ڈاکٹر عذرا رضا کا شمار امریکہ کی بہترین Oncologists (یعنی کینسر کا علاج کرنے کے ماہرین) میں ہوتا ہے- ڈاکٹر صاحبہ ایک عرصے سے نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہیں اور یونیورسٹی کے کینسر انسٹیٹیوٹ کی رہنمائی کر رہی ہیں- محترمہ نے اپنی ساری عمر کینسر پر ریسرچ میں گذاری ہے اور کینسر کی ریسرچ پر تین سو سے زیادہ پیپرز شائع کر چکی ہیں- ان کے شوہر جو خود بھی ایک بہترین Oncologist تھے، کینسر کا شکار ہوئے اور پانچ سال تک اس بیماری کا شکار رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گئے-

حال ہی میں ان کی کتاب The First Cell شائع ہوئی ہے اور چھپتے ہی اس کتاب کا شمار امریکہ اور برطانیہ کی بیسٹ سیلر کتابوں میں ہونے لگا ہے- اس کتاب میں ڈاکٹر صاحبہ نے کینسر کے مرض، اس کے علاج، اس سے متعلق جدید تحقیق، اور میڈیکل سائنس سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو کی ہے- اس مضمون میں ان کے اس کتاب سے متعلق ایک انٹرویو کی تلخیص پیش کی جا رہی ہے

یہ امر بھی انتہائی دلچسپی کا حامل ہے کہ اگرچہ ڈاکٹر صاحبہ ایک عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں لیکن انہوں نے اپنے کلچر سے ناتا نہیں توڑا- انہیں اردو شاعری سے حد سے زیادہ شغف ہے اور خصوصاً غالب کی شاعری کی وہ بہت بڑی مداح اور نقاد ہیں

دی فرسٹ سیل (پہلا خلیہ) – مصنفہ: ڈاکٹر عذرا رضا

اس کتاب کا موضوع زمین پر زندگی کا آغاز نہیں ہے بلکہ جسم میں کینسر کا آغاز ہے، یعنی وہ پہلا خلیہ جو نارمل خلیے سے کینسر کے خلیے میں تبدیل ہوتا ہے- لیکن اس کتاب کا موضوع میرے وہ مریض بھی ہیں جن کے علاج میں ہم ناکام رہے اور جنہوں نے میرے سامنے دم توڑا-

میرے شوہر کے انتقال کو اٹھارہ سال گذر چکے ہیں- میرے شوہر نے مجھے کینسر پر ریسرچ کی ٹریننگ دی- جب میں ان سے ملی اس وقت میری عمر 24 سال تھی- ہم نے برسوں اکٹھے کینسر کی ریسرچ پر کام کیا- قسمت کی سنگ دلی دیکھیے کہ میرے شوہر پندرہ سال کی عمر سے جس بیماری پر ریسرچ کر رہے تھے، بالاخر اسی بیماری یعنی خون کے کینسر نے ان کو آن دبوچا- اس وقت میری بیٹی کی عمر صرف تین سال کی تھی- بیماری کی تشخیص کے بعد پانچ سال کے اندر اندر کینسر نے ان کی جان لے لی-

کینسر کیا ہے:

کینسر انتہائی ظالم لیکن خاموش قاتل ہے– کینسر کے پہلے خلیے سے لیکر ایڈوانسڈ سٹیج (advanced stage) کے کینسر تک پہنچنے تک یہ مرض اپنے مریض کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہوتا ہے لیکن مریض کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی- تو آئیے دیکھتے ہیں کہ کینسر کیا ہے

انسانی جسم کے کسی بھی خلیے میں ایک حد مقرر ہوتی ہے کہ اس خلیے کو کتنی بار تقسیم ہونا ہے- اس حد کو Hayflick limit کہا جاتا ہے- عام طور پر یہ حد 40 سے 45 کی رینج میں ہوتی ہے- جو خلیے 40 سے 45 دفعہ اپنی کاپیاں بنا چکے ہوں وہ یا تو خود کشی کر لیتے ہیں، یا ہمارا دفاعی نظام انہیں مار دیتا ہے یا پھر ہو ناکارہ ہو جاتے ہیں یعنی کوئی کام نہیں کرتے لیکن مرتے بھی نہیں یعنی ناکارہ خلیوں کی صورت میں ہی جسم میں موجود رہتے ہیں-

اگر کسی میوٹینش کی وجہ سے کسی خلیے میں وہ سسٹم ناکارہ ہو جائے جو خلیوں کو 40 بار تقسیم ہونے کے بعد مزید تقسیم ہونے سے روک دیتا ہے تو یہ خلیے بلا روک ٹوک اپنی کاپیاں بنانے لگتے ہیں- یہ کینسر کا آغاز ہے- کینسر کی ڈیفینیشن ہی یہ ہے کہ خلیے مسلسل اپنی کاپیاں بنانے لگتے ہیں- کینسر کی وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ کسی نارمل خلیے کی تقسیم کے عمل کے دوران جب ڈی این اے اپنی کاپی بناتا ہے تو اس کاپی میں کوئی غلطی رہ جاتی ہے جسے میوٹیشن کہا جاتا ہے- اگر یہ میوٹیشن ڈی این اے کے اس حصے میں ہو جو خلیوں کی کاپیاں بنانے کے پراسیس کو کنٹرول کرتا ہے تو یہ کنٹرول میکانزم ناکارہ ہو جاتا ہے اور پھر یہ خلیے دھڑا دھڑ اپنی کاپیاں بنانے لگتے ہیں- اب یہ خلیے کوئی اور کام نہیں کر پاتے سوائے دن رات اپنی کاپیاں بنانے کے-

ان کینسر زدہ خلیوں میں وہ سسٹم بھی کام نہیں کرتا جو عام صحت مند خلیوں میں میوٹیشن کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے- اس وجہ سے کینسر زدہ خلیے نہ صرف تیزی سے تقسیم ہوتے رہتے ہیں بلکہ ان میں مزید بہت زیادہ میوٹیشنز بھی ہونے لگتی ہیں- اس وجہ سے دو تین سو دفعہ کی تقسیم کے بعد جو نئے کینسر زدہ سیل بنتے ہیں ان کا ڈی این اے پہلے کینسر زدہ خلیے سے بہت زیادہ مختلف ہو چکا ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ کینسر کے خلاف جینیاتی انجینیئرنگ کا استعمال ابھی تک کامیاب نہیں ہوا- کینسر کے خلیوں کو جینیاتی انجینیئرنگ سے ختم کرنے کے لیے اصولاً پہلے ہمیں کینسر کے خلیوں کے سیمپل لینا ہوتے ہیں، انہیں لیبارٹری میں grow کیا جاتا ہے اور ایسی دوائیں ٹیسٹ کی جاتی ہیں جن سے ان خلیوں کو مزید تقسیم سے روکا جا سکے- جب تک ہم یہ دوائیں دریافت کرتے ہیں اور اسے انسانی جسم میں کینسر زدہ خلیوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس وقت تک جسم میں موجود کینسر زدہ خلیے مسلسل میوٹیشنز کی وجہ سے اس قدر تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں کہ ان پر وہ دوائیں کام ہی نہیں کرتیں جو لیبارٹری میں کینسر کے خلیوں کو کامیابی سے ختم کرتی پائی گئی تھیں

انسانی عمر اور کینسر کا تعلق:

جیسے جیسے ہماری عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے وہسے ویسے ہمارے خلیوں میں میوٹیشنز کا امکان بڑھتا رہتا ہے اور اسی تناسب سے کینسر کا امکان بھی بڑھتا رہتا ہے- اگرچہ کینسر کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے لیکن کینسر کے زیادہ تر مریض ادھیڑ عمر کے ہوتے ہیں- اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خلیوں میں میوٹیشنز کا امکان زیادہ ہوتا جاتا ہے- اس کے علاوہ ڈھلتی عمر میں انسان کا مدافعتی نظام بھی کمزور ہونے لگتا ہے اور کینسر زدہ خلیوں کو ختم نہیں کر پاتا- چونکہ میوٹیشنز ہر عمر میں ہوتی ہیں اس لیے اصولاً کینسر زدہ خلیے ہر انسان کے جسم میں ہر وقت پیدا ہو سکتے ہیں- لیکن نوجوانی میں ہمارا مدافعتی نظام ان کینسر زدہ خلیوں کو پہچان کر انہیں فوراً تلف کر دیتا ہے-

ادھیڑ عمر میں مدافعتی نظام ان کینسر زدہ خلیوں کو پہچان نہیں پاتا اور کچھ کینسر زدہ خلیے تلف نہیں ہو پاتے- یہی خلیے تقسیم ہو کر کینسر کا ٹیومر بن جاتے ہیں- ادھیڑ عمر میں کینسر کا امکان زیادہ ہو جانے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ادھیڑ عمر میں خون کے نئے خلیے بننے کا عمل سست پڑ جاتا ہے- مثال کے طور پر اگر ہم ہڈیوں کے گودے میں موجود خلیوں کی بات کریں تو نوجوانی میں گودے میں پچاس فیصد خلیے چکنائی کے یعنی fat cells ہوتے ہیں جبکہ باقی سٹٰیم سیل ہوتے ہیں جو خون کے خلیے بناتے ہیں- اس کے علاوہ ہڈیوں کے گودے میں مدافعتی سیلز بھی بنتے ہیں جو بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہیں- ستر سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے سٹیم سیلز صرف تیس فیصد رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف خون کے نئے خلیے بننے کا عمل سست پڑ جاتا ہے بلکہ مدافعتی خلیوں کی تشکیل کا کام بھی سست پڑ جاتا ہے-

کینسر کا علاج:

کینسر کی تشخیص کی ٹیکنالوجی میں پچھلی چند دہائیوں میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے اور شناخت شدہ کینسرز میں سے 70 فیصد کا مکمل علاج ممکن ہے یعنی ان کے مریض کینسر سے پاک ہو کر نارمل زندگی گذارتے ہیں- لیکن جس چیز میں پچھلے ساٹھ ستر سالوں میں ترقی مایوس کن رہی ہے وہ کینسر کے علاج کی ٹیکنالوجی ہے- ہم آج بھی کینسر کے علاج کے لیے کیمو تھیراپی اور ریڈی ایشن تھیراپی استعمال کرتے ہیں جو آج سے ساٹھ ستر سال پہلے استعمال ہوتی تھی- یہ درست ہے کہ کیمو تھیراپی کے منفی اثرات پر ہم کسی قدر کنٹرول کر پائے ہیں لیکن بنیادی طور پر کیمو تھیراپی scorch earth پالیسی ہے یعنی دوست اور دشمن کی شناخت کیے بغیر جو نظر آئے اسے ختم کر ڈالو- کیمو تھیراپی ہر تیزی سے کاپیاں بنے خلیے کو ختم کر دتی ہے- اسی وجہ سے کیمو تھیراپی میں مریضوں کے بال گر جاتے ہیں کیونکہ بال بنانے کے follicles میں خلیے تیزی سے تقسیم ہو کر بالوں کو بڑھاتے ہیں- کیمو تھیراپی سے یہ خلیے بھی مر جاتے ہیں اور مریض کے جسم سے تمام بال ختم ہو جاتے ہیں

اگرچہ کچھ کینسر ایسے ہیں جن کے لیے نئی دوائیں ایجاد ہوئی ہیں جو بے حد موثر ثابت ہوئی ہیں- مثال کے طور پر لیوکیمیا یعنی خون کے کینسر کا علاج دواؤں سے ممکن ہو گیا ہے- لیکن ایسی مثالیں اکا دکا ہی ہیں- کینسر کی زیادہ تر اقسام کو اب بھی ریڈٰی ایشن اور کیموتھیراپی سے ہی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

کینسر کی تشخیص کی نئی ٹیکنالوجیز:

ہم کینسر کی تشخیص عموماً اس وقت کرتے ہیں جب تو سالانہ طبی معائنے کے دوران ہم مریض کے جسم میں کوئی تبدیلی نوٹ کریں، مریض کا وزن اچانک بلا کسی وجہ کے کم ہونے لگے، مریض کو جسم پر کوئی سخت ٹیومر محسوس ہونے لگے، یا پھر مریض کو کہیں مسلسل درد محسوس ہونے لگے- ان تمام صورتوں میں جب کینسر کی شناخت ہوتی ہے اس وقت تک کینسر اس حد تک بڑھ چکا ہوتا ہے کہ ٹیومر جسم کے نارمل کام کو ڈسٹرب کرنے لگتا ہے- اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور کیمو تھیراپی یا ریڈی ایشن ٹریٹمنٹ اس قدر زیادہ دینا پڑتا ہے کہ اس سے جسم کے نارمل فنکشن بھی متاثر ہونے لگتے ہیں- ضرورت اس امر کی ہے کہ کینسر کے نئے علاج دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ کینسر کی جلد سے جلد تشخیص کی ٹیکنالوجی پر کام کیا جائے- کینسر کے جلد از جلد شناخت کس طرح ممکن ہے، آئیے دیکھتے ہیں-

اب ہم جانتے ہیں کہ کینسر کے خلیے بہت سے نامیاتی مالیکیول خارج کرتے ہیں جن میں مختلف قسم کی پروٹینز اور آر این اے مالیکیول کے ٹکڑے بھی شامل ہوتے ہیں- آر این اے کے یہ ٹکڑے خون میں شامل ہو جاتے ہیں، پسینے کے ساتھ خارج ہوتے ہیں، پیشاب کے ساتھ خارج ہوتے ہیں، اور بعض اوقات سانس کے ساتھ بھی خارج ہوتے ہیں- انہیں جلد از جلد ڈیٹیکٹ کر لیا جائے تو کینسر بہت شروع کی سٹیج میں پکڑا جا سکتا ہے جب اس کا علاج آسان ہوتا ہے اور معمولی کیمو تھیراپی سے بھی یہ کینسر زدہ خلیے ختم کیے جا سکتے ہیں- اصولاً ایسے سینسرز بنائے جا سکتے ہیں جو آپ کے کپڑوں یا بستر کی چادروں میں نصب ہوں اور دن رات آپ کے جسم سے خارج ہونے والے مالیکیولز کا تجزیہ کرتے رہیں-

کینسر کے خلیے چونکہ انتہائی تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں اس لیے انہیں بے تحاشہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم میں کہیں بھی اگر کچھ کینسر سیلز تقسیم ہو رہے ہیں تو اس جگہ میٹابولزم بہت تیز ہو گا اور وہاں بہت سی توانائی صرف ہو رہی ہو گی- ہم ایسے سکینرز ایجاد کر سکتے ہیں جو چوبیس گھنٹے جسم کو سکین کرتے رہیں اور اگر کہیں بھی تونائی معمول سے زیادہ صرف ہوتی نظر آئے تو یہ سینسرز اسی وقت ڈاکٹرز کو مطلع کر دیں- اس قسم کی بہت سی ٹیکنالوجیز ایجاد ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک لیبارٹری میں ہی ٹیسٹ کی جا رہی ہیں- اگلے چند سالوں میں یہ ٹیکنالوجیز عام استعمال کے لیے تیار ہوں گی اور جونہی حکومتی ادارے ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کی اجازت دیں گے، ہمارے پاس کینسر کے خلاف ایسے ہتھیار میسر آ جائیں گے جن کے بعد کینسر کا مرض بھی اسی طرح قصہ پارینہ بن جائے گا جس طرح بیکٹیریل انفیکشن سے موت اب زیادہ تر تاریخی کتابوں میں دیکھنے کو ملتی ہے

 

اصل تحریر کا لنک