آج میں آپ سے ان مشاہدوں پر بات کرنا چاہوں گا جو میں نے ایک آن لائن لرننگ پلیٹ فارم چلاتے ہوئے کیے۔ یہ مشاہدے سیکھنے سکھانے کے عمل میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ ہمیں سیکھنے کے عمل میں مہارت حاصل کرنے کے راستے کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔

شروع میں، جب میں اپنے کزنز کو آن لائن پڑھاتا تھا تب ہی میں نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ ان میں سے کئی ریاضی میں بہت پیچھے تھے کیونکہ ان کی تعلیم کے دوران پچھلی کلاسوں میں بہت سے خلا رہ گئے تھے۔ تو اب جب ان کو کلاس میں الجبرا پڑھایا جا رہا ہو اور اگر وہ بنیادی الجبرا میں کمزور تھے تو وہ سمجھیں گے کہ وہ ریاضی پڑھنے کے قابل نہیں (جس کو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ان میں ریاضی کی “جین” نہیں ہے)۔ یا جب وہ کسی کلاس میں کیلکولس پڑھیں گے اور ان کی گرفت الجبرا پر کمزور تھی تو ان کو مشکلات آئیں گی۔

شروع میں جب میں اپنے کزنز کو پڑھانے کے لئے یوٹیوب پر ویڈیوز اپ لوڈ کرتا تھا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ، جو میرے کزن نہیں تھے، وہ بھی ویڈیوز دیکھ رہے تھے۔ اور شروع میں تو ان کے کمنٹ بس “شکریہ” کے ہوتے تھے۔ اور مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی تھی۔ کیونکہ اگر آپ نے یوٹیوب پر وقت گزارا ہے تو آپ کو پتہ ہو گا کہ زیادہ تر کمنٹ شکریہ والے نہیں ہوتے۔

پھر آہستہ آہستہ مجھے تھوڑے تھوڑے سنجیدہ قسم کے کمنٹ ملنا شروع ہوئے۔ ایک کے بعد ایک، متعدد طالبعلم یہ کہنے لگے کہ وہ ساری زندگی ریاضی سے نفرت کرتے تھے۔ جوں جوں وہ ریاضی کے ایڈوانس ٹاپکس پر پہنچے توں توں معاملہ گمبھیر نوعیت اختیار کرتا گیا۔ جب تک وہ الجبرا پر پہنچے تو ان کے علم میں اتنے خلا تھے کہ اب یہ سمجھنا ناممکن ہو چکا تھا۔ اور ان کو یہ لگنے لگا کہ ان میں ریاضی سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ لیکن اب چونکہ وہ بڑے اور سمجھدار ہو چکے تھے تو انہوں نے زیادہ محنت کی بھی ٹھانی ہوئی تھی۔ ان کو انٹرنیٹ پر خان اکیڈمی جیسی ویب سائٹس کا پتہ لگا جن کے ذریعے انہوں نے ان خلاؤں کو پر کرنا شروع کیا، اپنے کانسپٹ مضبوط کرنا شروع کر دیے اور ان کو یہ یقین آنا شروع ہوا کہ یہ لازمی نہیں تھا کہ وہ ہمیشہ ریاضی میں کمزور رہیں۔ ان میں بھی ریاضی سیکھنے کی قابلیت موجود تھی۔

اور اگر آپ دیکھیں تو زندگی میں بہت سے علوم میں مہارت ایسے ہی آتی ہے۔ مثلا جب آپ نے مارشل آرٹس سیکھنے ہوں۔ مارشل آرٹس سیکھنے کے لئے پہلے آپ وائٹ بیلٹ سکلز سیکھتے ھیں، پھر جب آپ کو ان میں مہارت ہو جاتی ہے تو آپ زرد بیلٹ پر آ جاتے ہیں۔ اسی طرح آپ کو ساز بجانا بھی سیکھتے ہیں۔ آپ کوئی بنیادی دھن بار بار بجاتے ہیں یہاں تک کہ آپ اس میں ماہر ہو جائیں، پھر آپ زیادہ مشکل دھن کی طرف آتے ہیں۔

لیکن، روایتی تعلیمی نظام، جس کے ذریعے ہم میں سے زیادہ تر گزرے ہیں، اس طریقے پر نہیں چلتا۔ اس نظام میں ہم طلبا کے گروپ (کلاسیں) بنا دیتے ہیں۔ یہ گروپ عموما عمر کے حساب سے بنائے جاتے ہیں۔ پھر مڈل سکول کے بعد ان کی قابلیت جانچی جاتی ہے اور فیصلہ ہوتا ہے کہ ان کو آگے بھیجنا ہے یا نہیں۔ ہم ان کو ایک ہی رفتار پر ہانکتے رہتے ہیں۔ اور پھر ہوتا کیا ہے؟ مثال کے طور پر مڈل سکول کے بنیادی الجبرا میں استاد ایکسپوننٹ کے موضوع پر لیکچر دے گا۔ اور سب گھر جا کر ہوم ورک کریں گے۔ اگلے دن استاد ہوم ورک چیک کرے گا، اور ایک اور لیکچر دے گا اور ایک اور ہوم ورک اور ایک اور لیکچر۔ دو تین ہفتے تک یہی چلتا رہے گا جس کے بعد ایک ٹیسٹ ہو گا۔ شاید مجھے اس ٹیسٹ میں پچھتر نمبر میں اور آپ کو نوے یا پچانوے۔ اس سے ہمیں کیا معلوم ہوا؟ ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے علم میں خلا باقی ہیں۔ میرے علم میں پچیس فیصد خلا ہے اور جس طالبعلم نے بہترین گریڈ کے ساتھ پچانوے نمبر لئے ہیں وہ بھی پانچ فیصد باتیں نہیں جانتا۔

گرچہ ان کمیوں کی نشاندہی ہو چکی ہے لیکن پھر بھی پوری کلاس مجبورا اگلے سبق کی طرف بڑھ جائے گی۔ یہ سبق شاید زیادہ ایڈوانس ہو جس کی بنیاد پچھلے خلا پر بنے گی۔ ہو سکتا ہے کہ ہم لاگرتھم یا نیگیٹو ایکسپوننٹ پڑھیں۔ اور یہ عمل یوں ہی چلتا رہے گا۔ آپ کو یقینا احساس ہو گیا ہو گا کہ یہ طریقہ کتنا غلط ہے۔ مجھے پچیس فیصد بنیادی باتیں نہیں معلوم پھر بھی مجھے زیادہ مشکل کانسیپٹس کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اور یہ سلسلہ مہینوں اور سالوں تک جاری رہے گا یہاں تک کہ میں کسی بڑی کلاس میں الجبرا یا تکونیات پڑھنے بیٹھوں گا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آئے گا۔ اور اس کی وجہ اصل میں یہ نہیں کہ الجبرا مشکل ہے یا طالبعلم نکما ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ میرے سامنے ایک مساوات ہے جس میں ایکسپوننٹ کا ذکر ہے اور وہ تیس فیصد جو مجھے معلوم نہیں تھا اب میرا منہ چڑا رہا ہے۔ اور اب میں اس کام سے جان چھڑانا شروع کر دیتا ہوں۔

اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں کہ یہ کتنا عجیب ہے، تو سوچیں اگر ہم یہی طریقہ اپنے باقی کاموں میں بھی استعمال کریں تو کیا ہو گا؟ مثلا گھر بناتے ہوئے؟ تو ہم مستری اور مزدوروں کو بلاتے ہیں اور ان کو کہتے ہیں کہ بنیاد بنانے کے لئے آپ کے پاس دو ہفتے ہیں، تو جو ہو سکتا ہے کریں۔ اور پھر ان سے جو ہو سکتا ہے وہ کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ سامان وقت پر نہ آئے، کوئی اور مسئلے ہو جائیں اور دو ہفتے بعد چیک کرنے والا آئے، اور چیکنگ کر کے کہے “ستونوں کا سیمنٹ ابھی تک گیلا ہے، یہ یہ دیوار ابھی نامکمل ہے۔ اس کو سو میں سے اسی نمبر ملیں گے”۔ اور آپ کہیں گے کہ واہ یہ تو “اے گریڈ” ہے چلو اب اوپر والی منزل بنانا شروع کرتے ہیں۔ اسکے لئے بھی دو ہفتے ہیں۔ اور دو ہفتے بعد پھر چیکنگ ہو اور پچھتر فیصد نمبر دے۔ اور ہم کہیں “واہ بی گریڈ، اتنا بھی برا نہیں” اور پھر تیسری منزل اور چوتھی منزل۔ اور ایسے ہی کرتے کرتے ایک دن پوری بلڈنگ گر جائے گی۔

اور اگر آپ گھر بنانے میں بھی ویسا ہی رویہ رکھیں جیسا تعلیم میں رکھتے ہیں تو آپ کہیں گے کہ شاید مزدوروں میں کمی ہے یا چیک کرنے والوں کی غلطی ہے یا چینکنگ ہر تین دن بعد ہونی چاہیئے۔ لیکن اصل میں جو خرابی تھی وہ طریقہ کار کی تھی۔ ہم حقائق کو دیکھے بغیر کام کا دورانیہ فکس کر رہے تھے، جس کا نتیجہ کبھی بھی ایک جیسا نہیں نکلنا تھا۔ ہم نے چیکنگ بھی کی، باقی سب لوازمات بھی پورے کیے، کمیاں بھی جانچیں لیکن ان کمیوں کے باوجود اوپر تعمیر شروع کر دی۔

تو اگر آپ نے کسی کام میں مہارت حاصل کرنی ہے تو اس سے بالکل الٹ کام کرنا ہو گا۔ اپنی طرف سے مستقل میعاد مقرر کر کے متفرق نتائج (ساٹھ فیصد، ستر فیصد، اسی فیصد، نوے فیصد) حاصل کرنے کے بجائے اپنا طریقہ تبدیل کریں۔ کون سا طالبعلم کتنی دیر کوئی چیز سیکھنے میں لگاتا ہے اس کو اس طالبعلم کی ضرورت کے مطابق تبدیل کریں۔ یوں نتیجہ ہمیشہ مستقل ہو گا – کام میں مہارت۔

یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس سے نہ صرف طالبعلم کسی کانسیپٹ (جیسے ایکسپوننٹ) کو بہتر سمجھ سکے گا بلکہ اس سے اس کی سوچ بھی درست سمت میں تبدیل ہو گی۔ اس کو یہ بات سمجھ آئے گی کہ اگر اس نے کسی ٹیسٹ میں تیس فیصد کم نمبر حاصل کیے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا دماغ دوسروں سے تیس فیصد کمزور ہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ابھی اس کو سمجھنے میں مزید وقت کی ضرورت ہے۔ اس کو صرف تحمل اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔ جب تک مطلوبہ نتیجہ نہ مل جائے مزید کوشش کی ضرورت ہے۔

آپ میں سے اکثر کا خیال ہو گا کہ یہ سارا مہارت حاصل کرنے کا آئیڈیا اور اس سے ہونے والی سوچ کی تبدیلی کی بات ٹھیک تو لگتی ہے لیکن قابل عمل نہیں۔ ایسا کرنے کے لئے ہر طالبعلم کو اس کی اپنی مرضی کے رفتار سے چلانا پڑے گا۔ اس کی مشکلات حل کرنے کے لئے ہر وقت ایک الگ پرائیویٹ ٹیچر درکار ہو گا، اور اس کی مشکلات کے حساب سے اسائنمنٹس اور ہوم ورک ڈیزائن کرنا پڑے گا۔ ویسے تو یہ مہارت کے لئے تعلیم حاصل کرنے کا آئیڈیا نیا نہیں ہے۔ اس پر آج سے سو سال پہلے بھی تحقیق کی جا چکی ہے اور ان کے رزلٹ شاندار تھے۔ لیکن ان محققین کا کہنا یہ تھا کہ اس کو ہر جگہ نافظ کرنا ناممکن ہو جائے گا کیونکہ اتنے سوائل دستیاب نہیں۔ اساتذہ کو ہر طالبعلم کے لئے الگ الگ ہوم ورک اور الگ الگ ٹیسٹ بنانے پڑیں گے جو ناممکن ہے۔

لیکن آج کی دنیا میں یہ ناممکن نہیں رہا۔ ہمارے پاس اب ایسا کرنے کے ضروری اسباب دستیاب ہیں۔ طلبا کو اپنی ضرورت کے مطابق کانسیپٹ کی وضاحت چاہیئے ہو تو وہ ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔ پریکٹس اور اساتذہ کی فیڈ بیک کے لئے کمپیوٹرائز ٹیسٹنگ کا نظام دستیاب ہے۔

جس دن ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اس دن بہت کچھ بدل جائے گا۔ طلبا اپنے کانسیپٹ بہتر کرنے کے لئے پڑھ سکیں گے، ان کی بہتر ذہن سازی ممکن ہو گی، ان میں تحمل اور ثابت قدمی پیدا ہو گی، اور وہ اپنے علم میں مہارت پیدا کر سکیں گے۔ پہلے کلاس کا مقصد استاد کا لیکچر پوری توجہ سے سننا تھا، اب طلبا ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کر سکیں گے۔ وہ موضوع کی اتھاہ گہرائی تک بھی جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں اور اس حوالے سے بحث مباحثے میں بھی حصہ لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں۔

ایجوکیشن سسٹم کی خامیوں کی وجہ سے ہم بے حد و حساب انسانی پوٹینشل ضائع کر دیتے ہیں۔ ایک فکری آزمائش کے ذریعے ہم مسئلے کو سمجھ سکتے ہیں۔ اگر آپ آج سے تین سو سال پہلے کی دنیا تصور کریں، اس میں گھومیں پھریں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں صرف دس پندرہ فیصد لوگ ہی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اور میرے خیال میں وہاں سوسائٹی کے کسی بڑے یا ذمہ دار شخص سے آپ پوچھے کہ کتنے فیصد لوگوں میں لکھنا پڑھنا سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے تو شاید وہ اس کا جواب ہو کہ “بہت بہترین تعلیمی نظام ہو تو شاید بیس یا تیس فیصد لوگوں میں یہ صلاحیت ہو گی”۔ لیکن اگر آپ فاسٹ فارورڈ کر کے آج کی دنیا میں آئیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ اندازہ کتنا غلط تھا۔ تقریبا صد فیصد عوام میں پڑھنے لکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن اگر آج میں آپ کے سامنے یہ سوال رکھوں کہ کتنے فیصد لوگ کیلکولس یا آرگینک کیمسٹری میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں، یا یہ کہ کتنے لوگ کینسر ریسرچ میں حصہ ڈال سکتے ہیں؟ تو شاید آپ کا بھی یہی خیال ہو گا کہ بہترین نظام ہو تو شاید بیس یا تیس فیصد۔

کیا ایسا تو نہیں کہ آپ کا یہ جواب موجودہ نظام کی بنیاد پر ہے، اور مستقبل کے نظام کی صلاحیت کو نظر انداز کرتا ہے؟ کیونکہ آپ کے ذاتی مشاہدے میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ایک خاص رفتار سے دھکیلا جا رہا تھا، اور اس دوران بہت سے خلا جمع ہوتے گئے۔ جب آپ نے پچانوے فیصد نمبر بھی لئے تو وہ پانچ فیصد جو آپ چھوڑ چکے تھے؟ وہ پانچ فیصد کون سے موضوعات تھے؟ اور پھر وہ جمع ہوتے گئے، ہوتے گئے۔ اور پھر آپ ایڈوانس لیول پر پہنچ گئے اور آپ پر یہ آشکار ہوا کہ کینسر ریسرچر بننا مشکل کام ہے یا فزکس پڑھنا مشکل کام ہے یا ریاضی مشکل مضمون ہے؟ میرا خیال ہے کہ حقیقت یہی ہے۔ اگر آپ کو اس مہارت والے نظام میں سیکھنے کا موقع ملتا، اگر آپ کی تعلیم آپ کے ہاتھ میں ہوتی، اور غلط جواب دینے پر ڈانٹ کے بجائے اس کو مزید سیکھنے کا ایک موقع سمجھا جاتا، تو یقینا کیلکولس سیکھنا یا آرگینک کیمسٹری سمجھنے کی صلاحیت والے سوال کا جواب شاید سو فیصد ہوتا۔

میرے خیال میں یہ سہولت ایک چوائس کے طور پر نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہونی چاہیئے۔ ہم انڈسٹریل ایج سے باہر آ رہے ہیں اور انفارمیشن ایج کا انقلاب برپا ہونے والا ہے۔ اور یقینا دنیا میں بہت تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ انڈسٹریل ایج میں سوسائٹی مختلف طبقات میں بٹی ہوئی تھی جہاں سب سے زیادہ مزدوروں کی ضرورت تھی۔ کم تعداد میں اعداد و شمار جمع کرنے اور منصوبہ بندی کرنے والی نوکر شاہی تھی، اور سب سے کم سرمایہ دار، کاروباری افراد اور تخلیقی کام کرنے والے تھے جو سوسائٹی کی چوٹی پر تھے۔ لیکن سوسائٹی میں ایک انقلاب پہلے ہی آ رہا ہے۔ مزدوری کا زیادہ تر کام مشینوں سے ہو گا، انفارمیشن، اعداد و شمار اور منصوبہ بندی پہلے ہی کمپیوٹروں کا خاصہ ہے۔ لہذہ یہ دونوں شعبے ختم ہونے والے ہیں۔

ہمیں بطور سوسائٹی اس سوال کا سامنا کرنا ہے کہ اس انقلاب کا فائدہ اٹھانے میں کون کون حصہ دار بنے گا؟ کیا صرف سب سے امیر طبقہ جو پہلے ہی سب سے فائدے میں ہے، صرف ان تک محدود رہے گا؟ ایسے میں پھر نچلے دو طبقے کیسے زندگی گزاریں گے؟ کیسے کمائیں گے؟ کیا ہم اس بہت بڑی مڈل کلاس کو ایلیٹ، تخلیقات کرنے والی، ایجادات کرنے والی، آرٹسٹ اور ریسرچر کلاس کا حصہ بنانے کا موقع دیں گے؟

میری سوچ کسی خیالی یوٹوپیا والی نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر لوگوں کو اپنی اصل قابلیت کو نکھارنے کا موقع دیا جائے، بہتر انداز میں سیکھنے کا موقع دیا جائے تو یہ ضرور ممکن ہے۔ ایک ایسی دنیا میں رہنا کتنا حسین احساس ہو گا جہاں ہر کوئی اپنے فن کا ماہر ہو؟ وہاں کتنی مساوات ہو گی؟ وہ سوسائٹی کتنی تیزی سے ترقی کرے گی؟ میں تو اس بارے میں بہت پر امید ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اس دنیا میں رہنا بہت شاندار ہو گا۔


یہ آرٹیکل خان اکیڈمی کے موجد سلمان خان کی ایک ٹیڈ ٹالک کا اردو ترجمہ ہے۔ یوٹیوپ پر یہ لیکچر پندرہ لاکھ سے زیادہ دفعہ دیکھا جا چکا ہے۔

Let's teach for mastery – not test scores | Sal Khan

 

Muhammad Bilal

I am lecturer in biology at Govt. KRS College, Lahore. I did my BS in Zoology from University of the Punjab, Lahore and M.Phil in Virology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am Administrator at EasyLearningHome.com and Content Creator at maktab.pk