یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ تعریف کے شدید بھوکے ہیں۔ ساتھ ہی وہ خود کو دنیا میں امن کا پیامبر سمجھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ان کا کہنا تھا: “ہم نے تو گویا غزہ میں جنگ ختم کر دی اور واقعی، بڑے پیمانے پر امن قائم کر دیا”۔ تاہم جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے کیا ہم اسے امن معاہدہ کہہ سکتے ہیں حالانکہ واضح طور پر اس کا مقصد ہی جنگی مجرموں کو مکمل معافی دلوانا محسوس ہوتا ہے؟ کیا آج کل یہی امن کی تعریف رہ گئی ہے؟ کیا قصاب اور معصوم بچوں کے قاتل صرف ایک دستخط سے برسوں کے جنگی جرائم سے بچ سکتے ہیں؟ شہریوں کو، بچوں کو، اسپتالوں کو، صحافیوں کو نشانہ بنانے کے دہائیوں پر محیط ریکارڈ سے بھی؟ لاکھوں انسانوں کے لیے خوراک اور پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے جرائم سے؟ عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو اس حد تک تباہ کرنے کی سمجھبی بوجھی کوشش سے کہ علاقہ مکمل طور پر ناقابلِ رہائش بن جائے؟

اب جبکہ باقی بچے ہوئے اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی بھی جنگ بندی کے دوران مذاکرات کے نتیجے میں ہوئی ہے، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تقریباً تمام یرغمالیوں کی رہائی اسی طریقے سے ہوئی۔ نہ تابڑ توڑ بمباری ان کو چھڑا سکی، نہ ہی کسی ہالی ووڈ طرز کے ریسکیو آپریشن کے ذریعے، بلکہ سیدھے سادے مذاکرات کے ذریعے۔ اگر اصل ترجیح یرغمالیوں کی واپسی ہوتی، تو یہ کام وہ پہلے کر لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ ان کا کام ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اور پھر، کیا ہم اسے امن معاہدہ کہیں جب تعمیر نو کے منصوبے صاف ظاہر کر رہے ہوں کہ یہ فلسطینیوں کے لیے بن ہی نہیں رہے؟ کیا واقعی کوئی سمجھتا ہے کہ جیرڈ کشنر، ٹرمپ کے الٹرا صیہونی داماد، اور اس کے ارب پتی سرمایہ کار سب کچھ کسی فلسطینی شہر کی تعمیر کے لیے کر رہے ہیں؟

معاہدے میں چاہے یہ لکھ دیں کہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن یہ مت بھولیں کہ جن لوگوں کو تعمیر نو کی نگرانی دی گئی ہے، وہی لوگ برسوں سے ان مظالم کی فنڈنگ، سہولت کاری اور مدد کرتے آئے ہیں۔ اور یہ کہ فلسطینیوں کو جو “خود مختاری” ملے گی، وہ اسی شرط پر ہوگی کہ اصل اختیار انہی غاصبوں کا  ہو گا۔ وہ فیصلہ کریں گے کہ کون لیڈر بن سکتا ہے اور کون نہیں۔ وہ فلسطینیوں کو وطن چھوڑنے پر تو شاید مجبور نہ کر سکیں لیکن وہاں رکنا موت سے زیادہ اذیت ناک ضرور بنا سکتے ہیں۔ ایسے حالات بآسانی پیدا کیے جا سکتے ہیں کہ غزہ سے جانا آسان اور وہاں رہنا تقریباً ناممکن ہو گا۔ تو پھر امن کہاں ہے؟ مجھے تو امن کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ مجھے منصوبے کا آخرمرحلہ واضح نظر آتا ہے۔ غزہ کے اسرائیل میں مکمل انضمام کی تکمیل۔

کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا: “ہم نے دو ہفتے پہلے غزہ کے لیے خوراک کی مد میں 60 ملین ڈالر دیے اور کسی نے ہمارا شکریہ تک ادا نہیں کیا۔”

اول تو آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ کم از کم ایسی کسی امداد کا آن لائن کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ہاں، ‘غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن’ کے لیے 30 ملین ڈالر مختص کیے جانے کا ریکارڈ ضرور موجود ہے، جو کہ ایک ایسی تنظیم ہے جسے اسرائیلی اور امریکی حکومتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ ادارہ پہلے ہی آئی ڈی ایف (IDF) کے ساتھ تعاون کرنے پر تنقید کی زد میں ہے، جس کا مقصد اسرائیلی حکومت کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ غزہ کے فاقوں مرتی عوام کے خلاف خوراک کی رسائی کو کنٹرول کر سکے اور اسے بطور ہتھیار استعمال کر سکے۔

آپ کو میری کہی بات پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ رہے سابق گرین بیریٹ (Green Beret) انتھونی ایگیلر کے الفاظ، جنہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس ادارے کے لیے کام کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے وہ آئی ڈی ایف کے ساتھ تعاون کر رہے تھے: “اگر میں بالکل واضح الفاظ میں کہوں تو میرے خیال میں وہ مجرم ہیں۔ میں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک نہتی، فاقہ کش شہری آبادی کے خلاف اس سطح کا ظلم اور اندھا دھند، غیر ضروری طاقت کا استعمال کبھی نہیں دیکھا۔”

اور اگر یہ آپ کے لیے کافی نہیں ہے، تو یہ رہے ڈاکٹر نک مینارڈ کے الفاظ، جو اسی صورتحال کے بعدہسپتالوں میں  زخمیوں اور میتوں کا تجزیہ کرنے کے بعد بیان کرتے ہیں: “ہمیں ایسا لگا جیسے یہ (غزہ ہیومینیٹیرین فاؤںڈیشن کے کیمپوں پر تعینات سیکیورٹی اہلکار) نشانہ بازی (target practice) کھیل رہے تھے۔ آج کے دن سب کے سروں میں گولی ماری جائے گی، کل صرف سینے میں، اور اگلے دن پوشیدہ حصوں میں۔” اور یاد رہے کہ یہ قتل عام اس مفروضہ امن معاہدے کے باوجود تاحال جاری ہے۔

تو، آپ چاہتے ہیں کہ اس ظلم پر ہم آپ کا شکریہ ادا کریں؟ اسرائیلی جنگی جرائم کی فنڈنگ، سہولت کاری اور ان میں تعاون کرنے کا؟ وہی کام جو آپ ہمیشہ کرتے رہے ہیں؟ اور تو اور اس سب پر آپ کا شکریہ بھی ادا کیا جا چکا ہے۔ زبانی طور پر، مالی طور پر، عوامی طور پر، بلکہ کچھ زیادہ ہی فراخ دلی سے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی۔ یاد کریں نیتن یاہو نے اوول آفس میں بیٹھ کر خوشگوار موڈ میں کہا تھا: “جناب صدر، میں آپ کو وہ خط پیش کرنا چاہتا ہوں جو میں نے نوبل پرائز کمیٹی کو بھیجا ہے۔ اس میں آپ کو امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جس کے آپ حقدار ہیں۔” (طنز)

اور میرے خیال میں یہاں یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ چونکہ ‘غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن’ امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کے زیر کنٹرول اور انہی سے فنڈڈ ہے، اس لیے یہ رقم کوئی ‘عطیہ’ نہیں ہے، بلکہ محض ایک خاص مقصد کے لیے فنڈز کی ہیر پھیر ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی ارب پتی اپنے نام پر فلاحی ادارہ بنائے، خود ہی کو ڈھیر سارا پیسہ عطیہ کرے، اس پیسے کو اپنے مالی مفادات کے لیے، جغرافیائی سیاست میں ہیرا پھیری کے لیے استعمال کرے، ٹیکس بچانے کے لیے اس عطیے کو مختلف کھاتوں میں ڈالے، اور پھر کسی ایسے اخبار سے، جس کے وہ شاید خود مالک ہوں، اپنی فیاضی اور رحم دلی کے جھوٹے قصیدے لکھوائے۔

اس کے علاوہ، اگر بالفرض 60 ملین ڈالر کی خوراک کا واقعی کوئی عطیہ دیا بھی گیا ہوتا جو غزہ کے بھوکے لوگوں میں تقسیم ہوا ہوتا، تو بھی… یہ آپ کا پیسہ نہیں ہے، یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے۔ اور مزید یہ کہ، آپ غزہ کے لوگوں کو بھوکا مارنے میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔ کوئی آپ کا شکریہ ادا کرنے کا پابند نہیں ہے۔ خدایا! امریکہ… میں کہنا چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں آپ نے جتنے بھی صدور منتخب کیے ہیں، وہ سب کے سب گھٹیا، ظالم جنگی مجرم، مالی طور پر کرپٹ، مکار، اور آمرانہ ڈراؤنے خواب ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن اس بار… اس بار لگتا ہے کہ آپ نے واقعی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔

Trump: We gave $60 million for Gaza, nobody said thank you

https://web.facebook.com/reel/1132641355717998

Muhammad Bilal

I am assistant professor of biology at Govt. KRS College, Lahore. I did my BS in Zoology from University of the Punjab, Lahore and M.Phil in Virology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am Administrator at EasyLearningHome.com and CEO at TealTech