کیا آپ نے کبھی سُنا ہے کہ ایک بچہ تین والدین سے پیدا ہو سکتا ہے؟ یہ کوئی دیومالائی کہانی یا سائنسی افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو آج کے دور میں ممکن ہو چکی ہے۔ اس کہانی کی جڑیں سائنس کی اس شاخ میں ہیں جسے جینیاتی تحقیق یا جینیاتی انجینئرنگ کہا جاتا ہے۔ ہم آپ کو ایک ایسے سائنسی کارنامے کی داستان سنانے جا رہے ہیں جس میں تین لوگوں کا جینیاتی مواد ملا کر ایک ایسا بچہ پیدا کیا گیا جو ایک خطرناک بیماری سے محفوظ ہے۔ آئیے، اس دلچسپ کہانی کی تفصیلات میں چلتے ہیں، سادہ انداز میں، تاکہ آپ بھی سائنس کی اس حیران کن دنیا سے لطف اندوز ہو سکیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ بچے ماں اور باپ کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ماں کا ایگ اور باپ کا سپرم مل کر ایک نیا انسانی وجود بناتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ماں کے ایگ میں صرف جینز ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک چھوٹا سا خصوصی عضو بھی ہوتا ہے جسے مائٹوکانڈریا کہتے ہیں۔ یہ مائٹوکانڈریا خلیے کی توانائی پیدا کرنے والی مشین کی طرح ہوتے ہیں۔ یعنی اگر جسم کو بیٹری کی ضرورت ہو، تو مائٹوکانڈریا وہ بیٹری ہے جو ہر خلیے کو طاقت فراہم کرتی ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات ماؤں کے مائٹوکانڈریا میں خرابیاں ہوتی ہیں، یعنی ان میں کچھ ایسی جینیاتی گڑبڑ ہوتی ہے جو بچوں کو خطرناک بیماریوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ان بیماریوں میں پٹھوں کی کمزوری، دماغی نقائص، دل کے مسائل، اور یہاں تک کہ موت تک شامل ہو سکتی ہے۔ یہ خرابیاں ماؤں سے بچوں کو منتقل ہو جاتی ہیں کیونکہ مائٹوکانڈریا صرف ماں سے بچے کو ملتے ہیں، باپ سے نہیں۔
یہ مسئلہ کافی عرصے سے سائنس دانوں کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا تھا۔ ایک صحت مند بچہ کیسے پیدا کیا جائے اگر ماں کے مائٹوکانڈریا خراب ہوں؟ یہ سوال برطانیہ کے سائنس دانوں کے ذہن میں تھا اور اس کا جواب انہوں نے 2015 میں ڈھونڈ نکالا۔ وہ طریقہ جس نے دنیا کو چونکا دیا اور جس کی بدولت اب تک کئی صحت مند بچے پیدا ہو چکے ہیں، وہ ہے –
“تین والدین کی تکنیک”
یا سائنسی زبان میں
“Mitochondrial Replacement Therapy (MRT)”
اب ذرا تصور کریں: ایک عورت جو مائٹوکانڈریا کی بیماری میں مبتلا ہے، بچہ پیدا کرنا چاہتی ہے مگر وہ نہیں چاہتی کہ اس کی بیماری بچے کو منتقل ہو۔ ایسے میں، سائنس دان کیا کرتے ہیں؟ وہ اس خاتون کا ایگ لیتے ہیں، اس میں سے خراب مائٹوکانڈریا کو نکالتے ہیں اور ایک دوسری صحت مند خاتون کا مائٹوکانڈریا اُس ایگ میں شامل کرتے ہیں۔ پھر اس ایگ کو اُس عورت کے شوہر کے سپرم کے ساتھ ملا کر حمل قائم کیا جاتا ہے۔ نتیجہ؟ ایک بچہ جو 99.9 فیصد اپنے والدین جیسا ہے، مگر اس کے خلیات میں موجود توانائی کی مشینیں ایک تیسری خاتون کی ہوتی ہیں، جو مکمل طور پر صحت مند ہیں۔

یہ سن کر شاید آپ کے ذہن میں سوال آئے: کیا یہ بچہ تین لوگوں کا ہے؟ جواب ہے: تکنیکی طور پر جی ہاں، مگر عملی طور پر بچہ صرف اپنی ماں اور باپ جیسا ہی ہوتا ہے، صرف 0.1 فیصد ڈی این اے اُس تیسرے شخص کا ہوتا ہے جو صرف توانائی فراہم کرنے والے مائٹوکانڈریا سے متعلق ہے۔ وہ بچہ اس خاتون سے کوئی جذباتی یا خاندانی رشتہ نہیں رکھتا، بلکہ صرف اس کے مائٹوکانڈریا سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
یہ تکنیک صرف خواب نہیں رہی۔ برطانیہ وہ پہلا ملک تھا جس نے 2015 میں اس طریقے کو قانونی حیثیت دی۔ نیو کیسل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس میدان میں سب سے زیادہ کام کیا، اور اب تک کم از کم آٹھ بچے برطانیہ میں اس تکنیک سے پیدا ہو چکے ہیں۔ ان بچوں کے والدین ان بیماریوں سے چھٹکارا پا چکے ہیں جو انہیں وراثت میں ملنے والی تھیں۔ یہ ایک ایسا سائنسی کارنامہ ہے جو نہ صرف جینیاتی بیماریوں سے نجات کا راستہ ہے، بلکہ کئی خاندانوں کے لیے نئی امید بھی بن چکا ہے۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ سائنس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ کبھی ہم صرف بیماریوں کا علاج کرتے تھے، اب ہم بیماریوں کو پیدا ہونے سے روک رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو نہ صرف طب کی دنیا میں انقلاب لا رہی ہے بلکہ انسانی جینیات کو سمجھنے کا انداز بھی بدل رہی ہے۔ مگر جہاں کامیابی ہے وہاں خدشات بھی ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ کہیں مائٹوکانڈریا کی بیماری مکمل طور پر ختم نہ ہو بلکہ کچھ خراب خلیے رہ جائیں اور آگے جا کر مسئلہ بنیں۔ لیکن اب تک کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔

چلیے اب ایک ایسے جوڑے کی مثال سے بات کو اور واضح کرتے ہیں۔ فرض کریں، مریم اور احمد شادی شدہ جوڑا ہیں۔ مریم کو مائٹوکانڈریا کی ایک جینیاتی بیماری ہے جو اس کی ماں سے اسے ملی۔ وہ اپنے خاندان کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں مگر خوف ہے کہ ان کا بچہ بھی بیمار پیدا ہوگا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ تین والدین کی تکنیک اپناتے ہیں۔ مریم کا انڈا لیا جاتا ہے، اس میں سے خراب مائٹوکانڈریا نکال کر ایک دوسری خاتون – جو مکمل صحت مند ہے – کا مائٹوکانڈریا شامل کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں احمد کا سپرم شامل کر کے ایمبریو بنایا جاتا ہے، اور وہ حمل مریم کے رحم میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ چند ماہ بعد، مریم ایک صحت مند بچے کو جنم دیتی ہے، جو نہ صرف ماں باپ جیسا ہے بلکہ ایک خطرناک بیماری سے بھی محفوظ ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب کسی فلم کا منظر ہو، مگر یہ حقیقت ہے۔ برطانیہ کے ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریولوجی اتھارٹی نے اس پورے عمل کی نگرانی کی ہے۔ ہر کیس کو خاص طور پر منظوری دی جاتی ہے اور اس کے لیے والدین کا مکمل جینیاتی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ تکنیک صرف اُن ہی جوڑوں کے لیے منظور کی جاتی ہے جنہیں جینیاتی بیماری منتقل ہونے کا واضح خطرہ ہوتا ہے۔
لیکن یہ تکنیک ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ یہ ایک مہنگا عمل ہے، اور ابھی بہت کم مراکز میں دستیاب ہے۔ پھر بھی، سائنسدانوں کو امید ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا، یہ طریقہ مزید قابلِ رسائی ہوگا، اور لاکھوں خاندان اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اب آتے ہیں اُس سوال کی طرف جو اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے: کیا یہ قدرت کے نظام میں مداخلت ہے؟ کیا یہ اخلاقی طور پر درست ہے؟ سچ یہ ہے کہ جب سائنس نئی راہیں کھولتی ہے، تو اس کے ساتھ بہت سے اخلاقی، سماجی اور قانونی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے انسانی قدرت میں مداخلت کہتے ہیں، تو کچھ لوگ اسے ایک نجات دہندہ ٹیکنالوجی سمجھتے ہیں۔ دونوں نظریات کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔
مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ تکنیک اُن بچوں کو ایک نئی زندگی دینے کا ذریعہ بن رہی ہے جن کی زندگی بیماریوں سے محروم ہو سکتی تھی۔ اگر ہم سائنس کو احتیاط اور اصولوں کے ساتھ استعمال کریں، تو یہ ہمیں صرف بیماریوں سے نجات نہیں دلائے گی بلکہ ایک بہتر، صحت مند نسل کی طرف بھی لے جائے گی۔
یہ کہانی صرف سائنس کی نہیں بلکہ انسانی جذبے، امید، اور ماں باپ کے خوابوں کی بھی ہے۔ یہ ان خاندانوں کی فتح کی کہانی ہے جو بیماریوں سے ہار نہیں مانتے بلکہ سچائی، علم، اور جدوجہد کے ذریعے اپنی تقدیر بدلتے ہیں۔ تین والدین کی تکنیک اُن کے لیے امید کی کرن ہے، اور ہمارے لیے سائنس کا ایک حیرت انگیز باب۔
تو جب اگلی بار آپ کسی سائنسی خبر کو سنیں جس میں کوئی “نیا تجربہ” ہو رہا ہو، تو رک کر سوچیے گا: ہو سکتا ہے وہ کسی کی زندگی بدل رہا ہو، جیسے تین والدین کی تکنیک نے بدل دی۔