ارتقا کے حوالے سے ہم نے ابھی تک اپنی توجہ زیادہ تر جرثوموں اور جانوروں پہ ہی مرکوز کر رکھی تھی چلیں اب کچھ بات کر لیتے ہیں پودوں کی بھی۔
ہمیں اپنے اردگرد بے تحاشا پودے نظر آتے ہیں چاہے وہ گھاس ہو جھاڑیاں ہوں یا پھر پھلدار درخت۔ جانوروں کی طرح پودوں کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں کچھ ایسے پودے ہوتے ہیں جن پہ پھل لگتے ہیں انھیں اینجئو سپرمز کہتے ہیں۔ یہ اینجئو سپرمز کنبہ پودوں میں سب سے زیادہ ارتقا یافتہ ہے۔ ان کی پہچان ان کے پھول اور پھلوں کے اندر چھپے بیج ہوتے ہیں۔ ان سے ایک درجہ نیچے پائن اور خشک میواجات والے پودے آتے ہیں جیسے ہم سب کی جیبوں سے بہت دور چلغوزہ۔ ان کو جیمنو سپرمز کہتے ہیں ان کے بیج کے اوپر پھل نہیں ہوتا اور نا ہی ان پہ پھول آتے ہیں۔ ان کے بعد بارے آتی ہے ٹریڈوفائٹس اور برائیو فائٹس کی۔ ان کے نا تو درخت ہوتے ہیں اور نا ہی ان پہ پھل پھول اور بیج لگتے ہیں۔

خیر آج کا موضوع اینجئو سپرمز کا ارتقا ہے۔ تو جناب ایک دفعہ کا زکر ہے جب کہ دنیا پہ ڈائینا ساروں کا راج تھا اس وقت نا تو کوئی انسان موجود تھا اور نا ہی کوئی پھل۔
آموں کے بغیر ویسے بھی انسانوں نے جی کے کیا ہی کر لینا تھا۔
آپ سب جانتے ہی ہونگے کہ ڈائینا ساروں کا اختتام ایک عدد شہاب ثاقب کے زمین کے ساتھ ٹکرانے کے باعث ہوا تھا۔ تو جب وہ شہاب ثاقب براعظم شمالی امریکہ میں گرا تو اس کے نتیجے میں زمین کی شکل بالکل ہی بدل گئی۔ کافی زیادہ اٹھنے والے گرد اور دھوئیں کے بادلوں نے زمین کو مکمل طور پہ ڈھانپ لیا تھا اور سورج کی روشنی اس گرد اور دھوئیں کے بادلوں کے سبب سطح تک پہنچ ہی نہیں پا رہی تھی۔ اب ہم سب جانتے ہیں کہ پودے اپنی خوراک سورج کی روشنی سے فوٹو سینتھسس کے عمل کے زریعے بناتے ہیں۔ ایسی تباہ کن صورتحال میں جب روشنی ہی میسر نا ہو تو پھر پودوں کو ایک سنگین بحران کا سامنا تھا۔

اس وقت موجود پودوں کے فوسلز کے مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ ان بحرانی حالات میں پودوں نے ایک عجیب و غریب حکمت عملی اختیار کی جو کہ اس سے پہلے کبھی کسی جاندار خواہ جانور ہو یا پودا نے کبھی نہیں اپنائی تھی۔ یہ حکمت عملی کیا تھی بھلا؟ پودوں نے اپنا سارا کا سارا ڈی این اے یا جینوم دگنا کرلیا تھا۔ ہول جینوم ڈوپلیکیشن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کے آپ اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو کا پورا کلون بنا لیں مطلب ہر فائل ہر سافٹ وئیر کو کاپی کرلیں۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ پودوں کے ڈی این اے میں جینز ہوتی ہیں نا کہ سافٹ وئیرز اور فائلز۔

ہول جینوم ڈوپلیکیشن ایک ایسا حیاتیاتی واقعہ ہے جس میں ایک پودے کا پورا ڈی این اے دو گنا ہو جاتا ہے۔ جی ہاں، پورا جینوم۔ دو بار۔ بغیر کسی ظاہری مقصد کے۔ جس طرح اپ کے کمپیوٹر کی فائلز کو ہارڈ ڈرائیو پہ جگہ چاہیے ہوتی ہے اور اگر جگہ ختم ہونے لگے تو آپ کا کمپیوٹر آپ کو کہتا ہے کہ کچھ غیر ضروری فائلز ڈلیٹ کر دیں۔ بالکل ویسے ہی جینوم ڈوپلیکیشن زیادہ تر وقت، یہ غیر ضروری لگتا ہے۔ جینز کی نقول صرف ڈیٹا کا بوجھ بنتی ہیں۔ مگر کبھی کبھار، جب دنیا میں تباہی مچی ہو ۔۔۔۔جیسے کہ شہاب ثاقب گرتا ہے یا برفانی دور آتا ہے—تو یہی اضافی ڈی این اے بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
جیسے اوپر ذکر ہو چکا کہ ماہرین کے مشاہدوں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب شہاب ثاقب زمین سے ٹکرایا اور ڈائنو سارز کا خاتمہ ہوا، تو اسی وقت بہت سے پودوں میں مکمل جینوم دگنا ہوا۔ لیکن یہ واقعہ صرف ایک بار نہیں وقعوع پذیر ہوا بلکہ جب بھی اس طرح کی کوئی آفت پودوں کو پیش آئی مثلاً زمین کا برفانی دور یا جب آتش فشاں پھٹے وغیرہ وغیرہ ایسے سب واقعات جن کے سبب ماحول میں شدید تبدیلیاں درپیش آئیں، ان تمام ادوار میں بھی پودوں میں جینوم ڈپلیکیشن کے آثار ملتے ہیں۔

چلیں یہاں تک تو بات سمجھ آگئی کہ جب بھی حالات خراب ہوئے پودوں نے پہلا کام ہی یہی کیا کے اپنے ڈی این اے کی ایک اضافی کاپی بنا کے رکھ لی۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ آخر کیوں؟ اس کیوں کا جواب ماحولیاتی تبدیلی میں پنہاں ہے۔ جب ماحولیاتی نظام تباہ ہو رہا ہو، تو اس ماحول میں رہنے والے ہر جاندار کو درپیش آنے والی تبدیلی کی مطابق خود کو ڈھالنے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہر جین کوئی نا کوئی مخصوص کام (مثلاً انسولین کی جین انسولین بناتی ہے) کر رہی ہوتی ہے۔ عام حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی غلطی سے اس جین میں کوئی تبدیلی آجائے جیسے کہ ہم پچھلے صفحات میں میوٹیشن کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ یہ میوٹیشن ایک ایسا جُوا ہے کہ جس میں بہت کچھ داؤ پہ لگا ہوتا ہے۔ اگر اس میوٹیشن کا فائدہ ہوا تو بہت خوب نہیں تو الٹا لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اگر ایسی صورتحال میں آپ کے پاس ایک نہیں بلکہ دو مکمل ڈی این اے سیٹ ہوں، تو آپ کے پاس ارتقائی تجربات کرنے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں، کہ اگر میوٹیشن کی وجہ سے جین کے نارمل کام میں گڑبڑ ہو بھی گئی تو آپ کے پاس ایک عدد صحیح سلامت کاپی موجود ہوتی ہے۔
ارتقا ہمیشہ منظم یا مکمل منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ غلطیوں، حادثوں، اور عجیب اتفاقات سے بھرا ہوتا ہے— جو بعد میں پوری دنیا کو بدل دیتے ہیں۔ خیر واپس چلتے ہیں پودوں کی جانب ہول جینوم ڈوپلیکیشن کوئی سوچا سمجھا منصوبہ نہیں تھا۔ یہ ایک حادثہ تھا۔ مگر جب حالات بگڑ گئے—روشنی غائب ہو گئی، سردی چھا گئی—تو یہی حادثہ بچاؤ کا ذریعہ بن گیا۔

ہم اکثر ارتقاء کو ایک انجینیئر کی طرح تصور کرتے ہیں، جو مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے یا پھر ہر چیز کا خاکہ بناتا ہے۔ درحقیقت، ارتقاء ایک ہوشیار ہیکر کی طرح ہے جو پرانے کوڈ کے ساتھ نئی چیزیں بناتا ہے۔ اگر دو جینز ہو جائیں۔۔۔۔ تو ایک اپنا پرانا کام جاری رکھ سکتی ہے جبکہ دوسری بن جائے گی کولڈ ریزسٹنس اسپیشلسٹ، یا لائٹ سینسر، یا کوئی ایمرجنسی ریپئر پروٹین۔ یہ سب ٹرائل اینڈ ایرر ہے۔ مگر جب مقصد بقا ہو، تو اتنا ہی کافی ہوتا ہے۔
آج کے پودوں کی 90 فیصد اقسام اینجیواسپرمز پر مشتمل ہیں۔ قطب شمالی کی برف سے لے کر صحراؤں کی تپش تک ہر جگہ موجود ہیں، اور یہ محض اتفاق نہیں۔ ڈائینا سارز کے خاتمے کے بعد پنپنے والی نئی دنیا تین نئی اقسام کے جانداروں کی دنیا تھی جہاں اینجیو اسپرمز، ممالیہ اور پرندوں کا عہد شروع ہوا جو کہ آج تک جاری ہے۔ اور ہاں ایک مزیدار بات سائنسدان پرندوں کو ڈائینا سار کے باقی بچ جانے والے کزن ہی سمجھتے ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں پرندوں کو ایوین ڈائینا سار کہا جاتا ہے مطلب اڑنے والے ڈائینا سار اور جو شہاب ثاقب کے گرنے سے معدوم ہوگئے تھے انھیں نان ایوین ڈائینا سار کہا جاتا ہے مطلب وہ ڈائینا سار جو اڑنے کے قابل نہیں تھے۔
-ختم شد-