(یہ مضمون لاہور سائنس میلے کے حوالے سے دو ہزار انیس میں لکھا گیا۔ اس سال یہ میلہ انتیس اور تیس اکتوبر 2022 کو ڈی پی ایس، ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہو گا)۔

حسبِ معمول ایک ایک کر کے تمام دوستوں نے آنے سے معذرت کر لی۔ میں کچھ مایوس تو ہوا لیکن اپنے سٹوڈنٹس کا سوچ کر ایک دفعہ پھر جوش جاگا۔ کلاسز سے فارغ ہو کر 30-40 کے قریب سٹوڈنٹس کو لے کر علی انسٹی ٹیوٹ، فیروزپور روڈ، لاہور پہنچا تو عوام کا ایک جم غفیر جمع تھا۔ چھوٹے بڑے، قریب دور کے بہت سے اداروں سے ہزاروں طالبعلم اور شوق رکھنے والے اس انوکھے تماشے کو دیکھنے جمع ہوئے تھے جس کا نام لاہور سائنس میلہ رکھا گیا ہے۔

اس سال سائنس میلے کی سب سے خاص بات لاہور سے باہر کے سرکاری سکولوں کے بچوں کے بنائے ہوئے پروجیکٹ تھے۔ پاسکل کے قوانین سے لے کر بائیو ڈیزل تک اور لاوا لیمپ سے لے کر سپر ہائیڈروفوبک کاربن فلم تک نہ صرف بے شمار مظاہرِِ قدرت پر انسانی عقل کی دسترس کا بہترین مظاہرہ پیش کیا گیا بلکہ نو عمر طالبعلموں کے جوش، ولولے اور خود اعتمادی کو دیکھ کر دل داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ دس سے پندرہ سال کے یہ بچے جن کو اپنی صلاحیتیں آزمانے کا ایک نایاب موقع فراہم کیا گیا ہے، یقینا ہمارے مستقبل کو روشن اور تابناک بنائیں گے۔ ان سکولوں کے اساتذہ بھی یقینا داد کے مستحق ہیں جو روایتی بندشوں اور وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود اپنے طلبا کو لودھراں، بھکر، اور ایسے ہی دور دراز علاقوں سے یہاں تک لائے۔ پنجاب کے ہر ضلع سے ایک سرکاری سکول کی ٹیم نے اس میلے میں حصہ لیا جس کے لئے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بھی خصوصی داد کا مستحق ہے۔

قابل ذکر سٹال جن پر رش ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا ان میں لاہور فلکیاتی سوسائٹی، فلک نما، سپارکو اور بالخصوص ایل ایچ سی ٹنل تھے جنہوں نے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ لاہور فلکیاتی سوسائٹی کے ماہرین کی بنائی ہوئی سورج، چاند اور سیاروں کی ہائی ڈیفینیشن تصاویر نظر کو یقیناً خیرہ کرنے کے لئے کافی تھیں۔ اس پر روشان اور عاصم صاحب کے دوسری دنیاؤں کے قصے سب کو حیرت میں ڈالتے رہے۔ آمنہ سلیم صاحبہ کی ٹیم نے تو کمال ہی کر دیا، میدان کے بیچوں بیچ ایک فلکیات نما (پلینٹیریم) کھڑا کر دیا۔ میرے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا اور جب انہوں نے ہماری کہکشاں کے ایک انتہائی چھوٹے حصے میں موجود ستاروں کا مسحور کن منظر اپنے تخلیق کردہ آسمان پر دکھایا تو نہ صرف میری بلکہ شاید تمام ہی حاظرین کی ریڑھ کی ہڈیوں میں سنسناہٹ دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔ دل کرتا تھا کہ یہ شو ختم ہی نہ ہو۔ ایل ایچ سی ٹنل کا تجربہ بھی اپنے آپ میں اچھوتا اور یگانہ تھا۔ پارٹیکل فزکس کے شائقین کے لئے تو یہ کمرہ زمین پر جنت کا ٹکڑا ہے۔ سپارکو کے سائنسدانوں کے پاکستانی سیٹلائٹس کے ماڈل اور سیٹ آر ون سیٹلائٹ سے بنائی گئی دنیا کی تصویروں نے بتایا کہ ہم کسی سے کم نہیں اور یہ کہ نیت اور ارادے پختہ ہوں تو چاند ستارے بھی ہماری پہنچ سے کچھ زیادہ دور نہیں۔

اس کے علاوہ سکھر آئی بی اے، ہابی لابی، ٹیکنوکرافٹس، ہال روڈ ڈاٹ آرگ جیسے سٹال پروگرامنگ، روبوٹکس، ڈرونز، انٹرنیٹ آف تھنگز اور ڈو اٹ یور سیلف الیکٹرونکس کے شائقین کی توجہ کا خاص مرکز رہے۔ آغا خان کلچرل سروسز پاکستان کا سٹال غیر معمولی تھا جہاں شاہی قلعہ اور دیگر قدیم عمارتوں کے تحفظ اور ریسٹوریشن کے حوالے سے کیے جانے والے کام کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ بظاہر سادہ سے نظر آنے والے اس کام کے لئے یہ ریسرچرز ایکس رے کرسٹیلوگرافی، الیکٹران مائیکرو سکوپی اور کیمیکل تجزیہ کی دیگر جدید ترین تکنیکیں استعمال کر رہے ہیں۔ اس سٹال پر فائن آرٹس سے لے کر کیمسٹری اور آرکیالوجی سے لے کر کٹنگ ایج سائنس تک کا ایک حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ کم عمر بچوں کے لئے سائنسی کھلونوں اور ان میں چھپے رازوں سے لے کر ٹیسلا کوائل تک بہت کچھ کھیلنے اور سیکھنے کے لئے موجود تھا۔

ساتھ ہی مجھے شکوہ لاہور کے سکولوں اور کالجوں کی بے حسی کا ہے کہ وہ علم کے اس بہتے دریا کے کنارے پر کھڑے ہو کر بھی اس سے مستفید نہ ہو سکے۔ میلے کو دیکھنے آنے والوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ سکولوں کی تھی جب کہ سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نہ ہونے کے برابر طلبا نظر آئے۔ مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ شاید ہم اس ضد پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم نے رٹے اور اکیڈمی کلچر سے آگے جانا ہی نہیں ہے!

تازہ ترین اپ ڈیٹس، ویڈیوز اور تصاویر کے لئے آپ خوارزمی سائنس سوسائٹی کا ٹویٹر ہینڈل فالو کر سکتے ہیں۔ ہفتہ کا سارا دن میلے میں گزارنے کے باوجود میں ابھی صرف آدھے ہی سٹال دیکھ پایا ہوں۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اگر آپ اتوار کو کوئی اور انتہائی ضروری کام نہیں کر رہے اور بالخصوص اگر آپ کے گھر میں تین سے نوے سال کی عمر کے بچے رہتے ہیں تو ان کو ساتھ لے کر اس بہتی گنگا میں ضرور ہاتھ دھوئیں۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا یہ شو آپ کے، آپ کے بچوں کے اور ان کے سنہرے مستقبل کے لئے سجایا گیا ہے جس کی کوئی فیس بھی نہیں ہے۔ لازمی فائدہ اٹھائیں۔

گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ 1

Muhammad Bilal

I am lecturer in biology at Govt. KRS College, Lahore. I did my BS in Zoology from University of the Punjab, Lahore and M.Phil in Virology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am Administrator at EasyLearningHome.com and Content Creator at maktab.pk