غرور اور تکبر صرف اللہ کی ذات کو جچتا ہے جو غالب اور واحد القہار ہے۔ جس کی کوئی ابتداء و انتہا نہیں ہے۔ جو کسی قسم کے وسائل کا محتاج نہیں ہے۔ اقبال کے مطابق:

سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری

چند دن کی محدود دنیوی حیات میں خدا کے بندوں پر چند اختیارات مل جانے پر خدا کا روپ نہیں دھار لینا چاہیے… خدا انسان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا ہے جیسا انسان اپنے ماتحتوں کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

انسان کو چاہیے کہ عاجز رہے۔ خدا کی تمام عنایات پر اس کا شکر گزار رہے… اس کے بندوں کو رنگ، نسل، ذات پات، مذہب و مسلک، عقائد اور سماج میں رائج اونچ نیچ کی بنا پر حقیر نہ جانے۔ کیونکہ خدا یوں نہیں کیا کرتا۔ کسی شاعر نے کہا ہے کہ…

انسان کے کسی روپ کی تحقیر نہ کرنا
خدا پھرتا ہے زمانے میں بھیس بدل کر

سب کچھ اللہ کا ہے۔ انسان اور اس کی تمام ملکیت اس خدا کی ہے۔ انسان تو دنیا میں چند سالوں کا وہ مہمان ہے جسے بہت جلد اپنی حتمی منزل کی جانب رختِ سفر باندھنا ہے۔

ملے خاک میں اہل شاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

خدا کے بندوں پر مظالم ڈھا کر خدا کے مجرم مت ٹھہرو کیونکہ خدا اپنے مجرموں کو ایک خاص وقت مقرر تک ڈھیل دیتا رہتا ہے۔ مگر جب اس دراز رسی کو کھینچنے پر آتا ہے تو منہ کے بل ایسا گراتا ہے کہ انسان سنبھلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس لئے خدا کے بندوں کے حقوق غصب کر کے انہیں ایذا پہنچا کر کبھی خدا کے انصاف کو آواز نہ دو۔

کبھی کبھی تو خدا اپنے بندوں پر قہر ڈھانے والوں کو سدھرنے کا موقع ہی فراہم نہیں کرتا… ان پر دنیا میں ہی ایسے ایسے وبال نازل کر دیتا ہے کہ وہ سب کچھ ہونے کے باوجود تہی دامن رہ جاتے ہیں۔

ماں، جس کی محبت کے حوالے خود خدا پیش کرتا ہے اس کو کسی قسم کا رنج پہنچانے سے ہمیشہ گریز کرو کیونکہ رنجیدہ و غمزدہ ماں کی پکار خدا کا عرش ہلا دیتی ہے۔

اپنی عمر سے بڑی خواہشات کبھی نہ پالو کیونکہ انسان دنیا میں جس قدر زیادہ جائداد اکٹھی کرتا ہے اس کے لئے مرنا اتنا ہی محال ہوتا ہے اور اس کے انتقال پر اہل و عیال میں اسی قدر زیادہ جھگڑے اور تنازعات کھڑے ہوتے ہیں۔

دنیا کی حقیقت تو صرف اتنی ہے کہ انسان کے ورثا اس کی تدفین سے پہلے ہی اس کی جائداد کی برابر حصوں میں تقسیم کے منصوبے بنا لیتے ہیں۔

 

amjad umer

M. Phil in Zoology (GCUF) Gold Medalist