیں واپس چلتے ہیں اپنے سوال کی جانب کہ  ایک عددآدھے پر کا اصل میں کیا فائدہ تھا؟ جان اوسٹرم  کے بعد نئے فوسلز کی دریافتوں نے خالی جگہوں کو بھرنا شروع کر دیا۔ نوے  کی دہائی میں، چین میں سائینو ساروپٹیرکس  —پہلا غیر-پرندہ ڈائنوسار جس میں پنکھ پائے گئے کی دریافت ہوئی۔

Sinosauropteryx - Stock Image - C050/2494 - Science Photo Library

Sinosauropteryx

 اس نو دریافت شدہ سائینو ساروپٹیرکس   کےپنکھ بالکل ابتدائی نوعیت کے تھے، زیادہ تر چھوٹےدھاگوں کی طرح، لیکن یہ دریافت بہت بڑی تھی۔ چونکہ اب ڈائنوسار خاندان کے شجرہ نسب کی دو مختلف شاخوں پر پنکھ پائے گئے تھے، یہ ایک مضبوط اشارہ تھا کہ وہ دونوں شاخوں کے ایک مشترکہ آباؤ اجداد میں تیار ہوئے تھے، پرواز سے بہت پہلے۔

آدھا تیتر آدھا بٹیر: درمیان کی کڑی 3

بعد میں دیگر پنکھوں والے فوسلز زیادہ پیچیدہ پنکھوں کے ساتھ پائے گئے، جو جدید پرندوں کی طرح پروں جیسے بازوؤں پر ترتیب دیے گئے تھے۔ لیکن ریاضیاتی تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان پنکھوں والے بازوؤں کی شکل اور سائز اڑان کے لئے درکار لفٹ پیدا نہیں کر سکتے تھے۔ یہ مزید ثبوت تھا کہ ایک پرندے جیسے پر کی ساخت سب سے پہلے ایسے ڈائنوساروں میں پیدا ہوئی جو اڑ نہیں رہے تھے۔

We know Sinosauropteryx having the banded tail and reddish/white colors. With description of Huadanosaurus however, that coloration is thought to belong to the Huadano. It's still puzzling me, does Sinosauropteryx have that

Sinosauropteryx

تو ان غیر-اڑنے والے نیم پروں کا مقصد کیا تھا؟

مواصلات اور ملاپ کے لیے: پنکھ، خاص طور پر جو ابتدائی پروں یا دم کی نوک پر جسم سے دور ہوتے ہیں، انہیں ڈسپلے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا، بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی نر مور کا شاندار رقص۔

جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے: سائنسدانوں کا  خیال ہے کہ تھیروپوڈ ڈائنوسار گرم خون والے تھے۔ چھوٹے، گرم خون والے جانوروں کو اپنے جسم کی حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے انسولیشن  کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسولیشن نا ہو تو جسم میں پیدا ہونے والی گرمائش اور حرارت ضائع ہو جاتی ہے۔، پنکھ اس میں بھی مدد کر سکتے تھے، ایک سردیوں کی گرم جیکٹ کی طرح ۔

انڈوں کی حفاظت کے لیے: اس بات کا ثبوت ہے کہ بہت سے ڈائنوسار اپنے انڈوں کو دفن کرنے کے بجائے ان پر بیٹھنے لگے تھے، اور پنکھوں والے بازو انڈوں کو ڈھکنے اور گرم رکھنے کے لیے بہترین ہوتے۔

یہ سب بہترین مثالیں تھیں کہ ایک آدھا پر کس طرح مفید ہو سکتا تھا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی پروں کو پرواز کی طرف براہ راست راستے پر نہیں ڈالا۔ تو کیا ہوگا اگر یہ پنکھوں والی ساختیں پہلے انسولیشن  یا مواصلات کے لیے تیار ہوئیں، لیکن پھر صرف اتفاق سے ان پرندوں جیسے ڈائنوسار کو حرکت میں مدد کرنے کا کچھ چھوٹا سا فائدہ بھی ہوا؟ یہ وہ جگہ ہے جہاں کہانی واقعی دلچسپ ہو جاتی ہے۔

 

مرغی کا تجربہ: ایک جدید دور کا حل

ایک طویل عرصے تک، پرواز کی اصلیت کے بارے میں دو اہم نظریات تھے۔ ایک گروہ، “زمین-سے-اوپر” کے نظریات، نے تجویز کیا کہ پرواز بھاگنے کی ایک سیریز کے طور پر شروع ہوئی جس میں پروں کے تیار ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں رہنے کا وقت بڑھتا گیا۔ دوسرا گروہ، “درختوں-سے-نیچے” کے نظریات، نے دلیل دی کہ کشش ثقل کے خلاف پرواز تیار کرنا بہت مشکل تھا، لہٰذا پرندوں کے آباؤ اجداد کو پہلے سے ہی درختوں میں رہنے والا ہونا چاہیے تھا جو نیچے کی طرف گلائیڈ کرنا شروع کر دیتے تھے۔ دونوں نظریات قابل قبول تھے، لیکن کسی گروہ کے پاس بھی اپنے کیس کو ثابت کرنے کے لیے حتمی ثبوت دستیاب نہیں تھے۔

پھر ایک تیسرا ماڈل آیا، جسے ایک حیاتیات دان کین ڈیال نے پیش کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ پرندوں کے بچے یعنی چوزے وغیرہ ،اپنے  مکمل پنکھ آنے سے پہلے، بنیادی طور پر آدھے پر رکھتے ہیں۔ وہ ان معدوم عبوری ڈائنوساروں کے لیے ایک بہترین زندہ ماڈل ہو سکتے ہیں۔ تو، نوجوان پرندے اپنے آدھے پروں کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

 اپنے مشہور تجربے میں، ڈیال نے مشاہدہ کیا کہ پروں والے چوزے اپنے پروں کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ڈھلوان یا حتیٰ کہ عمودی سطحوں پر چڑھتے ہیں۔ انہوں نے اسے پروں کی مدد سے چڑھائی پہ دوڑناکہا۔

Wing-Assisted Incline Running (WAIR)

Ubiquity of Wing-assisted incline running

لفٹ پیدا کرنے کے لیے خود کو اوپر دھکیلنے کے بجائے، وہ اپنے پروں کو نیچے اور اپنے پیچھے پھڑپھڑا رہے تھے، اپنے جسموں کو چڑھنے والی سطح کی طرف دھکیل رہے تھے تاکہ ان کی گرفت میں اضافہ ہو۔ یہ ان کے بازوؤں میں چھوٹے گراپلنگ ہکس ہونے کی طرح ہے۔

ہم فوسلز کے ڈھانچوں سے جانتے ہیں کہ عبوری پرندوں جیسے ڈائنوسار اپنے پروں کو اس مکمل رینج آف موشن کے ساتھ پھڑپھڑا نہیں سکتے تھے جو جدید پرندے کر سکتے ہیں، لیکن وہ اپنے پروں کو بالکل اسی طرح حرکت دینے کے قابل ہوتے تھے جس طرح چوزے چڑھائی پہ دوڑنے کے دوران اپنے پروں کا استعمال کرتے ہوئے کرتے ہیں۔ اس نے ان ابتدائی پنکھوں والے بازوؤں کے لیے ایک براہ راست ارتقائی راستہ فراہم کیا۔ اگر آپ ایک چھوٹا ڈائنوسار ہیں جو شکاری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، تو چڑھائی پہ پروں کی مدد سے دوڑنے نے حفاظت کی طرف جانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔

آج، چڑھائی پہ پروں کی مدد سے دوڑنے والا ان سب سے زیادہ قبول شدہ نظریات میں سے ایک ہے کہ کس طرح ان عبوری آدھے پروں نے اپنا منفرد ارتقائی فائدہ فراہم کیا۔ اس نے ڈارون کا معمہ ایک معمولی مرغی سے حل کیا۔

Exaptation

یہ پورا عمل ایکس ایپٹیشن کی ایک شاندار مثال ہے، جہاں ارتقا ایک موجودہ ساخت کو لیتا ہے اور اسے کسی نئے مقصد کے لیے “ہائی جیک” کرتا ہے۔ یہ فطرت میں تبدیلی واقع ہونے کا ایک خوبصورت منطقی طریقہ ہے، کیونکہ ہر جاندار جو زندہ رہتا ہے اسے اپنی موجودہ شکل میں مکمل طور پر فعال ہونا پڑتا ہے۔ اسے کھانے، حرکت کرنے اور دوبارہ پیدا کرنے کے قابل ہونا پڑتا ہے۔ لہٰذا کوئی بھی نئی ساخت یا صلاحیت کو تقریباً کسی ایسی چیز سے تیار ہونا پڑتا ہے جو پہلے سے موجود ہو۔

پرندوں نے جس طرح آسمان کی طرف قدم بڑھایا وہ زندگی کی تاریخ میں سب سے دلچسپ کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اور شکر ہے، ہمارے پاس ابھی بھی کچھ ڈائنوسار باقی ہیں—جو ہماری اپنی پچھلی صحن میں ہیں—جنہوں نے اس حیرت انگیز راز کو حل کرنے میں ہماری مدد کی۔

 

یہ مضمون یوٹیوب چینل بی سمارٹ کی ایک ویڈیو کا ترجمہ ہے اصل  وڈیوذیل میں دی گئی ہے

How Feathered Dinosaurs Accidentally Invented Flight (We Tested It!)

Dr. Muhammad Ibrahim Rashid Sherkoti

Hi, I am a Ph.D. in biotechnology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am interested in biotechnology, infectious diseases and entrepreneurship. You can contact me on my Twitter @MIR_Sherkoti.