بالآخر کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر سکول بند کر دیے گئے۔ جہاں بہت سے لوگ اس فیصلے سے خوفزدہ ہیں وہیں بہت سے لوگ اس سے خوش بھی ہیں اور بہت سے لوگ افسوس کر رہے ہیں کہ نااہل حکومت نے جان چھڑانے کے لئے سکول بند کر دیے ہیں یا یہ کہ سکول بند ہیں لیکن بازار، دفاتر اور باقی مقامات کھلے ہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں ہو رہی ہیں۔

بچے وائرس سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور اسکے ہتھیار بھی ہیں

میرے سامنے سنہ دو ہزار تیرہ کی بی بی سی کی ایک ڈاکومینٹری ہے جس کا عنوان ہے “Winter Viruses and How to Beat Them” جو مجھے اس فیصلے کے بعد فورا یاد آ گئی۔ اس ڈاکومنٹری میں ایک تجربہ کیا گیا۔

پانچ چھے سال کی عمر کے بچوں کے کلاس روم میں صبح سے پہلے دو میزوں اور کھلونوں کے ایک ڈبے پر ایک غیر مرئی پینٹ کا سپرے کیا گیا جو عام روشنی میں نظر نہیں آتا لیکن اندھیرے میں بلیک لائٹ (الٹرا وائلٹ لیمپ) جلانے سے روشنی دینے لگتا ہے اور چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ نے ایسی روشنائی “جادوئی قلم” میں دیکھی ہو گی جس سے لکھنے پر نظر نہیں آتا لیکن قلم کے پیچھے لگے بلب کی خاص روشنی میں لکھائی نظر آ جاتی ہے۔ ٹیبل اور کھلونوں کے ڈبوں پر کیا گیا سپرے کسی بچے کی چھینک سے نکلنے والے تھوک اور نزلے کے چھوٹے چھوٹے مائیکروسکوپک قطروں کے مترادف تھا۔

کرونا وائرس - ادارے بند کرنا اشد ضروری تھا 1
یہ خاص پینٹ اندھیرے میں الٹرا وائلٹ لائٹ میں چمکتا ہے۔ کلاس روم میں جن جگہوں پر سپرے کیا گیا ان کا نقشہ

اس کے بعد بچوں کو کلاس میں آنے کی اجازت دی گئی اور بچوں نے اپنے معمول کے مطابق چھے گھنٹے اس کلاس روم میں گزارے۔ اس دوران ان کے کھیلنے، کھانے، پڑھنے، کہانی سننے اور چیزیں بنانے جیسی سرگرمیاں جاری رہیں۔ کلاس کے دوران کیمرے کی مدد سے بچوں کی مانیٹرنگ کی گئی۔ اور نوٹ کیا گیا کہ وہ کتنی دفعہ ناک، منہ یا آنکھ میں انگلی ڈالتے ہیں یا کسی چیز کو تھوک لگاتے ہیں۔

کرونا وائرس - ادارے بند کرنا اشد ضروری تھا 2
آنکھ، کان اور ناک کو ہاتھ لگانا بڑوں میں ممنوع سمجھا جاتا ہے، لیکن بچوں کے لئے یہ عام بات ہے

چھے گھنٹے روٹین کے کام کرنے کے بعد کمرے میں روشنیاں بجھا کر بلیک لائٹ جلائی گئی اور دیکھا گیا کہ کھلونوں اور میزوں پر ڈالا گیا پینٹ کہاں کہاں پہنچا ہے۔ ظاہر ہے رزلٹ ہم میں سے کسی کے لئے بھی حیران کن نہیں ہوں گے۔ خاص طور پر جن لوگوں نے بچوں کو پڑھایا ہے یا بچے پالے ہیں ان کو بخوبی معلوم ہے کہ کوئی چیز بچوں کی پہنچ سے دور نہیں رہتی۔ چنانچہ کمرے کا کوئی بھی کونہ ایسا نہ تھا جہاں وہ مخصوص پینٹ پہنچا نہیں تھا۔ نہ صرف یہ، بلکہ جب بچوں کو کمرے میں واپس بلا کر بلیک لائٹ جلائی گئی تو تقریبا تمام بچوں کے ہاتھوں، چہرے، کپڑوں یا بالوں میں پینٹ موجود تھا۔

بچے
الٹرا وائلٹ روشنی میں یہ مخصوص پینٹ چمکتا نظر آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں نے اس کو پورے کمرے میں پھیلا دیا ہے

اس چھوٹے سے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی ایک بچے کو فلو یا سانس کے نظام کو متاثر کرنے والے وائرس کی کوئی انفیکشن ہو اور وہ کلاس میں چھینکے تو اس سے باقی تمام بچوں تک وائرس پہنچنے کے قوی امکانات ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم ادارے بند کرنا کتنا ضروری تھا۔

گرمیوں کی چھٹیوں کے ساتھ ہی وائرس کا پھیلاؤ رک جاتا ہے

کئی ملکوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتے ہے فلو اور ایسے دوسرے بیماری پھیلانے والے جراثیم کا پھیلاؤ بھی رک جاتا ہے۔ لیکن جوں ہی ستمبر میں چھٹیاں ختم ہوتی ہیں، بچوں کے ذریعے وائرس بھی نئے گھروں تک پہنچنے لگتے ہیں۔ دراصل وائرس بچوں کے رویے کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے یہ ریسرچ آرٹیکل دیکھ سکتے ہیں https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC5764028/

کرونا وائرس - ادارے بند کرنا اشد ضروری تھا 3
گرمیوں کی چھٹیوں کے ساتھ ہی برطانیہ میں سوائن فلو کے کیسز کی تعداد میں کمی آئی، لیکن سکول کھلنے کے فورا بعد مریضوں کی
تعداد پھر بڑھنے لگتی ہے۔
BBC documentary – winter viruses and how to beat them!
مکمل ڈاکومنٹری “سردیوں کے وائرس اور ان کا مقابلہ کیسے کیا جائے” اس لنک سے دیکھ سکتے ہیں

 

Muhammad Bilal

I am lecturer in biology at Govt. KRS College, Lahore. I did my BS in Zoology from University of the Punjab, Lahore and M.Phil in Virology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am Administrator at EasyLearningHome.com and Content Creator at maktab.pk