ہماری کہانی ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے شروع ہوتی ہے۔ دنیا پھر میں دیووں کی حکومت ہے جی ہاں دیو وہی جنھیں ہم آج ڈائنوسارز کے نام سے جانتے ہیں۔ اپنے وقت کا سب سے بڑا ڈائنوسار ٹیٹانوسار 40 میٹر لمبا 70 ٹن وزنی ایک حقیقی دیو تھا۔ یہ سبزی خور دیو اپنی خوراک کے لئے روزانہ جنگلات کا رخ کرتا تھا لیکن اس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ایک پھول نہیں دیکھا تھا اور نا ہی کوئی پھل چکھا کیوں کہ اس وقت تک پھول دار پودوں کا ارتقا نہیں ہوا تھا۔
ہمیں اپنے اردگرد بے تحاشا پودے نظر آتے ہیں چاہے وہ گھاس ہو جھاڑیاں ہوں یا پھر پھلدار درخت۔ جانوروں کی طرح پودوں کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں کچھ ایسے پودے ہوتے ہیں جن پہ پھل لگتے ہیں انھیں اینجئو سپرمز کہتے ہیں۔ یہ اینجئو سپرمز کنبہ پودوں میں سب سے زیادہ ارتقا یافتہ ہے۔ ان کی پہچان ان کے پھول اور پھلوں کے اندر چھپے بیج ہوتے ہیں۔ ان سے ایک درجہ نیچے پائن اور خشک میواجات والے پودے آتے ہیں جیسے ہم سب کی جیبوں سے بہت دور چلغوزہ۔ ان کو جیمنو سپرمز کہتے ہیں ان کے بیج کے اوپر پھل نہیں ہوتا اور نا ہی ان پہ پھول آتے ہیں۔ ان کے بعد بارے آتی ہے ٹریڈوفائٹس اور برائیو فائٹس کی۔ ان کے نا تو درخت ہوتے ہیں اور نا ہی ان پہ پھل پھول اور بیج لگتے ہیں۔
خیر آج کا موضوع اینجئو سپرمز کا ارتقا ہے۔ تو جناب ایک دفعہ کا ذکر ہے جب کہ دنیا پہ ڈائینا ساروں کا راج تھا اس وقت نا تو کوئی انسان موجود تھا اور نا ہی کوئی پھل۔ ویسے بھی آموں کے بغیر انسانوں نے جی کے کیا ہی کر لینا تھا۔

Titanosaur
خیر واپس چلتے ہیں ٹیٹانوسار کے زمانے میں، ٹیٹانوسار اور اس جیسے بہت سارے دیگر دیو ہیکل ڈائنوسارزانجانے میں “ایکو سسٹم انجینئرز” کا کردار نبھا رہے تھے۔ “ایکو سسٹم انجینئرز” ایسے جانداروں کو کہا جاتا ہے جو کہ اپنے ماحول میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کے قابل ہوں۔ جیسے کہ آج کل ہم انسانوں نے اپنی لالچ اور لاپرواہی سے پورے سیارے کے ماحول کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ لیکن ہمارے برعکس ڈائنوسارز کا سائز ہی اتنا بڑا تھا کہ وہ اگر چہل قدمی کرتے کرتے کسی جنگل میں پہنچ جاتے تو گھاس کے میدان اور لا تعداد جھاڑیاں ان کے قدموں تلے مسلی جاتیں اور بڑے بڑے درخت ان کی ٹکر سے اکھڑ کے گر پڑتے۔ اس وقت کے پودوں کے لیے، یہ کوئی غیر معمولی تباہی نہیں تھی بلکہ روزانہ کا معمول تھا۔ قدرتی آفات جیسے مسلسل طوفان، سیلاب یا زلزلوں کی طرح یہ ڈائنوسارزانجانے میں بطور “ایکو سسٹم انجینئرز” ، اپنی دنیا کو مسلسل نئی شکل دے رہے تھے۔ان کا یہ طرذ عمل درختوں کے تنے توڑنے، پودوں کو روندنے اور جنگل کی چھت میں بڑے بڑے خلاء پیدا کرنے کا باعث بنتا تھا، جس سے سورج کی روشنی جنگل کے فرش پر پھیل جایا کرتی تھی۔

زرا سوچ کے بتائیے کہ ایسے ہنگامہ خیز حالات میں بھلا کونسے پودے کامیاب ہوسکتے ہیں ؟
اس سے پہلے کہ ہم اس سوال کے جواب پہ آئیں تھوڑا سا آگے بڑھتے ہیں اور بات کرتے ہیں چوہوں خرگوشوں کی۔ بطور سائنس کے طالب علم میں نے اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق کے لئے چوہے پالے لیباٹری میں اور اس سے پہلے بچپن میں میں ایک بار اپنی عیدی سے خرگوشوں کا ایک جوڑا خرید لایا تھا۔ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ چوہے خرگوش اور بہت سارے دیگر جانور بے تحاشہ رفتار کے ساتھ افزائش نسل کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے برعکس بڑے سائز کے جانور جیسے گینڈا بیل ہاتھی اونٹ وغیرہ کے ہاں کم بچے ہوتے ہیں۔چھوٹے جانوروں میں نا صرف حمل کا دورانیہ کم ہوتا ہے بلکہ ان کے بچے جلد ہی خود اپنی خوراک حاصل کرنے کے قابل بھی ہوجاتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بڑے جانوروں کا حمل دورانیہ بھی زیادہ ہوتا اور ماں باپ کو بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنا ہوتی ہے۔

یہ افزائش نسل کے دو حکمتِ عملیاں ہیں۔ پہلی حکمت عملی کا مقصد کم وقت میں بہت زیادہ بچے پیدا کرنا ہے۔ ان بچوں کی پیدائش میں والدین کو نا تو زیادہ وقت دینا پڑتا ہے اور نا ہی زیادہ وسائل فراہم کرنے پڑتے ہیں۔ یہ والی حکمت عملی وہ جاندار اختیار کرتے ہیں جو کہ ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں ان کے شکاری بہت زیادہ ہوں یا پھر ماحول زیادہ سازگار نا ہو۔ ان ماں باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر بہت بچے پیدا کریں گے تو ان میں سے کچھ تو شکاریوں کا نوالہ بننے سے بچ جائیگے۔ اس حکمے عملی کو سائنس میں آر سلیکشن کہتے ہیں۔
R-selection

جبکہ اس کے برعکس بڑے جانور جنہیں شکاریوں کا اتنا ڈر نہیں ہوتا وہ کم بچے پیدا کرتے ہیں لیکن ان بچوں پہ وہ بہت زیادہ وقت اور وسائل خرچتے ہیں۔ اس حکمت عملی کو کے سلیکشن کہا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ چوہے یا خرگوش اپنے ماحول کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہوں کہ شکاری نہیں ہے تو ‘ کم بچے خوشحال گھرانہ’ پہ عمل کریں اور جیسے ہی کوئی بلی یا لومڑی ان کی پڑوسن ہوجائے تو بچوں کی فیکٹری شروع ہوجائے۔ یہ حکمت عملیاں سبھی جانوروں کے لاشعور میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان کی پوری کی پوری زندگی کی کشمکش اپنی نسل کی بقا اور کامیاب افزائش سے عبارت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چوہا کیسی لیباٹری میں ہو یا گھر میں دونوں جگہ ایک جتنے ہی بچے دے گا۔
K-selection
آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ بھلا کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی جاندار اپنے ماحول کی مناسبت سے شعوری طور پر اپنے بچوں کی تعداد کم یا زیادہ کرنے کے قابل ہو؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لئے آپ کو زیادہ دور دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس وقت دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کی آبادی کم ہو رہی ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کی آبادی بے لگام بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اسی طرح آپ اپنے خاندان میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کے نانا دادا کے کتنے بچے تھے اور آپ کے والدین کے کتنے ہیں۔ پچھلے پچاس ساٹھ برسوں میں صحت کی سہولیات میں بہتری کے باعث نومولود اور کم عمر بچوں کی شرح اموات کم ہوئی ہیں جن کے سبب وہ گھرانے جو یہ سہولیات افورڈ کرسکتے ہیں ان میں بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، یہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پہ بہت زیادہ وقت اور وسائل لگاتے ہیں اچھے ڈاکٹر اور اچھے سکول کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کے برعکس معاشرے کے کم آمدن والے طبقات کے ہاں آج بھی بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
خیر واپس چلتے ہیں اپنے اصل سوال کی جانب کہ ڈائنوسارز کی موجودگی میں روزانہ کی بنیاد پہ بحرانوں کا سامنا کرتے پودوں کی بقا کیسے ممکن تھی؟

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لئے ایک تقابلی جائزہ کرلیتے ہیں آم اور باجرے کا۔ باجرے کے بیج نہایت چھوٹے ہوتے ہیں اور آم کی نسبت جلدی اگ آتے ہیں اور جلدی ہی اپنی اگلی نسل بھی تیار کر لیتے ہیں، مطلب باجرہ آر سلیکشن والی حکمت عملی پہ کاربند ہے جبکہ آم کے پودے کو اگنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے اور اس کا پھل اس وقت تک نہیں آتا جب تک کہ پورا تن آور درخت نا بن جائے اور بیج کا سائز بھی باجرے کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ اب آپ خود کو ایک ایسے جنگل میں تصور کریں جہاں آم اور باجرہ دونوں کے پودے لگے ہوئے ہیں اور اس جنگل میں سے ہمارے ممدوح حضرت ٹیٹانوسار روزانہ چہل قدمی کے لئے آتے ہیں۔ آپ خود سوچ کے بتایئے کہ جتنے وقت میں آم کی ایک نسل پیدا ہوگی اتنی دیر میں باجرہ ناجانے کتنی بار فصل دے چکا ہوگا۔ ڈائنوسارز کے زمانے میں پودوں کی اپنی بقا کے لئے بہترین حکمت بہت چھوٹے بیجوں کی ایک بڑی تعداد پیدا کرنا تھی۔ اگر آپ تباہ شدہ دنیا میں بہت سارے بیج پھینکیں، تو ان میں سے چند ایک تو لازمی بچ جائیں گے۔ اگر ہم دوسرے الفاظ میں کہیں تو ڈائنوسارز کی موجودگی وہ فلٹر تھا جس کی وجہ سے بڑے بیج پیدا کرنے کا پودوں کو کوئی فائدہ نہیں تھا بلکہ الٹا نقصان تھا۔

لیکن اب اگلا سوال پھر یہ اٹھتا ہے کہ آج ہمارے پاس آم تربوز کٹھل جیسے بڑے بڑے پھل کیوں موجود ہیں؟
اس کا جواب ہے ایک عدد شہاب ثاقب۔ وہ شہاب ثاقب جس نے دنیا سے ڈائنوسارز کا خاتمہ کردیا۔ جب ڈائنوسارز کی موجودگی کے باعث لگا فلٹر ہٹ گیا اور ماحول میں استحکام آگیا تو اب جنگل گھنے ہونا شروع ہوگئے اور درختوں کی انچائی بڑھتی چلی گئی ۔ اب مقابلہ تھا زیادہ سے زیادہ سورج کی روشنی حاصل کرنے کا۔ ایسی صورتحال میں پھولدار پودوں کے لیے، یہ ایک گیم چنجر لمحہ تھا۔ بے شمار چھوٹے بیج بنانے کی پرانی حکمت عملی کا اب کوئی مطلب نہیں رہا اور نا فائدہ۔ ان پودوں نے بہت سارے چھوٹے اور سستے بیجوں کی بجائے، کم، زیادہ معیاری بیجوں میں سرمایہ کاری کرنا شروع کر دی۔ یہ بڑے بیج ایک بڑے توانائی کے ذخیرے سے بھرپور تھے، جو پودے کو زندگی میں ایک بہتر شروعات دیتا تھا، جس سے اسے گہرے جنگل میں قیمتی سورج کی روشنی تک پہنچنے کے لیے تیزی سے لمبا ہونے میں مدد ملتی تھی۔ ان بڑے بیجوں کے ساتھ انہیں تحفظ اور پرورش دینے کے لیے زیادہ گودے دار، غذائیت سے بھرپور تہہ آئی ،اور یہی تہہ پھل کی شروعات تھی۔ اس پھل کا سب سے بڑا فائدہ بیجوں کا پھیلاؤ تھا۔ یہ پودوں کی طرف سے جانوروں کو ایک نئی پیشکش تھی: “میں تمہیں ایک مزیدار کھانا دوں گا اگر تم میرے بیج کو لے جا کر کہیں اور پھینک دو”۔ ڈائنوسارز کے بعد کی نئی دنیا کے جانور—چھوٹے ممالیہ جانور اور پرندے جو معدومیت سے بچ گئے تھے بیجوں کے پھیلاؤ میں ان کے بہترین ساتھی تھے۔ وہ بیجوں کو کھانے اور بکھیرنے کے لیے کافی بڑے تھے لیکن ڈائنوسارز کی طرح جنگلات کو روندنے اور تباہ کرنے کے لیے بہت چھوٹے تھے۔
اس نئی دنیا میں
گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے
کے مصداق پھل دار پودوں کو بہتریں حالات دستیاب ہوئے۔ سائنسدانوں کے مطابق تقریباً پانچ کروڑ سال پہلے ہمارا سیارہ پھلوں کے عروج پر پہنچا۔ جنگلات پھلوں اور بیجوں کے ایک ناقابل یقین تنوع سے بھرے ہوئے تھے۔ خوراک کی اس فراوانی نےبہت سارے بالکل نئے مواقع پیدا کیے، جس نے پھل کھانے والے جانوروں کے عروج کی راہ ہموار کی: چمگادڑ، چوہے، اور، ہمارے لیے سب سے اہم، پرائمیٹس۔ ہمارے ابتدائی آباؤ اجداد ان پھل سے بھرپور جنگلات میں پروان چڑھے ۔ ڈائنوسارز کی معدومیت نے جو پھل دار دنیا پیدا کی، اس کے بغیر ہم انسان شاید کبھی ارتقاء نہ کرپاتے۔