گزشتہ سے پیوستہ –   پہلی قسط  –   دوسری قسطتیسری قسطچوتھی قسطپانچویں قسط

ساری دنیا میں، ہماری قدرت کو اپنی مرضی کے تابع کرنے کی کوششوں نے تاریخ کا دھارا بار بار موڑا۔ ہمیں اس کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت تھی اور ایک دوسرے سے مقابلے اور تشدد کی مدد سے بھی۔ ہر اگلا قدم نئے مسائل کو جنم دیتا تھا۔ کاشتکاری کی وجہ سے آبادی میں اضافہ ممکن ہوا لیکن اس سے بیماریوں نے بھی ہمیں گھیر لیا۔ زیادہ بڑے معاشروں میں لیڈر اور پجاری سامنے آئے۔ یہ ناممکن لگنے والے نتائج سے بھری حیران کن کہانی ہے۔ اولین کاشتکاروں کے خون پسینے اور کامیابی سے دنیا میں چھوٹے بڑے کی تمیز پیدا ہوئی۔ جاگیر دار، پوپ اور بادشاہ پیدا ہوئے۔ عدالت اور دیگر ادارے بنے۔ اور وہ سب صرف یہی سمجھتے رہے کہ وہ اگلے سال کا دال دلیا اگانے اور سیلاب سے بچانے کی کوشش میں ہیں۔

بتیس سو سال پہلے مصر میں نیل دنیا کا سب سے لمبا دریا تھا۔ یہ جنوب سے شمال کی طرف بہتا ہے اور ہوا زیادہ تر اس کے مخالف چلتی ہے جس سے یہ ایک بہترین دو رویہ ٹرانسپورٹ سسٹم بن گیا۔ اسلئے یہ کچھ حیرت انگیز نہیں لگے گا کہ دنیا کی اولین تہذیبوں میں سے ایک یہاں شروع ہوئی۔ اسکی عبادت گاہیں، پجاری، لکھائی اور اس کے بہترین حکمران اس کی وجہ شہرت بنے۔ فرعون سمجھتے تھے کہ ان کی پتھر کی بنی، دریا کے کنارے سجی تہذیب ابد تک چلے گی۔ اصل میں یہ شہر ان ہزاروں لوگوں کی بدولت ممکن ہوئے جو یہاں فصلیں اگاتے، پتھر کاٹتے، سامان اٹھاتے اور آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے۔ ان مزدوروں کی کمر پر لاد کر یہ بڑے بڑے محل بنائے گئے لیکن آپ کو کبھی ان کی زندگیوں کے بارے میں سننے کو نہیں ملتا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیسا سوچتے تھے۔

عام مصریوں کی زندگی

ویسے بعض دفعہ آپ کو ایسی باتیں سننے کو مل بھی سکتی ہیں۔ اور ایسا ایک کمال کی ایجاد کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ہم ہزاروں سال پرانے ان عام مصریوں کی زندگیوں میں جھانک کر بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی کیسی تھی۔ اس جگہ ایک قدیم مصری قصبہ “ست ماعت” یا “سچ کا ٹھکانہ” واقع تھا۔ قریبی وادئِ ملوک میں کام کرنے والے کمہار اور ترکھان جو فرعونوں کے مقبرے بناتے تھے، اس جگہ رہتے تھے۔ بائیس ہزار سال پہلے اپنے ہاتھوں کے نشان غاروں کی دیواروں پر چھوڑنے کے بعد سے اب ہمارا جوش اور ولولہ ایک نئے لیول تک پہنچ چکا تھا۔

ست ماعت نامی قصبے میں بادشاہوں کی وادی کے مقبرے بنانے والے مزدور بستے تھے
ست ماعت نامی قصبے میں بادشاہوں کی وادی کے مقبرے بنانے والے مزدور بستے تھے

ڈائری کا ایک ورق

مصر میں لکھنے کا رواج تقریبا پانچ ہزار سال پہلے شروع ہوا۔ شروعات میں یہ طریقہ مخصوص اور ماہر لکھنے والوں تک محدود رہا ہو گا لیکن ست ماعت میں اب عام کام کاج کرنے والے بھی لکھنا سیکھنے لگے تھے۔ ایسا دنیا میں پہلی دفعہ ہوا تھا کہ عام گاؤں والے بھی خط اور پیغام بھیج سکتے تھے، قریب قریب ویسے ہی جیسے ہم میسج اور ای میل بھیجتے ہیں۔ لیکن وہ لکھنے کے لئے چونے کے پتھر کی تختیاں یا ٹوٹے برتنوں کے ٹکڑے استعمال کرتے تھے۔ ان تختیوں کو اوسٹریکا کہتے ہیں۔ اور ہمیں ان کے ڈھیروں کے ڈھیر ملے ہیں جس سے ہم ان تین ہزار سال پہلے کے لوگوں کی زندگی کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی لکھی باتیں سن کر، ایک ایسی تہذیب جو ہم سے بالکل مختلف اور عجیب محسوس ہوتی تھی، اب بہت مانوس سی لگے گی۔

اوسٹریکا پر لکھی عبارتیں ہمیں عام مصریوں کی زندگی کی جھلک دکھاتی ہیں
اوسٹریکا پر لکھی عبارتیں ہمیں عام مصریوں کی زندگی کی جھلک دکھاتی ہیں

میں نے اپنے آٹھ بچوں کو پالا پوسا اور بڑا کیا، ان کی ہر ضرورت پوری کی۔ دیکھو اب جب کہ میں بوڑھی ہو گئی ہوں تو وہ میرا خیال نہیں رکھتے۔ جنہوں نے میرے بوڑھے ہاتھ تھامے اور میرا خیال رکھا، میں انہیں اپنی چیزیں چھوڑ کر جاؤں گی، اور دوسروں کو کچھ نہیں ملے گا۔

عدالت کی کاروائی

ان تختیوں پر انسانی زندگی کے تمام پہلو ہیں – بچوں کے گھر کا کام، لمبی لمبی فہرستیں، اور بواسیر کا علاج بھی (پشت پر چار دن لگاتار مونگرے، نمک، بطخ کی چربی اور شہد کا لیپ)۔ اور ہاں، اس میں پانیب کی کہانی بھی ہے جو ایک شادی شدہ آدمی تھا جس کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں۔ وہ مزدور تھا اور دوسرے کام بھی کرتا تھا – مقبروں میں چوری۔ عدالت کے ریکارڈ میں اس کے اسکینڈل پر مقدمے کی کاروائی بھی ہے۔ پانب پورے گاؤں میں بدنام ہو چکا تھا۔ اس پر فرعون کے مقبرے میں نقب لگانے اور دفن شدہ قیمتی سامان چرانے کا الزام تھا۔ جج نے شراب پینے اور بدتہذیبی کے الزام پر بھی کاروائی کی۔ اس نے اپنے سوتیلے باپ پر حملہ کیا تھا۔ چوری، غنڈہ گردی کے ساتھ ساتھ اس پر اور بھی الزامات تھے۔ اس کے اپنے ساتھی مزدور “کینا” کی بیوی کے ساتھ تعلقات تھے۔ اور بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی۔ پانب نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے کینا کی بیٹی سے بھی معاشقہ رکھا ہوا تھا۔ یہ کہانی تو آج کے کسی ساس بہو کے ڈرامے سے ملتی جلتی ہے۔

عدالت اور قانون

یہاں جو چیز نوٹ کرنے کے قابل ہے وہ مصر کی عدالت ہے۔ ہر مصری گاؤں میں عدالت ضرور ہوتی تھی۔ یہ ابتدائی انسانی تاریخ کی ایک بڑی پیش رفت تھی۔ گاوں اور قصبوں میں عدل کی ضرورت نے قانون کو جنم دیا۔ یہ پانیب کے لئے تو حوصلہ افزا بات نہیں تھی لیکن انسانی تہذیب کے لئے بہت ضروری تھی۔ جرم اور جرم کی وجہ سے سختی سے نمٹنا ضروری تھا۔ عام مصریوں کی زندگی کچھ خاص اچھی نہیں تھی لیکن عدل بہر حال لاقانونیت سے بہتر ہے۔ ہمیں احرام مصر اور فرعونوں کے بارے میں تو پتہ ہوتا ہے لیکن دوسری بہت سی پیش رفت، جو شاید اتنی ہی اہم تھی، بھی جاری تھی۔

اور یہ صرف مصر میں نہیں ہوا۔ بحیرہ روم کے ارد گرد کئی جگہ آپ کو لکھنے پڑھنے والے لوگ ملیں گے۔ ان کی زندگیاں ضروریات زندگی کی تجارت کرتے، کچھ اچھا کھانا کھاتے، مصالحے اور سبزیاں استعمال کرتے، شراب اور دودھ پیتے گزر رہی تھیں اور اسی دوران دنیا بدل رہی تھی۔ لکھائی کی مدد سے نت نئے خیالات اور آئیڈیاز تیزی سے پھیل سکتے تھے۔ تجارت کی وجہ سے قصبے، شہر اور تہذیب تیزی سے بڑھ رھے تھے۔

 


مزید پڑھیے – پہلی قسط  –   دوسری قسطتیسری قسطچوتھی قسطپانچویں قسط

تحریر و تخلیق: بی بی سی چیف ایڈیٹر انڈریو مارز
ترجمہ: محمد بلال
انگریزی میں ویڈیو دیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

Muhammad Bilal

I am lecturer in biology at Govt. KRS College, Lahore. I did my BS in Zoology from University of the Punjab, Lahore and M.Phil in Virology from National University of Sciences and Technology, Islamabad. I am Administrator at EasyLearningHome.com and Content Creator at maktab.pk